بھارتی اداکار گوندہ میرے کبھی فیورٹ ایکٹر نہیں رہے۔ مجھے وہ کبھی ہیرو نہیں لگے۔ ان سے مجھے ہیرو والی manly feelings نہیں آتی تھیں جیسے امتبابھ بچن یا سنجے دت۔۔ حالانکہ وہ اداکار یقیناََ بہت اچھے ہیں، متھن چکرورتی کے بعد کوئی کمال کا ڈانسر تھا تو وہ گوندہ تھا۔ نیچرل ڈائیلاگ ڈلیوری کہیں سے نہ لگتا وہ اداکاری کررہے ہیں لیکن ہیرو والی لک /فیلنگز مجھے ان سے کبھی نہیں آئی۔ کامیڈی بھی وہ بڑی اعلی کرتے تھے۔
لیکن ان کو بھی وہی مسئلہ ہوا جو ہر اداکار کو بڑا اسٹار بننے پر ہو جاتا ہے۔ مغرور اور شوٹنگ پر لیٹ آنا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا وہ دھیرے دھیرے فلم انڈسٹری سے دور ہوتے گئے یا کر دیے گئے۔ ایک دن وہ بھی آیا جس ہیرو نے بائیس فلمیں سپر ہٹ دی تھیں اب گھر میں لالے پڑ گئے کہ ان کے پاس کام نہیں تھا۔
خیر وہ مشکل عرصہ بھی گزار لیا۔ ماں کے بڑے فرماں بردار اور بہن کے بچوں کا خیال رکھا جو یقیناََ بیویوں کو پسند نہیں آتا۔ گوندہ سے اس کی موجودہ بیوی سنتیا نے ایک طرح سے زبردستی عشق کی شادی کی اور آج کل اس عمر میں اس کا جینا بھی حرام کیا ہوا ہے اور ہر چینل پر بیٹھ کر اس کے عشق اور فلرٹ کی کہانیاں سنا رہی ہوتی ہے اور اسے ذلیل کررہی ہوتی ہے۔ ایک جوان بیٹا اور جوان بیٹی اپنے گھر ٹی وی پر ماں کو سکرین پر باپ کو ایکسپوز کرتے بے بسی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ماں اپنا بدلہ لے رہی ہے۔
جب آپ ایک سپر اسٹار یا مشہور بندے سے اس کے اسٹار یا امیر یا سیلبرٹی ہونے کے وجہ سے شادی کرتے ہیں تو جہاں زندگی میں آپ کو اس کی وجہ سے شہرت، نام، پیسہ اور عزت ملتی ہے وہیں بدنامی بھی ساتھ ہوتی ہے۔ بڑے اور مشہور بندے کو گرانا یا اس کا گرنا بہت فطری ہے۔ بہت کم خود کو ٹاپ پر پہنچا کر سکینڈلز سے بچ پاتے ہیں۔
ان مواقع پر بعض سمجھدار بیویاں خاوندوں سے الگ ہو کر چپ ہو جاتی ہیں کہ بچے ہرٹ نہ ہوں۔ کل کو ان کی بہویں یا داماد آنے ہیں، ہمارا گھر تو ڈسٹرب ہوا سو ہوا بچوں کے نہ ہوں۔ ایسی مائیں زیادہ ہیں اور گوندہ کی سنیتا جیسی بہت کم ہیں جو ٹی وی پر بیٹھ کر اس خاوند کو ذلیل کررہی ہے جس کی اسٹاسٹرڈم کی سب سے بڑی بینفشری وہ خود ہے۔ اس کی اپنی پہچان یہ ہے وہ گوندہ کی بیوی ہے۔
میری مردوں کے بارے جو رائے ہے وہ میرے دوست جانتے ہیں یہاں شئیر نہیں کرنا چاہتا کہ اپنی برائی کون کرتا ہے۔ لیکن کیا گوندہ امریکن صدر بل کلنٹن سے بھی زیادہ تنقید کے لائق ہے جو وائٹ ہاوس میں بیٹھ کر بیس اکیس سالہ حسینہ مونیکا کے ساتھ افئیر چلا رہا تھا؟ اس کے بعد آپ مردوں کے بارے کیا کہہ سکتے ہیں۔ لیکن آپ ہیلری کلنٹن کو دیکھ لیں اس نے کیسے اس پورے بحران سے خود کو بھی نکالا، خاوند کا ساتھ بھی نہ چھوڑا اور اسے جو ڈوز دینی تھی وہ بیڈروم میں دی (اس کی خودنوشت میں پوری تفصیل موجود ہے) لیکن پبلک اور میڈیا کے سامنے اسے ذلیل نہ کیا۔ اسے احساس تھا اگر کلنٹن کی وجہ سے وہ خاتون اول کے درجے تک پپنچی ہے تو اب اسے اس کی نیگٹو سائیڈ کو بھی برداشت کرنا ہوگا۔ اپنی بیٹی کا مستقبل بھی بچانا ہے اور وہی سمجھداری اسے وزیر خارجہ بنایا اور پھر صدر کا الیکشن لڑی اور خاوند کو بھی نہ چھوڑا۔
مجھے یاد پڑتا ہے دس سال پہلے میں نے Marco Polo سیزن دیکھا تھا جو منگول حکمران قبائلی خان پر تھا۔ ایک سین میں ملکہ اپنے خان کے حرم کی کئیرٹیکر خاتون اور دیگر خوبصورت لڑکیوں کو بلا کر ڈانٹتی ہے کہ تم سب میرے خان کی آج کل مناسب خدمت نہیں کررہے۔
وہ سب کہتی ہیں نہیں ہم تو بہت خیال رکھتی ہیں خان کا۔ آپ کو شک کیوں ہوا؟
ملکہ بولی اگر تم اس کا خیال رکھتی ہوتی تو میرا خان یوں اکھڑا اکھڑا نہ پھر رہا ہوتا نہ ہی مجھ سے بار بار الجھتا۔ اگر وہ یہاں خوش رہے گا تو میرے ساتھ بھی برتائو اچھا کرے گا۔
یہ سین دیکھ کر میں نے اپنی بیگم کو فخریہ نظروں سے دیکھا تو اس نے سکرین سے نظریں اٹھائے بغیر کہا نہ تم منگول خان ہو نہ ہی میں ملکہ۔۔ چپ کرکے سیزن دیکھو۔۔ پھر پتہ نہیں اسے کیا سوجھی ریموٹ اٹھا کر ٹی وی ہی بند کر دیا۔۔