روایت ہے کہ سردار عبدالرب نشتر گورنر ہاوس پنجاب میں اپنی فیملی کے ساتھ موجود تھے، ان کے بیٹے گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے، اپنی سائیکل پر کالج جایا کرتے، گورنر کے فرزند ارجمند ہونے کی بدولت انہیں کسی قسم کا استثناء حاصل نہیں تھا، اُس صبح تیز بارش ہوئی، اپنے والد گرامی کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بارش ہے لہذا سرکاری ڈرائیور کو کہا جائے، انہیں گاڑی پر کالج چھوڑ آئے، گورنر صاحب نے سنتے ہی سرے سے انکار کر دیاکہا یہ گاڑی انکی ذاتی ملکیت نہیں، صرف سرکاری کاموں کے لئے استعمال ہو سکتی ہے، کالج جانا آپ کا ذاتی معاملہ ہے، تانگے پر سوار ہو کر کالج چلے جاؤ، بیٹوں نے انکے حکم کی تعمیل کی، یہ تھا وہ سنہری عہدسرکاری سطح پر جواب دہی کا احساس گورنر صاحب میں بھی موجود تھا، جب وہ حد درجہ محتاط ہوں تو پھر خیانت کیسے ممکن تھی، اس دور میں گورنر، افسر شاہی اور سرکاری ملازمین کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہوتے، یہی معاملہ ہسپتالوں کا بھی تھا، قریباً تمام وزراء کرام کا علاج سرکاری ہسپتالوں ہی میں ہوتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ 60کی دہائی میں نور خاں تعلیمی پالیسی کی منظوری کے بعد اس کا نفاذ ہوا، سائنس، ٹیکنالوجی اور آرٹس گروپوں کے لئے الگ الگ سکول ملک بھر میں بنائے گئے، تعلیمی حلقوں نے تعلیمی پالیسی کو سراہا، اس کے تحت کمپری ہنسو، پائلٹ اور ماڈل سکولز طلباء و طالبات کے لئے بنائے گئے، عام شہری سے لے کر افسر شاہی کے بچے ان تعلیمی اداروں میں پڑھے، بعد ازا ں بھٹو نے تمام تعلیمی اداروں کو قومی ملکیت میں لے کر اس پالیسی کی جگہ1972 کی تعلیمی نافذ کر دی، بغیر منصوبہ بندی جس طرح قومی صنعت کو نیشلائزڈ کر دیا یہی سلوک شعبہ تعلیم سے بھی ہوا۔ کرسچن برادری کے مشنری سکول بھی قومی تحویل میں لئے گئے۔
جب جنرل ضیاء برسراقتدار آئے تو انہوں نے غیر ممالک سے آنے والے افراد کی خواہش پر انگریزی تعلیم کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دے دی، یوں پرائیویٹ سیکٹر میں بادیشی زبان میں ادارے قائم ہوئے، ان کا حشر ہم سب کے سامنے ہے۔
اسلام آباد کے ہسپتال (پمز) میں 14 نومولود کی ہلاکت کے سانحہ پر معروف سینیٹر نے کہا کہ فوجی ہسپتالوں میں سپاہی سے کر جنرل تک کا علاج سی ایم ایچ میں ہوتا ہے وہاں نرسری میں آگ لگنے کے واقعات نہیں ہوتے، انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ قانون سازی جائے کہ ہر سرکاری فرد کا علاج سرکاری ہسپتال سے ہو، ہر سرکاری ملازم کا بچہ سرکاری تعلیمی ادارہ سے تعلیم حاصل کرے، پھر یہ نظام ازخود ٹھیک ہو جائے گا، انہیں کون بتائے کہ جس حکومتی پارٹی نے آپ کو پارلیمنٹ میں سینیٹر بنوانا ہے، اس نے ہی نوئے کی دہائی میں Hospital Autonomy policy کی منظوری دے کرپرائیویٹ ہسپتالوں کے کاروبارکو عروج بام تک پہنچایا ہے۔
80 کی دہائی میں سابق وزیر اعظم جونیجو نے پانچ نکاتی پروگرام کے تحت تعلیم اور صحت کے میدان میں انقلابی اقدامات اٹھائے، دیہی علاقہ جات میں ہائر سیکنڈری سکولز اور بنیادی مراکز صحت قائم کئے، سٹاف کے لئے مکانات تعمیر ہوئے، تاکہ دیہی آبادی کو ہروقت ڈاکٹر، لیڈی ڈاکٹر، پیرا میڈیکل سٹاف میسر ہو، مگر پرائیویٹ کے سیکٹر کے آغاز نے اس سکیم کو ناکام بنا دیا، ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرزصرف دن کے اوقات میں ڈیوٹی پر حاضر ہوتے، رات کو وہ شہر میں پرائیویٹ ہسپتال میں جاب کرتے، قوم کا بھاری بھر سرمایہ جو اس شاندار سکیم پر لگا وہ اس لاپرواہی کی وجہ سے ضائع ہوگیا۔
جہاں تک فوجی ہسپتالوں کا تعلق ہے، تو دوران سروس کسی فوجی ڈاکٹر کو یہ اجازت نہیں کہ وہ پرائیویٹ ہسپتال بنا سکے یا CMH کے کسی مریض کو اپنے دوست کے ہسپتال میں ریفر کر دے، یہ سعادت صرف ہمارے سرکاری ڈاکٹرز کو حصہ بقدر جثہ ملی ہے۔ ایسا نہیں کہ فوجی ہسپتالوں کے ڈاکٹرز کو پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت نہیں، دوپہر سے شام تک وہ عام مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں مگر انکی فیس ٹسٹ وغیرہ کسی ضابطہ کے تحت ہیں، جبکہ سول سیکٹر میں ہر ڈاکٹر کی اپنی فیس ہے، لیبارٹری ٹسٹ کی تو کوئی حد اورچیک اینڈ بیلنس نہیں۔
پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج معالجہ کے اخراجات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، دوسرا منفی پہلو یہ ہے، وہ ایمرجنسی کیس جیسے کرونا کے مریض، لڑائی جھگڑے، پولیس کیس کے مریضوں کو داخلہ نہیں دیتے، اقدام خود کشی کے مریضوں کوسرکاری ہسپتالوں میں بھیج دیتے ہیں، معمولی فرسٹ ایڈ کے بعد سیریس حالت کے مریضوں کو فوراََ سرکاری ہسپتال بھیج دیتے ہیں ان کے قیام کا پھرکیا فائدہ؟
روایت ہے کہ عہد تاج برطانیہ میں سرکاری ملازمین پر پابندی عائد تھی، کہ ملازمت کے دوران کاروبار نہیں کر سکتے، ممکن ہے پابندی اب بھی ہو مگر عملاً ایسا نہیں ہے۔
پمز اسلام آباد میں بچوں کی ہلاکت کی پاداش میں سیکرٹری صحت کو معزول کیا گیا، انکی جگہ جو نئے تعینات ہوئے یہ آفیسران پروفیشن کے لحاظ ڈاکٹر نہیں ہیں یہی معاملہ وفاقی وزیر صحت کا بھی ہے، بدانتظامی کی ایک وجہRight man at the right jobکی عدم پالیسی بھی ہے، بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے، جبکہ افسر شاہی انگریزی محاورہ Jack of all traders master of none کی عملی تصویر بنی ہوئی ہے۔
یہ کلچر اب متروک ہو چکا، پروفیشنل ازم کا زمانہ ہے، اداروں پر مسلط افسر شاہی مگرتحکمانہ انداز میں ادارے چلانے کا مزاج رکھتی ہے، نچلی سطح تک کی خرابیوں اور خامیوں سے آگاہ نہیں نہ ہی انکی اصلاح کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لئے پمز جیسے سانحات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ تعلیم، صحت کی سہولیات کی بلا امتیاز فراہمی ایک آئینی ذمہ داری ہے، مگر اداروں کو پرائیویٹ کرنے کا سہرا سیاسی حکومتوں کے سر ہے، مسلم لیگ نون اس مشق میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی، نجانے وہ کیوں اس ذمہ داری کو نبھانے سے قاصر ہیں؟
نہیں معلوم اس رائے میں کتنی صداقت ہے؟ کہ پرائیویٹ سیکٹر کو پروان چڑھانے کے لئے سرکاری اداروں کو دانستہ تباہ کیا جاتا ہے، تاکہ مخصوص طبقہ مستفید ہو سکے، سنیٹر پرویز رشید نظام کی بہتری کے لئے ایسے وقت میں سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں سرکاری افراد اور انکے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے اور علاج کروانے کا مشورہ دے رہے ہیں جب پنجاب حکومت سرکاری سکولز اور صحت کے ادارے آوٹ سورس کر رہی ہے، ان پر انشاء اللہ خاں انشاء کے شعر کا یہ مصرعہ صادق آتا ہے۔
وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا۔