Friday, 04 September 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Shyshtem Collapsh Kar Gaya Hai?

Shyshtem Collapsh Kar Gaya Hai?

یہ عید میلاد النبی ﷺ والی رات غالباً ساڑھے بارہ، ایک بجے کا وقت تھا کہ میں نے جی ٹی روڈ سے علامہ اقبال روڈ کی طرف جانے والی سڑک پر گاڑی ڈالی تو گڑھی شاہو پل کے اختتام پر لمبا چوڑا ٹریفک جام تھا، صرف انتہائی بائیں ہاتھ سے ٹریفک رینگ رہی تھی۔ اسے کراس کرنے میں آدھا گھنٹہ لگ گیا اور وہاں اندازہ ہوا کہ گڑھی شاہو چوک پر ٹریفک کا ششٹم کولیپش، کر چکا تھا۔ یہ مجھ جیسے سماجی رویوں کے طالب علم کے لئے دلچسپ سٹڈی تھی کہ جب سارا دن یہی چوک اس سے کئی گنا زیادہ ٹریفک کے ساتھ ششٹم کو کولیپش نہیں ہونے دیتا تو آدھی رات کو یہ کیوں جواب دے گیا۔ چوک میں ایک دو ٹرک والوں کے ساتھ کچھ گاڑیوں والوں نے چونچیں لڑا رکھی تھیں اور اس کے ساتھ تینوں اطراف سے ٹریفک پھنسی ہوئی تھی۔ اس دوران ٹریفک سگنل بار بار سرخ، زرد اور سبز ہورہے تھے مگر ان کے چلنے کے باوجود ششٹم کولیپش کر چکا تھا۔

اس وقت شور مچا ہے کہ سسٹم ناکام ہوگیا ہے اور میں اتفاق کرتا ہوں کہ یہ سسٹم بہت زیادہ کامیاب نہیں ہے۔ اس میں لوگوں کے لئے بہت زیادہ اُمید نہیں ہے۔ یہ سسٹم اکثر اوقات ڈیلیور نہیں کر پاتا۔ اس میں گُل پلازہ اور پمز جیسے سانحے بھی ہوتے ہیں۔ جی ہاں، یہ سسٹم جمہوری طور پر قابل اعتماد نظر نہیں آتا کیونکہ یہاں انتخابات پر اعتماد نہیں ہے۔ کبھی 35 پنکچروں کی بات ہوتی ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ اے ٹی ایس بٹھا کے حکومت دے دی گئی ہے۔ یہ سسٹم ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور عمران خان کو کیرزمیٹک لیڈر بناتا ہے جو فوج کے نظام کے ذریعے ہی آتے اور مقبول ہوتے ہیں اور شکوہ ہوتا ہے کہ سیاسی نظام مضبوط نہیں ہے۔۔ مگر ٹھہرئیے کیا واقعی یہ سب کچھ سسٹم کی وجہ سے ہے یا خرابی کہیں اور ہے؟

ہمارے سامنے دنیا میں کئی سسٹم ہیں، سب سے پہلے جمہوریت ہے جو ڈیلیور کر رہی ہے، پھرکئی ممالک میں سوشلزم ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں خاندانی حکمرانیاں ہیں اور اپنی اپنی سیاسی ضروریات کے تحت اپنی اپنی ترمیم شدہ جمہوریتیں بھی ہیں اور وہ کامیاب بھی ہیں یعنی مسئلہ سسٹم کا نہیں ہے۔ پورے کالم کا نتیجہ اسی دوسرے پیراگراف میں ہی پڑھ لیجئے کہ ان میں آمریتیں بھی ڈیلیور کر رہی ہیں اور جمہوریتیں بھی ناکام ہیں اور اس کی وجہ ان کو چلانے والے افراد ہیں، ان کے روئیے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ اگر کسی کے پاس کلٹس ہے اور وہ اچھا، ماہر اور ایماندار ڈرائیور ہے تو وہ کلٹس آپ کو اسلام آباد پہنچا دے گی لیکن اگر مقابلے میں رولز رائس بھی ہے مگر اس کا ڈرائیور اناڑی ہے، کرپٹ ہے اور دو نمبر ہے وہ تیل چوری کرتا ہے، انجن آئیل تبدیل نہیں کرتا، واہیات ڈرائیونگ کرتا ہے تو انجن بھی سیز ہو سکتا ہے اور ٹکر بھی ہو سکتی ہے۔ بات ان لوگوں کی ہے جو اس سسٹم کا حصہ ہیں۔

اس میں اہم ترین یہ ہے کہ سسٹم صرف سیاسی حکمران نہیں چلاتے بلکہ سسٹم کا ہر حصہ اس سسٹم کو چلاتا ہے جیسے جج، بیوروکریٹ، جرنیل، صحافی، تاجر اور عوام بھی۔ اگر ان کے روئیے درست نہیں ہوں گے تو اچھے سے اچھا سسٹم بھی نہیں چلے گا۔ جیسے گل پلازہ ہو یا پمز، سسٹم آپ کو تمام تر ایس او پیز دیتا ہے، عمل افراد نے کرنا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ سسٹم نے ٹریفک قوانین بھی دئیے اور آگاہی مہم بھی چلا دی لیکن اگر سگنل توڑیں گے، ون وے کی خلاف ورزی کریں گے، سیٹ بیلٹ یا ہیلمٹ نہیں پہنیں گے تو خرابی کیا سسٹم میں ہوگی؟

ہم ملک میں جمہوریت مانگتے ہیں مگر کیا ہماری سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ہے؟ کیا پارٹیاں اپنے انتخابات درست کرواتی ہیں کہ وہ ملک میں درست انتخابات مانگتی ہیں۔ اگر امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس اور برطانیہ وغیرہ میں بھی انتخابات کو تسلیم نہ کیا جائے، دھاندلی کا شور مچا کے سسٹم جام کر دیا جائے اور پھر کہہ دیا جائے کہ یہ سیاسی بیان تھا تو سسٹم وہاں بھی نہیں چلے گا۔ امریکہ میں صدارتی نظام بہت کامیاب ہے، صدیوں سے ہے مگر پاکستان میں آیا تو ملک ٹوٹ گیا، کیوں؟ وجہ نظام نہیں تھا۔ کسی بھی ریاست کو سسٹم کو چلانے کے لئے افراد کی ٹریننگ کرنی پڑتی ہے۔ روئیے بہت اہم ہوتے ہیں۔ کیا وہ مرسیڈیز کبھی منزل تک پہنچ سکتی ہے جس کی سواریوں نے ڈرائیور کا گلا دبوچ رکھا ہو اور جواب میں ڈرائیور ریس بریک پر پاؤں رکھنے کی بجائے دوسری سیٹ والے کو پنچ اور مکے مار رہا ہو؟ کیا وہ گاڑی چل بھی سکتی ہے؟ ایسی سواریاں ہوں گی تو اکہتر جیسے حادثے ہی ہوں گے۔

پمز ہسپتال کو دیکھ لیجئے، اسی سسٹم کے تحت ہزاروں ہسپتال چل رہے، روزانہ لاکھوں نہیں تو ہزاروں بچے نرسریوں میں جا رہے اور علاج معالجے کے بعد باہر اپنے والدین کی گودوں میں آ رہے ہیں یعنی یہ سسٹم وہاں چل رہا ہے جہاں افراد اس میں خرابی پیدا نہیں کر رہے، اس کے فالٹس پر نظر رکھ رہے ہیں لیکن جہاں آپ غیر ذمہ دار ہوئے، نااہل ہوئے، کام نہ کیا وہاں حادثہ ہوگیا۔ ملک بھر میں لاکھوں پلازے ہیں جہاں کروڑوں عوام جاتے ہیں اور جہاں گل پلازہ کی طرح تجاوزات کیں اور ایس او پیز کو فالو نہ کیا وہیں تباہی ہوگئی۔ جی ہاں، یہ افراد ہی ہیں جو سسٹم چلاتے ہیں۔ ہزاروں سرکاری سکول اور کالج ہیں۔ ایک جیسی سرکاری سہولتیں ہیں کسی کے بچے بورڈ میں پوزیشن لیتے اور نوے فیصد تک نتائج آتے ہیں اور کہیں سارے ہی فیل ہو جاتے ہیں، کیوں؟ سسٹم تو ایک ہی ہے مگر فرق افراد کا ہے۔ کلرک بادشاہ اگر سست اور کرپٹ ہے، جوابدہی کے ڈر سے ماورا ہے تو وہ چار صوبوں میں ہو یا بتیس میں، وہ سسٹم نہیں چلنے دے گا۔

ہم سب کو سسٹم بدلنے سے پہلے اپنے روئیے بدلنے ہوں گے۔ خود کو بدلنا ہوگا ورنہ آپ مکہ سے لے کر ڈنمارک کا سسٹم بھی کاپی کر دیں تو چوہڑکانہ اور لاڑکانہ، چوہڑکانہ اور لاڑکانہ ہی رہیں گے۔ سسٹم کو کامیاب کرنے کے لئے لوگوں کو بدلنا ضروری ہے اور اس کے دو ہی طریقے ہیں سب سے پہلے اچھی تربیت اور دوسرے نمبر پر سخت سزائیں چاہے کوئی انہیں کتنا ہی غریب دشمن کہے۔ گاڑی بدلنے سے پہلے گاڑی میں بیٹھے لوگوں کے روئیے بدلنے ہوں گے ورنہ اگر آپ نئی نکور ائیر کنڈیشنڈ بس میں بھی تھوکیں گے، اسی میں پاخانہ پیشاب کر دیں گے تو اس میں بیٹھے رہنا بھی ناممکن ہو جائے گا۔

ہمیں اپنے تعلیمی اور سماجی نظام میں اصلاحات پر توجہ دینی ہوگی۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی تہلکہ خیز اسلامی تاریخی تصنیف خلافت اور ملوکیت پڑھ کے دیکھیے، رسول اللہ ﷺ نے دنیا کا سب سے بڑا انقلاب عربوں کے روئیے تبدیل کرکے برپا کیا تھا۔ جب تک وہ روئیے رہے تب تک خلافت رہی اور جب وہ روئیے ہٹ گئے تو ملوکیت آ گئی۔ ششٹم نہیں ہم بطور فرد اور معاشرہ کولیپس کر چکے، اس میں آپ کوئی بھی سسٹم لگا دیں گے وہ ناکام ہو جائے گا۔