Friday, 21 August 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Khalid Mahmood Faisal
  4. Mufti e Azam Ke Fatwa Ka Intizar Hai

Mufti e Azam Ke Fatwa Ka Intizar Hai

نہیں معلوم کہ مفتی اعظم عوامی مشکلات سے آگاہ بھی ہیں یا نہیں لیکن گمان غالب ہے کہ آج کی گلوبل ولیج میں وہ کس طرح ملکی حالات سے لا تعلق رہ سکتے ہیں، ان کے علم میں یقیناََ ہوگا کہ اس ملک کی قریباً45 فیصد آبادی خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، بین السطور اس کا مطلب یہ ہوا، سماج کی اس کلاس کی رسائی بنیادی ضروریات تک نہیں ہے، وہ صرف دو وقت کی روٹی کھا کرسوجانے والوں میں سے ہے، نہ تو انہیں کسی تفریح سے کوئی غرض ہے، نہ ہی ہوٹلنگ ان کے بچوں کا مقدر ہے، کسی بڑی سواری اور جہاز کا سفر ان کے نصیب میں کہاں، مفتی جی یہ بھی بخوبی جانتے ہونگے، قریباً14کروڑ آبادی غذائی قلت کا شکار ہے، پھل کھانا، دودھ پینا اور انڈہ ناشتے کا حصہ ہونا ان کا خواب تو ہو سکتا ہے، مگر حقیت نہیں۔

ریاست کے ہر صوبہ میں لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں، انصاف کی فراہمی کا معاملہ آپ سے بہتر کون جانتا ہے، جب پارلیمنٹ کے اراکین یہ اعتراف کرتے ہوں کہ بغیر رشوت دیئے کوئی سرکاری کام ہونا ممکن نہیں، اعلی افسر شاہی، عدلیہ اور عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے، غربت کی وجہ سے ایک گھر اور مکان میں اوسطاً10 سے12افراد رہنے پر مجبور ہیں، ان خاندانوں کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی، آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں، سودی نظام روا رکھا جارہا ہے، تھانوں میں خواتین کو تشدد کرکے ہلاک کرنے کی شکایات ہیں، ملک کی اقلیت کے پاس وسیع تر قومی وسائل ہیں، بے روزگاری نے نوجوانان کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔

جاگیر داری، سرداری، وڈیرہ شاہی اور گدی نشینی کا مربوط نظام قومی مسائل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ایسی ریاست جس میں اللہ تعالیٰ نے تمام تر نعمتیں عطا کی ہوں، اس میں عوام الناس کی حالت زار خود ایک سوالیہ نشان ہے۔

سیرت معلمﷺ انسانیت کے مصنف ڈاکٹر طارق سلیم رقم کرتے ہیں۔ عرب کا وہ معاشرہ جسے "دورہ جاہلیت" سے تعبیر کیا جاتا ہے، وہ علم سے محروم نہیں تھا، بلکہ ہدایت سے دوری تھی، جھوٹ، سود، شراب نوشی، قمار بازاری۔ ظلم طبقاتی تفاوت، اخلاقی بے راہ روی عام تھی، طاقتور کمزور کو دبا لیتا، حق صرف اس کا مانا جاتا جس کے پاس قوت ہوتی، کیا یہ سب کچھ ہمارے سماج میں نہیں ہورہا ہے؟

نبی مہربانﷺ جب معبوث ہوئے تو آپﷺ نے دلوں سے خوف، نفرت، جہالت، تعصب کے بت گرا دیئے، انسان کو رب سے جوڑا، عورت کو عزت دی، غلام کو وقار بخشا، یتیم کو سہارا دیا، عدل کو قوت پر اور تقوی کو نسب پر برتری دی، ایسی تہذب کی بنیاد رکھی کہ جس کی روشنی سے کڑوروں لوگ آج بھی مستفید ہو رہے ہیں، آپ ﷺ کے عہد بنوی میں دنیا کی دو بڑی طاقتیں سلطنت فارس اور روم اپنے اپنے علاقہ جات پر حکمران مگر باہمی رقابت کی وجہ اخلاقی قوانین سے عاری تھیں۔ عرب کا خطہ انکی براہ راست گرفت سے باہر تھا۔ مگر آپﷺ نے اسلامی ریاست قائم کرکے آنے والے تمام مسلم حکمرانوں کے لئے وہ راہنماء اصول مرتب کئے، جو قیصرو کسریٰ کی ریاستوں سے بالکل مختلف تھے، اس میں انسانیت کی بھلائی ہی بھلائی تھی۔

علماء کرام کو انبیاء کا وارث کہا جاتا ہے، کیا انکے فرائض میں نہیں ہے، کہ وہ عوام کی اس بے بسی پر اپنا تعمیری کردار ادا کریں؟ کہا جاتا ہے کہ جنوری1951 میں سید سلیمان ندویؒ کی صدارت میں تین روزہ جو اجتماع کراچی میں منعقد ہوا، اس میں 31علماء کرام نے22 دستوری نقاط متفقہ طور پر منظور کئے، ایک نقطہ یہ تھا کہ مملکت بلا امتیاز رنگ ونسل، مذہب عوام الناس کی بنیادی ضرویات، یعنی غذا، لباس۔

مسکن، علاج معالجہ، تعلیم کی کفیل ہوگی، خواہ اکتساب رزق کے قابل نہ ہو، یا نہ رہے یا عارضی بے روزگار ہو جائے، حدود قانون کے اندر تحفظ جان و مال آبرو مملکت کی ذمہ داری ہوگی۔

اسی قبیل کی کاوشوں سے بعد ازاں آئین پاکستان میں وہ تمام حقوق شامل کر وادیئے، جنہیں بنیادی حقوق مانا جاتا ہے، اگر آئین میں درج حقوق عوام الناس کو نہیں مل رہے، تو کیا مفتی اعظم کے فرائض منصبی میں شامل نہیں کہ وہ ارباب اختیار کو اس بابت متوجہ کریں، اگرچہ ان کے پاس انتظامی اختیار نہیں۔

ہماری پارلیمنٹ میں ایسا کوئی عہد نہیں تھا، جب علماء کرام اس کا حصہ نہ رہے ہوں، دیگر کی طرح یہ مراعات نہ لیتے رہے ہوں، انکی کارکردگی کا اگر تقابلی جائزہ لیں تو مسٹر اور ملاء میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا یہی تلخ اور زمینی حقائق ہیں۔

محترم مولانامفتی منیب فرماتے ہیں کہ اس سرزمین پر ایسی دینی جماعتیں بھی ہیں لاکھوں افراد انکے اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں، ان کو اس لئے قبول کیا گیا کہ وہ نظام کو کچھ نہیں کہتے ظالم کو ظالم نہیں کہتے، قاتل کو قاتل نہیں کہتے، لٹیرے کو لٹیرا نہیں کہتے، لوگوں کے حقوق غصب کرنے والوں کو غاصب نہیں کہتے، نماز کی دعوت دینا تو بہت آسان کام ہے لیکن وقت کے ظالم کو ظالم کہنا، قاتل کے ہاتھ روکنا مشکل ترین کام تو یہی ہے۔ جابر اور ظالم کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کو افضل جہادکہا جاتا ہے، اب تو جرائم پیشہ لوگوں نے جنت کے حصول کا آسان راستہ اپناتے ہوئے آخری دعا میں شرکت کرنے کو کافی سمجھ لیا ہے۔

اقبالؒ نے فرمایا تھا۔

رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد

انبیاء کرام نے ساری حیاتی لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنے میں صرف کی ہے، جس ریاست میں 98فیصد سے زائد مسلمان ہوں، اخلاقی اعتبار سے وہ عالم میں پچھلی صفوں میں ہو، تو علماء کرام کو اپنے اعمال کا جائزہ نہیں لینا چاہیے، روایت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پہلی نماز عید میں بانی پاکستان نے بھی شرکت کرنا تھی، وہ تاخیر سے پہنچے، اگرچہ انہیں نماز کا وقت بتا دیا گیا، حکام کے کہنے کے باوجود امام صاحب مولانا ظہور الحسن نے بانی پاکستان کا انتظار کرنے سے انکار کر دیا، قائد اعظم پہنچے انتظامیہ نے انہیں اگلی صف میں پروٹوکول کے تحت لے جانا چاہا تو قائد نے انکار کیا اور پچھلی صف میں نماز ادا کی، انہوں نے اانتظار نہ کرنے پر مولانا کی تحسین کی اور کہا علماء کو ایسے ہی کردار کا حامل ہونا چاہئے۔ ہم منتظر ہیں کہ کب مفتی اعظم ارباب اختیار کی بد انتظامیوں اور شاہ خرچیوں اور عوام الناس کی بے بسی پر فتویٰ جاری کریں، شریعت کورٹ کب، معاشی، سماجی اور قانونی نا انصافی کا نوٹس لے گی، بانی پاکستان جیسے زیرک حکمران اور مولانا ظہورالحسن، ارباب اختیار کی خوشامد سے مبرا ایسے علماء کرام کب ہمارا مقدر ہوں گے۔