جب بھی رات کو لمبی واک کے لیے نکلا ہوں تو کوئی نہ کوئی کہانی راستے میں میری منتظر ہوتی ہے۔ مجھے مشہور زمانہ رائٹر جیفری آرچر کی ایک بات یاد آتی ہے جو اس نے اپنی 36 شارٹ اسٹوریز کے تعارف میں لکھی تھی کہ یہ سب کہانیاں سچی ہیں۔ یہ فکشن نہیں حقیقی زندگی کی کہانیاں ہیں۔ بس اتنا میرا رول ہے کہ انہیں فکشن کا رنگ دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے جتنا سفر کیا جہاں ٹھہرے کسی کیفے پر کھانا کھایا وہاں کے سروسز دینے والے یا ویٹرز سب سے کہانیاں سنیں۔ ہر بندے کے پاس کہانی ہے میں ریکارڈ کرتا رہا۔
خیر آج رات کی سن لیں۔ وہی طویل واک کے لیے نکلا۔ تیس چالیس منٹ بعد دور سے ایک بزرگ نظر آئے ساتھ میں کالے برقعہ میں لڑکی نظر آئی۔ قریب گیا تو باریش تھے، عمر شاید پچپن ساٹھ کے پیٹے میں ہوگی۔ بچی کے حلیے سے لگا وہ پندرہ سولہ سال کی ہوگی۔ چہرہ کھلا تھا باقی کالا برقعہ تھا۔ مجھے لگا وہ شاید سپیشل چائلڈ ہے۔
خیر انہوں نے مجھے روکا اور اردو میں پوچھا لیاقت باغ جانا ہے۔
مجھے لہجے سے وہ سندھی بھائی لگے۔ لگ رہا تھا وہ کہیں سے دور پیدل چلتے آرہے تھے۔
میں کچھ حیران تو کچھ پریشان ہوا اور کہا لیاقت باغ تو بہت دور ہے۔ وہ پھر بھی پوچھنے لگے تو میں نے انہیں سمجھانے لگا کہ اگر وہ پیدل جائیں تو کیسے جائیں گے۔
لیکن مجھے پریشانی یہ تھی رات کے اس پہر انہیں میڑو بس یا ٹیکسی بھی نہیں ملے گی۔ اگرچہ میں جیب میں کچھ پیسے رکھ کر چلتا ہوں کہ شاید ضرورت پڑ جائے، لیکن یاد آیا نکلنے سے پہلے جینز اتار کر ٹروازر پہن لیا تھا۔ پیسے جینز کی جیب میں تھے۔
میں خالی جیب اور ان مسافروں نے جانا بھی بہت دور تھا کہ ٹیکسی روک کر بٹھا دیتا لیکن اس وقت بارہ ساڑھے بارہ بجے ٹیکسی بھی کہاں ملتی۔
میں نے کہا اتنی دور کیسے جائیں گے؟
بولے پیدل تو نہیں جاسکتے۔ پہلے ہی ہم بری امام سے پیدل چلتے چلتے تھک گئے ہیں۔
اس نے اپنے پائوں اوپر اٹھا کر کہا پہلے ہی پائوں تھک گئے ہیں۔
مجھے اس وقت احساس ہوا یہ باپ اپنی بچی کو بری امام یقیناََ بچی کے ساتھ زیارت کرنے، کوئی منت پوری کرنے یا دعا کرانے گئے ہوں گے۔
میں نے کہا آپ اتنی دیر وہاں سے کیوں چلے۔۔ میڑو تو دس بجے بند ہو جاتی ہے۔ اتنی رات گئے اتنی دور سے پیدل چل کر یہاں تک پہنچے ہیں۔
مجھے اس باپ بیٹی پر شدید ترس آیا۔
میں نے کہا میرا گھر یہاں سے کچھ دور ہے۔ آپ رکیں۔ یہیں بیٹھیں تو میں بھاگ کر گاڑی لے آتا ہوں، آپ کو لیاقت باغ ڈراپ کر آتا ہوں۔ آپ پیدل تو پوری رات نہیں پہنچ پائیں گے۔
وہ بولا نہ سائیں۔۔ آپ زحمت نہ کریں۔
ابھی بائیکے والے کو بلایا ہے وہ لے جائے گا۔
مجھے خوشی ہوئی کہ انہیں بائیکے کا علم تھا۔ وہ بس تسلی کرنا چاہتے تھے کہ لیاقت باغ کتنا دور ہے۔ ہوسکتا ہے وہاں کسی گائوں کے رشتہ دار کے ہاں ٹھہرے ہوں۔
پھر مجھے خیال آیا اتنی دور پیدل چلنے سے یقیناََ بھوک پیاس لگ چکی ہوگی۔ اس وقت بندہ ان کا کیا کرے۔۔
میں یہ سب سوچ کر جانے کے لیے مڑا تو پیچھے سے آواز آئی۔۔ مہربانی سائیں۔۔ بہوں مہربانی۔
ہر بندہ زندگی میں لڑ رہا ہے۔ ہر کوئی اپنے دکھوں کی پوٹلی سر پر رکھےچل رہا ہے۔ ایک تھکا ہارا باپ رات گئے اپنی بیٹی کے ساتھ پچھلے ڈیرہ دو گھنٹے سے پیدل بری امام سے لیاقت باغ پنڈی جا رہا ہے۔ اس نے جس طرح اپنے پائوں اوپر کرکے مجھے دکھائے کہ پائوں بھی تھک گئے ہیں، وہ اداس منظر میرے ساتھ ساتھ گھر تک چلتا رہا۔
مجھے پہلی دفعہ اپنے گھر تک واپسی کا پیدل راستہ بہت طویل لگا۔۔ اپنے پائوں ہی تھکے تھکے، بھاری اور بوجھل سے لگے۔۔ یوں لگا یہ یہ مختصر سا سفر شاید کبھی ختم نہ ہوگا۔