Friday, 18 September 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Khalid Mahmood Faisal
  4. Taliban Islam Ka Tareek Chehra

Taliban Islam Ka Tareek Chehra

کہا جاتا ہے کہ یہودیت میں اُس خاتون کو جسے زچگی کے مراحل سے گزرنا ہوتا ہے، اس کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، زچہ عورت کو مذہبی اقدار اور رسومات کی ادائیگی میں چھوٹ دی جاتی ہے، روزے اور عبادت میں رعایت دی جاتی ہے، ہفتہ وار مقدس دن (سبت) کو معطل کیا جاتا ہے، روایتی تعلیمات میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ گھر کا ماحول صلح اور سکون کا ہو، تاکہ زچہ اس سے متاثر نہ ہو اس کو ہر طرح سے ذہنی سکون میسر ہو، اس کو ہر طرح کے دباؤ سے آزاد رکھا جائے غصہ اورجھگڑے سے پرہیز کرنے کی ذمہ داری شوہر پر عائد ہوگی۔

مذکورہ خاتون کے آرام و سکون کے خیال کے ساتھ اسکی خوراک کا بھی خاص اہتمام کیا جاتا ہے، اس حالت میں والدین کی طرف سے دعاؤں کاسلسلہ دراز کر دیا جاتا ہے، ان کے مذہب کے مطابق سبت کے روز صدقہ دیا جاتا ہے، ایسی چیزوں اور مناظر سے بچنے کی تلقین اور پوری کوشش کی جاتی ہے، جس سے منفی اثرات بچے پر مرتب ہونے کا امکان ہو، اس حالت میں فروٹ کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے، زچہ بطور خاص ریاضی مضمون کے مطالعہ کو اپنا معمول بناتی ہے تاکہ اس کے اثرات متوقع بچے کی ذہانت پر عیاں ہوں۔ ، یہودی قانون میں زچہ اور بچہ کی جان کوخطرہ میں ہونے کے متراد ف سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیل بطور ریاست ایسی خواتین کو ملازمت کا تحفظ فراہم کرتی ہے، طبی معائنہ کے لئے چھٹی تنخواہ کے ساتھ دی جاتی ہے، زچہ کو بیڈ ریسٹ الاونس دیا جاتا ہے، بچے کی پیدائش پر مالی گرانٹ دی جاتی ہے، ہسپتال کے اخراجات معاف کر دیئے جاتے ہیں، موبائیل ہیلتھ یونٹس زچہ بچہ کے گھر طبی دیکھ بھال کی سہولت فراہم کرتے ہیں، رخصت زچگی تنخواہ کے ساتھ دی جاتی ہے، پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین بھی اس سے مستفید ہوتی ہیں۔

مغربی معاشرہ میں ایسی خواتین جن کو زچگی کے مراحل سے گزرنا ہوتا ہے، وہاں کی ریاستیں جویورپ، شمالی امریکہ، آسٹریلیا وغیر پر مشتمل ہیں، ایسی خواتین کو طبی، مالی، سماجی، قانونی سہولیات فراہم کرتی ہیں، یہ تمام تر سہولیات مفت یا رعایتی ہوتی ہیں، عمومی طور ہیلتھ انشورنس کی وساطت سے دی جاتی ہیں، ان میں قابل ذکرملازمت کا تحفظ، والد اور والدہ کو بامعاوضہ چھٹی، بچے کی پیدائش کے بعدوالدین کو ماہانہ یا ہفتہ واو مالی امداد ملتی ہے، مفت دودھ اور پھل، غذائی اشیاء کے کوپن دیئے جاتے ہیں، یہ سہولت امریکہ کے وائی آئی سی پروگرام کے تحت ملتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ اور پارکنگ میں ترجیح، کام کرنے کے لچکدار اوقات کار وغیرہ۔

ارض وطن میں جس کی آبادی کا قریباً 40 فیصد حصہ خط غربت کے نیچے ہے، وہاں مذکورہ بالا سہولیات کا تصور تو محال ہے، تاہم سرکاری ہسپتالوں میں زچہ بچہ کو علاج معالجہ کی کچھ سہولیات بلا معاوضہ دی جاتی ہیں، کچھ عالمی پروگرام کے تحت دی جانے والی سہولیات ہیں، جن میں آگاہی اور آغوش پروگرام شامل ہیں، جو خواتین سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں ملازمت کرتی ہیں، انہیں زچگی رخصت بمعہ تنخواہ کی صورت میں دی جاتی ہے، انہیں ملازمت کا تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے، مگر پرائیویٹ سیکٹر میں یہ صورت حال مثالی نہیں ہے، سماج کے بااثرافراد ہسپتالوں میں کچھ سہولیات اپنی طاقت کے بل بوتے پر حاصل کرتے ہیں جبکہ امراء پرائیویٹ سیکٹر کا رخ کرتے ہیں، بعض غریب لوگ ٹرسٹ کے ہسپتالوں سے مستفید ہوتے ہیں، صحت کارڈ کے توسط سے نامزد ہسپتالوں میں مفت طبی سہولت دی جاتی ہے، جبکہ قبائلی علاقہ جات میں ایسی خواتین کے لئے سرکار کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات ناپید ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہاں نومولود بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔

کافر سمجھے جانے والے مغربی ممالک کی نسبت خود ساختہ اسلامی مملکت افغانستان میں حاملہ خواتین کو فراہم کی جانے والی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، طبی عملہ تک حاملہ خواتین کو رسائی حاصل نہیں ہے، ماہر لیڈی ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبہ قندھار میں صرف تین لیڈی ڈاکٹرز ہیں، یہی معاملہ ہلمند، زابل اور ازردگان صوبہ جات کا ہے، جہاں ایک بھی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے، دور دراز علاقہ جات میں صورت حال اس سے بھی سنگین ہے، اسکی وجہ سے حاملہ خواتین کی صحت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں، بڑی وجہ ریاست میں ماہر طبی عملہ، ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف کی شدید ترین کمی ہے، کیونکہ طالبان سرکار نے خواتین کی تعلیم پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، ماہر لیڈی ڈاکٹر ملک چھوڑ کر جارہی ہیں یا منظر سے غائب ہیں کیونکہ جس طرح کی پابندیاں خواتین پر لگائی جارہی ہیں، ان کا زندگی گزارنا محال ہوگیا ہے، اب حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ بیمار اشخاص بالخصوص مذکورہ خواتین کو پشاور کے ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات کے لئے ضابطوں میں نرمی کی جائے۔

ایک تقابلی جائزہ سے نمایاں ہے کہ امارات اسلامی خواتین کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں کس مقام پر ہیں، جامعہ زکریا ملتان شعبہ اسلامک اسٹیڈیزکے سابق چیرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس لودھی نے ایک مقالہ بعنوان"خواتین کی تعلیم و ترقی"اسوہ رسول ﷺ اور تعامل امت کے تناظر میں تقابلی جائزہ کے طور پر رقم کیا ہے، تاریخ اسلام کی نامورخواتین کا تذکرہ اسی میں ہے، ام عیسی اور لبانہ لباس حرب بنانے کی ماہر تھیں مسلم عیسائی معرکوں میں اسلامی فوج کے ساتھ جاتی تھیں، فاطمہ بنت الاقرع نہایت خوشنویس تھی ان کے تلامذہ کی کثیر تعداد تھی، ام الحسن بنت قاضی ابو جعفر، حفیظ بن زہر کی بہن اور بیٹی ماہر طبیب تھیں، حضرت حفصہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت ام سلمہؓ عہد رسالتﷺ کی تعلیم یافتہ خواتین تھیں۔

شادی کے بعد حضرت شفا بنت عبداللہ کو آپ ﷺ نے حضرت حفصہؓ کی تعلیم کے لئے مقرر فرمایا، غزوہ خیبر میں امیہ بنت قیس الغفاریہ نے چھ خواتین کے ہمراہ زخمیوں کی مرہم پٹی کی، جنگ یر موک میں مسلم خواتین خصوصا جویریہ بنت سفیان، ہند بنت عقبہ کی بہادری کے واقعات ملتے ہیں۔ شفا بنت عبداللہ العودیہ کو حضرت عمرؓ نے مدینہ کے بازار کا نگران مقرر کیا وہ عہد بنویﷺمیں بھی یہی کام کرتی تھیں۔

مذکورہ پروفیسر صاحب نے درس قرآن کی نشست میں بتایا کہ حصول علم سے متعلق کم وبیش 700 آیات 2000 احادیث ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان اقوام اور افراد کے درجات کی بلندی کا وعدہ کیا جو علم کے ذریعہ انسانی خدمت کریں، ان کا تعلق خواہ کسی بھی قوم اور مذہب سے ہو، صنف کی بھی کوئی تخصیص نہیں، بدقسمتی ہے کہ55اسلامی ریاستوں میں کوئی مملکت بھی عملاً اسلامی اور فلاحی ریاست نہ بن سکی، جس کے سامنے بہترین ماڈل" ریاست مدینہ" ہو، افغانستان جس نے نام نہاد اسلامی امارات کا لبادہ اورڑھ رکھا ہے اس پر مسلط طالبان نے خواتین کی تعلیم پر پابندی، حاملہ خواتین کو بے بسی کی حالت میں چھوڑنے اور عوام کے بنیادی حقوق سے انحراف کرکے انکی حیاتی اجیرن کرکے اسلام کے روشن خیال چہرہ کو تاریک کر دیا۔