آج اے ٹی ایم سے کچھ پیسے نکلوائے تو خود کو امیر امیر سا محسوس کیا اور ساتھ ہی سامنے کتابوں کی دکان نظر آئی تو قدم اس طرف اٹھ گئے، دکان کے باہر پرانی کتابیں اور اندر بہت جدید اور اچھی بکس موجود ہیں۔ صاف ستھری اور اچھی دکان۔ دکان میں ائرکنڈینشر بھی چل رہا ہوتا ہے۔ دکان کے باہر زبردست پرانی بکس ہیں۔ وہیں رک گیا۔
چار پانچ پرانی بکس لیں۔ اندر بل دینے گیا۔ وہ صاحب مجھے دیکھ کر بیس پچیس فیصد رعایت خود ہی کر دیتے ہیں۔ ان کی مہربانی۔
مجھے کہنے لگے یہ اس ملک پر اداسی کب تک رہے گی؟ یہ سوال تقریباََ ہر دوسرا بندہ کرتا ہے۔ آج کسی جگہ لنچ تھا تو وہاں گاڑیاں کھڑی کرنے والے دونوں میرے پرانے جاننے والے ہیں۔ کہنے لگے ہمارا خان کب باہر ائے گا۔ میں نے کہا آپ کہاں سے ہیں، بولے خیبرپختونوا سے ہیں۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ بس دو تین کی بات ہے آپ کا خان باہر ہوگا۔ پریشان نہ ہوں خان خود جیل میں مرضی سے بیٹھا ہے۔ وہ اندر سے کنڈی لگا کر بیٹھا ہے۔
یہ سن کر ان دونوں کے چہرے پر سکون ابھرا۔
خیر جب بک اسٹور کے مالک نے کہا بہت اداسی ہے، میرا موڈ پرانی کتابیں خرید کر کچھ بہتر تھا تو سوچا دو تین منٹ باتیں کر لیتے ہیں۔
میں نے کہا ویسے کس ملک کا ماحول بہت خوش اور ہمارا اداس ہے؟
کہنے لگے۔۔ ہمارے علاوہ پوری دنیا۔۔
میں نے نام لیں اس ملک کا۔
انہیں فوراََ کچھ خیال آیا بولے ایران کو چھوڑ کر۔ میں نے ہنس کر کہا شاید آپ یوکرائن کو بھول رہے ہیں، شام، لبیا، عراق، افغانستان۔۔ پورا یورپ یوکرائن جنگ کی وجہ سے ڈسٹرب ہے۔
بولے ہندوستان۔۔
میں نے کہا جو حشر وہاں ہو رہا ہے اس کا تو آپ سوچ نہیں سکتے۔ کل وہاں عدالت کے حکم پر مسجد گرائی گئی تو اس پر ایک لیڈی مسلمان صحافی نے ٹوئٹ کیا تو اسے آج پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
ان کے چہرے پر مسلسل اداسی دیکھ کر میں نے کہا آپ کو علم ہے خدا کے کس پیغمبر کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا؟ انسان ہے تو اس کے ساتھ مسائل رہیں گے۔ ہر معاشرے اور ملک کے مسائل مختلف ہیں۔ دور سے سب اچھا لگتا ہے۔
آپ خود کو دیکھ لیں اچھا بزنس ہے۔ آپ نے چار پانچ لوگوں کو نوکری دے رکھی ہے۔ ان کا گھر آپ کی وجہ سے چل رہا ہے۔ خدا کو شکر گزاری پسند ہے۔ وہی کیا کریں۔ ابھی دیکھیں میں آپ کا کتنا شکر گزار ہوں کہ آپ نے 3500 کے بل میں رعایت کرکے 2800 روپے کیا ہے۔ مجھے سات سو روپے کی رعایت کی ہے۔ آپ اداس بیٹھے ہیں جبکہ میں کتنا خوش ہو کر جا رہا ہوں کہ آپ نے مجھے سات سو روپے کی رعایت کی۔ آپ کتنے اچھے بندے ہیں۔
پہلی دفعہ ان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری اور میں پرانی بکس اٹھا کر مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔