Tuesday, 18 August 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Pakistani Ghareeb Ho Rahe Hain Ya Ameer?

Pakistani Ghareeb Ho Rahe Hain Ya Ameer?

یہ ایک عمومی گفتگو ہے جو مختلف جگہوں پر کی جاتی ہے جیسے تاجر کہتے ہیں کہ کاروبار کا ایسا بُرا حال ہے کہ ماضی میں کبھی نہیں تھا اور کسان کہتے ہیں کہ ہم پر جتنا کڑا وقت آج ہے پہلے کبھی نہیں آیا۔ ایسی گفتگو سیاسی طور پر بھی کی جاتی ہے کہ عوام مارے جا رہے ہیں، وہ بھوک سے خود کشیاں کر رہے ہیں اور ایسے واقعات کا رپورٹ ہونا درست بھی ہے مگر کیا وہ مجموعی معاشی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں اور کیا ہمارے شہروں کے گرد کھمبیوں کی طرح بڑھتی ہوئی ہاوسنگ سوسائٹیاں، سڑکوں پر بڑھتی ہوئی گاڑیاں تاجروں اور کسانوں سمیت سیاسی بیانیہ بنانے والوں کے سچے ہونے کی گواہی دیتی ہیں؟

ہمیں بہرحال تصدیق شدہ اعداد و شمار پر ہی بات کرنی چاہیے جیسے ادارہ شماریات کے مطابق پچھلے تین برس میں مہنگائی میں کمی اور فی کس آمدن میں بڑھوتری ہوئی۔ پاکستان کی جی ڈی پی 2023ءمیں 336 ارب ڈالر، 2024ءمیں 371 ارب ڈالر، 2025ءمیں 407 ارب ڈالر اور 2026 میں 452 ارب ڈالر ہوگئی یعنی تین سے چار برس میں 116 ارب ڈالر کا اضافہ جو ایک چوتھائی کے قریب بنتا ہے اور کسی بھی معیشت کی گروتھ کے لیے مثالی سمجھا جا سکتا ہے اور اسی کے ساتھ ادارہ شماریات کی طرف سے پاکستانیوں کی فی کس آمدن میں اضافے کا ایک چارٹ موجود ہے جو تین برس پہلے 1680 ڈالر، پچھلے مالی سال میں 1751 ڈالر اور جاری برس میں 1901 ڈالر ہے۔

میں پاکستانی روپوں میں 5 لاکھ 34 ہزار روپے سالانہ کی فی کس آمدن کو ہرگز مثالی نہیں سمجھتا مگر یہ بہرحال پہلے برسوں سے بہتر ہے اور مزید بہتر ہو رہی ہے۔ میں اس کا موازنہ مہنگائی کی شرح کے ساتھ بھی کرتا ہوں جو کم ہوئی ہے اور دعا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے منفی اثرات سے ہم باہر نکل سکیں مگر بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو اوپر دئیے ہوئے دونوں اعداد و شمار تسلیم نہیں کرتے مگر بہرحال قومی سے عالمی اداروں تک یہی اعداد و شمار ہیں اور جنہوں نے نہیں ماننا، انہوں نے سورج کے سامنے کھڑے ہو کر بھی اس کا انکار کر دینا ہے۔

لیکن میں اب بڑے یعنی میگا انڈیکیٹرز پر ہی نہیں جا رہا بلکہ میرے پاس کچھ مخصوص اعداد و شمار بھی ہیں جو پاکستانی قوم کی معاشی حالت کی عکاسی کرتے ہیں جیسے یہ کہ اس برس جولائی میں پاکستانیوں نے 17216 نئی گاڑیاں خریدیں۔ ہم جولائی کو اس لیے خاص طور پر منتخب کرتے ہیں کہ یہ بجٹ کے بعد مالی سال کا پہلا مہینہ ہوتا ہے اور یوں بھی اگست چل رہا ہے تو پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے تازہ ترین جولائی کے ہی اعداد و شمار بھیجے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ گذشتہ برس اسی مہینے یعنی جولائی کے مقابلے میں 141 فیصد سے بھی کچھ زیادہ ہیں۔

گذشتہ برس جولائی کے مہینے میں گاڑیاں بنانے والوں نے 7135 گاڑیاں بیچی تھیں جو اب دو گنا سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ گاڑیاں پاکستانیوں نے ہی خریدی ہیں جس سے ان کی قوت خرید میں اضافہ نظر آتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اس عرصے میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کا رئیل سٹیٹ سیکٹر دوبارہ ابھر رہا ہے۔ نئی نئی ہاوسنگ سوسائٹیاں اور پلازے بن رہے ہیں اگرچہ میرے نزدیک اس سیکٹر میں اصلاحات کی شدید ضرورت ہے کیونکہ اس نے پاکستانیوں کی دولت اور بچتوں کو بہت بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ لوٹا ہے۔ خاص طور پر فائل کلچر کی روک تھام ضروری ہے جو پاکستانیوں کے کئی کھرب روپے ڈبو کے بیٹھے ہوئے ہیں کہ وہی فائلز اگر پلاٹس کی صورت میں ہوتیں تو اب تک وہ اپنی قیمت بڑھا رہی ہوتیں یعنی پاکستانیوں کی دولت جس کی انہوں نے سرمایہ کاری کی۔ مجھے افسوس ہے کہ نیب بھی اس لوٹ مار کو نہیں روک سکا۔

یہ کہاجاتا ہے کہ جی ڈی پی یا فی کس آمدن جیسے میگا انڈیکیٹرز ہوں یا گاڑیوں کی فروخت وہ عوام کی دولت میں حقیقی اضافے کی نشاندہی نہیں کرتی کیونکہ ہم بنیادی طور پر مڈل کلاس کی بات کرتے ہیں کہ اسے مضبوط ہونا چاہیے اور اس کے پاس پیسہ ہونا چاہیے۔ میرے پاس پاکستان کے عوام کے پاس پیسہ جانچنے کا ایک اور طریقہ موجود ہے جو ان کی بچتوں اور مالی اثاثوں کی زیادہ درست نشاندہی کر سکتا ہے اور وہ ہمارے شیڈولڈ بینکوں کے ڈیپازٹس ہیں۔

یہ ایک بہت ہی اچھا طریقہ کار ہے جس کے تحت ہم اپنے لوگوں کی قانونی اور جائز بچتوں کے بارے زیادہ بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ امیر ہو رہے ہیں یا غریب۔ اس پر بھی میں آپ کو تین برس پیچھے لے کر چلوں گا کہ عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ کے مطابق 30 جون 2024ءکو جب ایک مالی سال کلوز ہو رہا تھا تو ہمارے بینکوں کے پاس 31120 ارب روپے موجود تھے جو اس سے ٹھیک ایک سال بعد جون 2025 ختم ہونے پر 35500 ارب ہو گئے اور جب اس برس جون میں مالی سال کا اختتام ہو رہا تھا تو ہمارے بینکوں کے پاس عوام اور اداروں کی بچتوں اور مالی اثاثوں میں اضافے کی صورت میں چالیس ٹریلین سے زیادہ (40886 ارب روپے) موجود تھے یعنی تین برس میں ایک تہائی اضافہ۔

بینکوں کے پاس یہ پیسہ یقینی طور پر عوام اور اداروں کی بچت کی صورت میں ہی آیا ہے یعنی عوام اور ادارے کما رہے ہیں تو بینکوں میں جمع کرا رہے ہیں۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ عوام اور اداروں کی رقم ایک برس میں سات ہزار ارب روپے سے زیادہ بڑھی جو میرے پاکستان کے امیر ہونے کی دلیل بن سکتی ہے۔ اگر آپ کے پاس مطالعے کا وقت ہو تو میرے پاس بینکوں کے سرمائے بڑھنے کی بھی تفصیلی رپورٹ موجود ہے مگر آپ کی دلچسپی کے لیے تین بینکوں کا ذکر کیے دیتا ہوں کہ یوبی ایل کے ڈیپازٹس میں 59 فیصد، میزان بینک کے ڈیپازٹس میں 26 فیصد اور ایچ بی ایل کے ڈیپازٹس میں 21 فیصد اضافہ ہوا۔

ان تین چار برس میں پاکستانیوں کی آمدن ہی نہیں ان کی ٹیکس دینے کی استعداد بھی بڑھی ہے۔ سابق حکومت کے دور 2021-22 میں پاکستان کی ٹیکس کلیکشن 6.12 ٹریلین روپے تھی جو اگلے سال 7.17 اور پھر 9.31 ٹریلین ہوگئی۔ 2024-25 میں یہ وصولی 11.74 ٹریلین اور ابھی ختم ہونے والے 2025-26 میں 13 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی یعنی موجودہ حکومت کے دور میں ٹیکس کلیکشن میں ایک سو دس فیصد سے زیادہ اضافہ ہوگیا جو ہمیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دور کی یاد دلاتا ہے اور اس میں اہم ترین حوالہ یہ ہے کہ پاکستان کا قرض جو سابق دور میں جی ڈی پی کے 77 فیصد تک پہنچ گیا تھا وہ کم ہو کے جولائی 2026 اعداد و شمار کے مطابق 68 فیصد تک رہ گیا ہے۔ یاد رکھیں کہ قومی قرضوں کو ان کی مالیت نہیں بلکہ اس کی جی ڈی پی کے ساتھ شرح سے ماپا جاتا ہے جسے کسی دوسرے کالم میں سمجھایا جا سکتا ہے مگر یہاں اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ پاکستان سے پُر امید رہیں، روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں۔