میں نے زندگی میں دو تین ہی پولیس افسران ایسے دیکھے ہیں جو اپنے ماتحتوں کو عوام کے ساتھ غیرقانوی حرکت یا زیادتی کرنے پر وہی سزا دیتے تھے جو عوام کو ملتی تھی۔ ورنہ سب اپنے ماتحتوں کو بچاتے ہیں چاہے وہ بندے مار دیں۔
ایک سابق ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ اور دوسرے سی سی پی او لاہور مرحوم عمر شیخ ایسے تھے جنہوں نے پولیس مورال ڈائون ہونے کا چورن کبھی نہ خریدا۔
ورنہ ننانوے پوائنٹ ننانوے فیصد افسران کو اپنے عملے یا ماتحتوں کو لوگوں کو مار دینے تک کا دفاع اور بچاتے دیکھا۔ ان کے نزدیک ان کا ماتحت پھنس گیا اب اسے بچانا اس کی سروس اور زندگی کا اکیلا مقصد ہے۔ ان کے نزدیک اگر پولیس کو غلط کاموں پر سزا ملنا شروع ہوگئی تو پھر ان کا مورال ڈائون ہو جائے گا۔ پولیس افسران کا ماننا ہوتا ہے ان کے ماتحت لنکا ڈھا دیں آپ نے ان کا تحفظ کرنا ہے کیونکہ یہ اچھے باس کی نشانی ہے۔ وہ اچھا باس بننے یا کہلوانے کے جنون میں اپنی فورس کو دھیرے دھیرے کریمنل ذہن کا بنا دیتے ہیں۔
عمر شیخ اور طارق کھوسہ کا ماڈل مختلف تھا۔ وہ کہتے تھے جو قانون عوام پر پولیس غیرقانونی کام کرنے پر لاگو کرتی ہے وہی ان پولیس والوں پر بھی ہوگا۔
عمر شیخ کا ماڈل زیادہ سخت تھا۔ وہ تو پولیس والوں کو دفتر بلا کر انکوائری کرکے ہتھکڑیاں منگوا کر تھانے بند کر دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے اگر مورال ڈاون ہے اور بلند کرنا ہے تو پھر انہیں بندوقیں دے کر کہیں جا کر بنک لوٹ لو۔ مورال ہائی ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا پولیس کی پولسینگ ہوگی تو ہی عوام میں ان کی عزت ہوگی۔
طارق کھوسہ بھی اس معاملے میں سخت تھے۔ ایک دفعہ ایف ائی اے کے ایک اسٹنٹ ڈائریکٹر کو کسی بات پر گرفتار کیا گیا۔ اس کے والد نے ہر جگہ کوشش کی کوئی ایف آئی اے پر خبر کرنے کو تیار نہ ہوا۔ میرے تک پہنچے تو میں نے اپنی تفتیش کی تو وہ مجھے لڑکا بے قصور لگا۔ کچھ ساتھیوں نے حسد کی بنیاد پر اسے پھنسا دیا تھا۔
پھر میں نے ڈٹ کر اسٹوری کی جو ایف آئی اے کے خلاف تھی۔ شاید یہ 2010 کی بات تھی۔ میں اس وقت دی نیوز اسلام آباد میں رپورٹر تھا۔
مجھے ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ صاحب کا میسج آیا کہ رئوف تمہاری ایک ریپوٹیشن ہے۔ اس معاملے میں تمہاری خبر ٹھیک نہیں ہے۔ کہیں لاعلمی میں تم استعمال نہ ہو جائو۔
میں نے جوابا میسج بھیجا سر بہت شکریہ۔ لیکن میرا خیال ہے آپ کی ٹیم ہی آپ کو غلط انفارمیشن دے رہی ہے۔ آپ دوبارہ چیک کرائیں۔
لاعلمی میں آپ استعمال ہورہے ہیں میں نہیں۔
ان کا دو دن بعد میسج آیا کہ رئوف تم ٹھیک کہہ رہے تھے۔ واقعی مجھے غلط بتایا گیا تھا۔
اس ایف آئی اے کے افسر پر شدید تشدد تک کیا گیا تھا۔ طارق کھوسہ نے ضد نہیں باندھ لی تھی کہ نہیں رپورٹر کو ہر صورت غلط ثابت کرنا ہے اور اپنے کارندوں کے زریعے بدنام کرانا ہے کہ رئوف کا کوئی ذاتی انٹریسٹ ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے خلاف کاروائی کی اور اس ایف ائی اے کے اسٹنٹ ڈائریکٹر کو رہا کرایا جو بعد میں باپ کے ساتھ مجھے ملنے آیا اور کتنی دیر وہ باپ بیٹا میرے دفتر بیٹھ کر روتے رہے۔
باپ بیٹے کے شکریے کے آنسو آج بھی برسوں بعد مجھے اپنے سینے پر گرتے محسوس ہوتے ہیں۔
ان دو پولیس افسران طارق کھوسہ اور عمر شیخ مرحوم کے علاوہ جو بھی ملا اس نے اپنی پولیس فورس کو ہی مورال کے نام پر پروٹیکٹ کیا، میرے خلاف مہمیں چلوائیں اور مجھ سے یہ سوال ضرور کیا کہ آپ کا اس سلسلے میں کیا انٹریسٹ ہے۔۔ جیسے آج کل ملتان سند باد ہوٹل کے ایشو پر پوچھا جارہا ہے۔
یہ سوال میں 1993 سے سن رہا ہوں آپ کی اس معاملے میں کیا انٹریسٹ ہے۔۔ ایسی درجنوں کہانیاں ہیں جو آپ کو سنائوں گا۔
ہر دفعہ میں یہ کمنٹ سنتا ہوں اور خود ہی ہر دفعہ حیران ہو کر خود سے پوچھتا ہوں واقعی اس میں میری کیا ذاتی انٹریسٹ ہوسکتی ہے؟