Friday, 21 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Khud Shanasi Ka Aaina

Khud Shanasi Ka Aaina

زمانہ دراز سے یہ مشاہدہ ہے کہ اقوامِ عالم کی ہلاکت و نجات کی داستانیں کبھی بیرونی حملہ آوروں سے نہیں، بلکہ داخلی فراست و بیباکی کے توازن سے رقم ہوتی ہیں۔ جب کوئی قوم اپنی صفاتِ خودی سے نابلد ہو، اپنے وسائل کے تقدیر ساز کو پہچاننے سے عاجز ہو اور عظمت کے لیے بیرونی گھر کی آس پاس جھانکنے لگے، تو پھر اُس کی رہبری یتیم ہو جاتی ہے اور ہر نئی صبح اس کے لیے حیرت و سرگردانی کا پیغام لے کر آتی ہے۔ چین و پاکستان اقتصادی راہداری کی آفتاب گیر کہانی بھی اسی روشنی میں معنی خیز ہو کر ابھرتی ہے، جہاں ظاہری شان و شوکت کے پردوں میں ایک بھیانک حقیقت چھپی ہوئی تھی، وہ حقیقت جو پاکستان کی خود فہمی کی موت کا اعلان کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوُمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمُ" (الرعد: 11)۔ یہ آیتِ کریمہ کسی بھی قوم کی فلاح کے لیے ایک بنیادی قانونِ فطرت ہے۔ مگر افسوس! ہماری قومی پالیسی سازی کے معمار بظاہر تو اس آیت کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں، مگر عمل میں بیرونی قوتوں کو اپنی فلاح کا واحد محور سمجھ کر اس الٰہی قانون سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ سندھ کے صحراؤں اور پنجاب کے میدانوں میں کوئلے پر مبنی بجلی گھروں کی تعمیر سے لے کر راشدکی اور قصور کے ادھورے صنعتی زونز تک، ہر منصوبے میں غیر معمولی سرمایہ تو خرچ ہوا، مگر زمین کی خصلت، ہواؤں کا رخ اور عوام کی معاشی نبض کا کوئی شعوری مطالعہ نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً، وہ بجلی گھر جو قوم کی ریڑھ کی ہڈی بننے چاہیے تھے، آج مہنگائی کے طوفان میں ہمارے گھروں کی چھتیں اُکھاڑ رہے ہیں۔ یہ کوئی فریبِ قدرت نہیں، بلکہ ہماری اپنی نااہلی کا شاخسانہ ہے جسے ہم مہذب انداز میں "انتظامی بحران" کا نام دے کر چین کے سپرد کر دیتے ہیں۔

غور طلب ہے کہ جب کسی ذی علم و فکر قوم سے گفتگو کی جائے، تو وہ اپنی ناکامیوں کا محاسبہ صرف اعداد و شمار کی مدد سے نہیں، بلکہ ایک فلسفیانہ گہرائی سے کرتی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بین الاقوامی سرمائے کو ایک ایسے باغ میں لے آئے جس کی زمین ہم نے خود ہی بنجر کر دی تھی۔ چینی سرمایہ کار ہمارے ہاں آیا تو اسے مہنگے بجلی گھروں، ناقص انفراسٹرکچر اور بدعنوانی کے خوشنما گلدستے کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اس نے اپنی دولت لگائی، مگر دولت کی واپسی اور منصوبوں کی تکمیل کے لیے جو ضمانتیں چاہی تھیں، وہ ہمارے ملک کے دستور اور نظامِ عدل میں موجود نہ تھیں۔ پھر اس ناکامی کا بوجھ ہم خود کیوں نہیں اٹھاتے؟ کیا یہ اُسی دماغی بے چارگی کا مظہر نہیں کہ ہم اپنے قرضوں کی واپسی کے لیے چین پر دباؤ ڈالتے ہیں، مگر اپنی مالیاتی پالیسیوں کی دلدل کو صاف کرنے کی ہمت نہیں رکھتے؟ ایک آزاد قوم وہ ہے جو اپنی موت و حیات کی ذمہ داری خود قبول کرے، نہ کہ اُسے ایک موقر دوست کے سپرد کر دے۔

ماضی قریب میں تاریخی اقوام کا مشاہدہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی بھی تمدن کی عظمت کی پہلی شرط اس کی اندرونی یکجہتی اور اخلاقی سالمیت ہے۔ اپنے ملک میں موجود گیارہ ہزار میگاواٹ سے زائد ناکارہ صلاحیت اور کوئلے کے درآمدی بھاری بوجھ کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ہم نے اپنی توانائی کی پالیسی کس طرح چند بے بنیاد اصولوں پر بنا ڈالی۔ فی یونٹ بجلی کی قیمت جب کسی یورپی معیار سے بھی زیادہ ہو جائے، تو پھر کسی بھی صنعتی انقلاب کی توقع رکھنا سراسر حماقت ہے۔ رسولِ کریم ﷺ کی اس روشن تعلیم کو کیسے بھول سکتے ہیں کہ اپنی اصلاح کے بغیر کسی دوسرے کی اصلاح ممکن نہیں۔ یہی وہ بات ہے جسے ہمارے اکثر ماہرینِ سیاست نے ایک شعری استعارہ بنا کر چین کی مذمت کے لیے استعمال کر لیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ چین نے کبھی ہماری یتیمی کا فائدہ نہیں اُٹھایا، وہ تو صرف ایک سہولت کار ہے جس نے ہماری نامکمل داستان میں اپنا حصہ ڈالا، ہم نے خود اپنے آپ کو اُس بازو کی ضرورت مند بنا دیا۔

علمِ کلام کی روایت میں ایک اہم بحث قرض اور اقتصادی مناسبت کے بارے میں ابھرتی ہے، جہاں ایک خوش فہم قوم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد ہنر، علم اور پیداواری صلاحیتوں پر رکھتی ہے، نہ کہ صرف سود اور معاونت پر۔ ہمیں چین سے زرعی آلات، نئی ٹیکنالوجی اور صنعتی مشینری لانے میں عجلت نہیں کرنی چاہیے، یہ سب چیزیں اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہماری اپنی مقامی معیشت ایک جامد جھیل بنی رہے۔ پاکستان کی زمین زرخیز ہے، مگر ہمارے ہاتھوں میں اسے پروسیس کرنے کی مہارت نہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ چین کو درآمدات کے بجائے ہماری کپاس، گندم اور کھجوروں کی پروسیسنگ میں شامل کیا جائے، تو دونوں ملکوں کا مفاد فریقین کے درمیان باہمی تعاون پر پھلے گا؟ مگر یہ سوچ بھی تبھی زندہ رہ سکتی ہے جب ہم اپنے گھر کی صفائی کریں، یعنی انتظامی بددیانتی اور سیاسی ہنگاموں کو حقیقی معنوں میں سپردِ خاک کریں۔

یوں تو پاکستانی قوم کے اندر کئی بیدار مغز افراد موجود ہیں جو سی پیک کے کھوکھلے پن کو بخوبی سمجھتے ہیں، مگر افسوس کہ ان کی آواز مقتدر حلقوں میں کبھی سماعت کے کان تک نہیں پہنچی۔ شاید اس لیے کہ ہم نے تاریخ میں دیکھا ہے کہ قوموں کی جدوجہد کا نچوڑ، ایک سوچ کا نظام ہوتا ہے اور وہ نظام جب سیاسی عناصر کی ہوس میں پگھل جاتا ہے، تو پھر کوئی بھی خارجی مدد اُس قوم کی پیشانی پر بھیک کا داغ لگا دیتی ہے۔ سی پیک اگر واقعی ہمارے لیے عظمت کا باعث بننا تھا تو اُسے پاکستان کی اندرونی تخلیقیت اور جہدِ مسلسل کا نتیجہ بننا چاہیے تھا، نہ کہ محض چند رسمی دستخطوں کا کاغذی بھوت۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ یا تو ہم چین کے ساتھ ایک ایسا نیا معاہدہ کریں جس میں اپنی موجودہ غلطیوں کا ازالہ موجود ہو، یا پھر ہم اپنی معیشت کو ایک خود ساختہ قبر میں دھکیل دیں۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے علمِ معاشیات کو قرآن و سنت کے اصولوں سے معطر کریں اور جان لیں کہ بیرونی سرمایہ کوئی مقصد نہیں، بلکہ وسیلہ ہے۔ وسیلہ اس وقت پامال ہو جاتا ہے جب ہم خود اپنی ہستی کو بے بنیاد بنا دیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے ہم نے بظاہر نظر انداز کیا، مگر تاریخ کے سخت گیر اوراق ہمیں آج پکار رہے ہیں کہ اب قافلے کا راستہ بدلنا ہوگا، ورنہ خود ساختہ جہنم ہی ہمارا مقدر ہوگی۔ قوموں کا عروج و زوال اسی لمحے طے ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو بے نیازانہ دیکھنے کی صلاحیت کھو دیں، ہماری صلاحیتِ خود فریبی تو اب حد سے بڑھ چکی ہے، ضرورت اس ادراک کی ہے کہ آئینہ جھوٹ نہیں بولتا، بولتا ہے تو صرف وہی جو ہمارے چہرے کی شکنیں بیان کرتا ہے۔