کل پرسوں سے پاکستان کا سوشل میڈیا ان سوالات سے بھرا ہوا ہے کہ بھارتی جنریشن زی نے کمال کر دیا اور اپنے وزیر سے استعفی لے لیا تو پاکستانی جنریشن زی کہاں ہے۔۔ کہاں مر کھپ گئی؟ کہیں بھی کچھ ہو چاہے نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش یا بھارت تو فطری طور پر پوچھا جاتا ہے پاکستانیوں کو کیا ہوگیا ہے وہ باہر کیوں نہیں نکلتے۔ ہر ملک کے حالات و واقعات مختلف ہوتے ہیں لیکن ہم سب کو ایک ہی ڈنڈے سے ہانکنا چاہتے ہیں کہ وہاں یہ ہوا تو ہمارے ہاں کیوں نہیں۔
باقی ملکوں کو تھوڑی دیر کے لیے ایک طرف کرکے بھارت میں ہونے والے تاریخی مظاہروں پر نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ پیپر لیکس پورے ہندوستان کی مڈل کلاس کے بچوں کا مشترکہ معاملہ تھا جس میں سب کے مفادات کو ضرب لگ رہی تھی۔ وہاں ہر سال بیس لاکھ طالبعلم وہاں داخلے کا امتحان دیتے ہیں اور ان سب کے مستقبل کا سوال ہے۔ اب تک وہاں 152 پیپرز لیک ہوچکے ہیں اور بیس طالب علموں نے وہاں خودکشی کی ہے۔
ایک حد آتی ہے جب پانی ناک سے اوپر ہونے لگے تو سب ہاتھ پائوں مارتے ہیں اور پھر آپ کی مذہبی اور سیاسی ہمدردیاں اہم نہیں رہ جاتیں۔
بھارت میں پیپر لیکس مسئلہ سیاسی نہیں تھا نہ ہی اپوزیشن پارٹی کانگریس اس بات پر مظاہرہ کررہی تھی نہ اس کی سنی جارہی تھی۔ اب تک بارہ برسوں میں کانگریس کیوں وزیراعظم مودی کی پارٹی کو گھٹنوں پر نہ لاسکی تھی جو اب یہ جنریشن زی والے لائے ہیں؟
وجہ بڑی سادہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو پورے ملک کی سپورٹ نہیں ملتی جیسے پیپر لیک پر پوری مڈل کلاس بھارت میں اپنے بچوں کے مفادات کو ضرب لگتے دیکھ کر باہر نکل آئی اور اکٹھی ہوگئی۔ اس پیپر لیکس ایشو پر بھارت میں سب بچے اور ان کے والدین اپنی اپنی مذہبی اور سیاسی وفاداریوں کو ایک طرف رکھ کر نکلے ہیں جبکہ سیاسی ایشوز پر وہ سب تقسیم ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں عمران خان کی رہائی کے لیے جلسوں کو جنریشن ذی سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ سیاسی احتجاج عمران خان کے حامیوں کے لیے یقیناََ اہم ہوگا لیکن اس ایشو پر اتنے ہی ان کے مخالفین ہیں اور تقسیم ہیں۔ ان کے حامی ہیں تو ناقد بھی ہیں۔ پھر یہ پاور اسٹرگل کا کھیل سمجھا جاتا ہے کہ سب کو اقتدار چاہئے۔ نوجوان سمجھتے ہیں یہ سیاسی لوگ زرداری، نواز شریف یا عمران خان کو پاور دلانے باہر نکلتے ہیں لہذا ہمارا کیا لینا دینا۔
لیکن بھارت میں یہ طالبعلم کسی کو اقتدار دلانے نہیں نکلے تھے۔ وہ اپنے ذاتی حق کے لیے نکلے تھے لہذا سب اکھٹے تھے جس سے ہر گھر متاثر ہوتا ہے اور تو اور وزیروں کے بچے بھی احتجاج میں شریک تھے۔
ایک کروڑ پتی باپ باہر کھڑا بچوں کا انتظار کررہا تھا کہ دونوں جنتر منتر مظاہرے میں شریک تھے۔ جب تک آپ اپنے اپنے ذاتی سیاسی ایشوز کو نوجوان نسل کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے رہیں گے تو آپ کو پاکستانی جنریشن زی کہیں نہیں ملے گی۔
دو ہزار اٹھارہ سے پہلے پاکستانی نوجوان نسل عمران خان کے سیاسی نعرے کے ساتھ جڑ گئی تھی لیکن دو ڈھائی سال کے بعد ان کے وزیراعظم دور سے مایوس ہو کر وہ بیٹھ گئے۔ وہ سب ہمدردی رکھتے بھی ہیں تو باہر نہیں آتےکہ انہیں سب ایک جیسے لگتے ہیں۔
بھارت میں اس تحریک کو یہ بھی فائدہ تھا کہ ان طالب عملوں کا لیڈر نیا نوجوان تھا جسے وہ پہلے سے نہیں جانتے تھے لہذا اسے جج نہیں کرسکتے تھے کہ وہ پہلے بھی انہیں ناکام کرچکا ہے۔۔ نامعلوم نوجوان سے بہتر امیدیں تھیں۔ آزمائے ہوئے کو کوئی نہیں آزماتا۔ اچھا لگے یا برا لیکن پی ٹی آئی کی حد تک نوجوان اسے آزما چکا ہے۔
باقی پاکستان میں ہر دو تین سال کے بعد وزیراعظم بدلتے رہتے ہیں۔ ہم سب کی تبدیلی کی ٹھرک پوری ہوتی رہتی ہے جبکہ بھارت میں بارہ سال سے ایک ہی وزیراعظم ہے۔ انسانی معاشرے بھی سلگتے چولہے پر رکھے پریشر ککر کی طرح ہوتے ہیں جس میں بھاپ اکٹھی ہوتی رہتی ہے اور ایک دن بھپ کرکے پورے کچن کو اڑا دیتی ہے۔
سمجھدار خاتون خانہ اپنے کچن میں پریشر ککر کی سیٹی کی آواز میں تیزی محسوس کرکے دوڑ کر جاتی ہے اور بھاپ کو باہر نکلنے کا راستہ دیتی ہے۔۔ ہمارے ہاں پاکستان میں سیاسی بھاپ کو یہ راستہ ہر دو تین سال بعد دیا جاتا ہے۔ بھارت میں بارہ سال سے ایک ہی پریشر کک چولہے پر رکھا سلگ رہا تھا۔ ایک دن پھٹنا تو تھا ہی۔