Friday, 31 July 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Khalid Mahmood Faisal
  4. Gen Z Aur Bano Qabil Project

Gen Z Aur Bano Qabil Project

ہفتہ رفتہ میں جین زی کی بڑی دھوم رہی، نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش کے بعد ہندوہستان میں بھی نوجوانان نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، کہیں اقتدار میں تبدیلی رونماء ہوئی تو کہیں وزیر کو وزارت سے الگ ہونا پڑا، اس نسل کا احتجاج کہیں پر تشدد رہا تو کہیں پر امن تھا، لیکن سب میں مشترک قدر ان کا اعتماد تھا، نئی نویلی" ڈیجیٹل مخلوق " کو طاقت سے اب دبایا نہیں جا سکتا، یہ سیاسی شعور ہی نہیں رکھتی بلکہ عصر حاضر کے علوم سے بھی واقف ہے، اپنے خلاف کسی بھی قسم کی ناانصافی کو نا پسند کرتی، فرسودہ اور مفاہمتی سیاست سے بھی نالاں ہے، جو صرف اشرافیہ ہی کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ہندوہستان میں بغیر کسی مستند سیاسی قیادت کے نوجوانان نے مودی سرکار کو جھکنے پر مجبور کر دیا، وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ان ایشوز پر بات کی جو تعلیم اور امتحانی نظام، ناانصافی سے متعلق تھے، ہر چند انکی حمایت اپوزیشن جماعتوں اور معروف سماجی شخصیات نے بھی کی، مگر وہ کسی کے آلہ کار نہیں بنے، انہوں گودی میڈیا کے اس الزام کو بھی رد کر دیا کہ وہ ہمسایہ ملک کی ایماء کر تحریک بپا کئے ہوئے ہیں، شکل و شباہت سے وہ عام طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات تھے، ان کا انداز گفتگو بھی سلجھا ہوا تھا، اس کی وساطت سے انہوں نے مودی سرکار کے امتیازی سلوک کو بھی اجاگر کیا جو مسلم طلباء و طالبات سے روا رکھا جاتا ہے، دیس میں ہر قسم کی مذہبی منافرت کو ناپسند ہی نہیں بلکہ برملا اظہار بھی کیا، اپنے حقوق اور روزگار کی فراہمی کی بات کی۔

اسی تناظر یہ سوال بھی پیدا ہوا کیا پاکستان کی جین زی بھی اپنے حقوق کے لئے بیدار ہوگی، اس کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا بھی ہے، بے روزگاری، میرٹ کی پامالی، پرچہ جات کا آوٹ ہونا، مہنگی تعلیم وغیرہ، سوشل میڈیا پر مختلف آراء کا اظہار کیا گیا، کہیں سیاسی دباؤ کی بات ہوئی، تو کسی نے کہا ہماری یوتھ غیر منظم اورمختلف شخصیات کی محبت میں بٹی ہوئی ہے، کچھ کا خیال تھا نسل نو مایوسی کا شکار ہے۔

ماضی میں ہم اگر جھانکیں تو یہ نسل نو ہی تھی جس نے تحریک پاکستان میں آزادی کے لئے کلیدی کردار ادا کیا، جنرل ایوب کے خلاف مزاحمتی تحریک میں ہراول دستہ تھی، سیاسی اعتبار سے تحریک نظام مصطفی میں بھی نوجوانان قوم نے جبر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔

بعد ازاں مقتدر طبقہ نے دانستہ ا س طبقہ کو خانوں میں بانٹ دیا، کہیں سیاسی اور کہیں مذہبی منافرت کی نذر کر دیا، طلباء تنظیموں پر پا بندی عائد کردی اور سیاسی شعور کا خاتمہ اور مکالمہ کاراستہ بند کردیا۔

اس سکوت کو کپتان کی سیاسی صدا نے توڑا، نسل نو نے دیوانہ وار اسکی آواز پر لبیک کہا، اس کو مسند اقتدار تک پہنچایا، مگر اس راستہ میں سانحہ نو مئی ڈروانا خواب ثا بت ہوا، جس نے نسل نو نہ صرف مایوس کیا بلکہ اسکی روح کو زخمی کر دیا، بہت سے نوجوان تاحال زندان میں نئی صبح کی اُمید پر زندہ ہیں۔

کاش! یہ نہ ہوتا، انہیں پر امن رکھا جاتا، ہندوہستانی جین زی کی طرح صرف اپنے مطالبات تک محدود رہتے، کسی فرد یا ادارہ کے خلاف استعمال نہ کیا جاتا، تو آج کا جمہوری اور سیاسی منظر نامہ یکسر مختلف ہوتا، جنوبی ایشیاء میں ہماری جین زی کو بھی شہرت ملتی، یہ وہ سنگین سیاسی حماقت تھی، جس کی بدولت جین زی تاحال سیاسی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔

ہمارا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں غالب آبادی نوجوانان پر مشتمل ہے، لیکن بحران صرف بے روزگاری کا نہیں، ریاست پر عدم اعتماد اور مستقبل کے لئے اُمید کا فقدان کا بھی ہے، ایسے طبقہ کی اگر سر پرستی نہ کی جائے، جو بے یقینی اور محرومیوں کا شکارہو، تو سماج کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہونے کا قوی امکان ہوتا ہے۔

جین زی کی مایوسی کو دیکھتے ہوئے، اس کے سر پر دست شفقت رکھنے والی ہستی اسکی محسن ہے، اس شخصیت نے عصر حاضر کے مطابق آئی ٹی کا ایسا شاندار پراجیکٹ شہر کراچی سے شروع کیا، جو اس وقت قومی ماڈل بن چکا ہے، تمام صوبہ جات بشمول کشمیر میں اس پروگرام کو خاصی پذیرائی ملی ہے، یہ جماعت اسلامی کا معروف پراجیکٹ " بنو قابل" ہے، اس کے روح رواں امیر جماعت اسلامی محترم حافظ نعیم الرحمان ہیں، الخدمت فاونڈیشن پاکستان کے پلیٹ فارم سے طلباء و طالبات کو کمپیوٹر کورسز کی عملی فری تربیت دی جاتی ہے، 2024سے2030 کے روڈ میپ کے مطابق 10 لاکھ نوجوانان کو تربیت دینا اور خود کار روزگار فراہم کرنا ہدف ہے، اب تلک87ہزار سے زائد نوجوان تربیت لے چکے، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی2023 کی رپورٹ کے مطابق بنو قابل پروگرام میں شریک نوجوانان کی روزگار کی شرح67فیصد جو قومی اوسط سے28فیصد زیادہ ہے۔

بنو قابل پراجیکٹ کا خاصہ یہ ہے کہ جین زی کو صرف ڈیجیٹل مہارت ہی نہیں سکھائی جاتی، بلکہ انکی فکری، اخلاقی تربیت بھی کی جاتی ہے، دیانت داری، وقت کی پابندی، نظم وضبط، اجتماعی ذمہ داری کے ذریعہ بامقصد زندگی، خدمت خلق کا شعور پیدا کیا جاتا ہے، تربیتی مجالس میں یہ احساس بھی جین زی کو دلایا جاتا ہے کہ یہ ہنر محض کمائی کا ذریعہ نہیں ہے یہ ملک وقوم کی امانت بھی ہے، سید مودودیؒ نے فرمایا " انسان کی اصل قدر اسکی صلاحیت میں نہیں بلکہ اس مقصد میں ہے جس کے لئے وہ اپنی صلاحیت استعمال کرتا ہے" بنو قابل پراجیکٹ اس قول کا مصداق ہے۔

محتاط اندازے کے مطابق 35 فیصدخواتین اس پروگرام سے منسلک ہیں، اس پراجیکٹ نے انہیں عالمی مارکیٹ سے روابط میں آسانی فراہم کی ہے اور تربیت یافتہ نوجوانان کے گھروں کی ماہانہ آمدنی میں 40 سے 60 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان کی نسل نو میں مقبولیت وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے محض پرکشش نعرہ بازی کے پیچھے لگانے کی بجائے جین زی کو معاشی میدان میں عملی طور خود مختیار بنانے کے لئے جدت سے مزین پراجیکٹ متعارف کروایا ہے، اس طبقہ کے لئے وہ آئی ٹی یونیورسٹی بنانے کا مصم ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ خطہ کی جین زی کو ہر اعتبار سے قابل فخر بنا کر وہ اعتماد دیا جائے کہ پورا سماج اس پر نازاں ہو، دیگر قائدین سے جووصف ان کا طرہ امتیاز ہے وہ ذاتی کی بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینا اور نسل نو کی بے لوث سر پرستی کرنا ہے، نسل نو خالی نعروں کی بجائے پالیسیوں سے متاثر ہو اسی سمت اپنی فکر کو غالب کرے۔