Saturday, 12 September 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Peoples Party Kese Jeet-ti Hai?

Peoples Party Kese Jeet-ti Hai?

ہم جیسے پنجاب بیسڈ صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے لئے یہ سوال ہمیشہ سے دلچسپ رہا ہے کہ جب ہم سندھ کی بیڈ گورننس کی بہت، بہت مثالیں سنتے ہیں، وہاں ٹوٹی ہوئی سڑکیں دیکھتے ہیں، تھانوں سمیت سرکاری اداروں میں کرپشن کی بھرمار دیکھتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ پیپلزپارٹی الیکشن کیسے جیتتی ہے۔ ہم مذاق اڑاتے ہیں کہ سندھیوں کا بھٹو زندہ ہے مگر تھڑے کی یہ چھوٹی بات کیا ایک سیاست کے طالب علم اور تجزیہ کار کو کرنی چاہئے، نہیں، بھٹو شہید کی قربانی اپنی جگہ مگر ہمیں اس سوال کا جواب تو ڈھونڈنا ہوگا کہ پیپلزپارٹی باالخصوص سندھ میں ہر بار پہلے سے بہتر طریقے سے الیکشن جیت جاتی ہے بلکہ سندھ کی بیڈ گورننس کے پروپیگنڈے کے باوجود گلگت بلتستان سے آزاد کشمیر تک جا کے پیپلزپارٹی الیکشن لڑتی ہے اور مقابلے میں ٹکا کے ووٹ بھی لیتی ہے۔ سندھ میں بیٹھے ہوئے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی رائے جوبھی ہو مگر ہمارے لئے یہ سٹڈی واقعی دلچسپ ہے، ہم جو پنجاب میں رہتے ہیں اور یہاں کے انفراسٹرکچر اور گڈ گورننس کی تعریفیں کرتے ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی سنٹرلیفٹ کی جماعت ہے اور وہ پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح مذہب کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ نہیں بناتی حالانکہ بھٹو مرحوم کے بنائے تہتر کے آئین میں اسلام اور اسلامی قوانین کو بے مثال اہمیت دی گئی، اسلامی سربراہی کانفرنس کروائی گئی، اسلامی ایٹم بم بنایا گیا، قادیانیوں کوغیر مسلم قرار دیا گیامگر مذہب کو سیاست کی بنیاد نہ بنانے والوں کی اکثریت کی چوائس پیپلزپارٹی تھی اور ہے۔ تکلف برطرف، پیپلزپارٹی والے ہمیں کچھ ذرا زیادہ آزاد خیال اور لبرل نظر آتے ہیں۔ میر ی رائے میں پیپلزپارٹی تین طبقات کے لئے اب بھی سب سے بڑھ کے کردار ادا کرتی نظر آتی ہے ان میں سب سے پہلے غریب طبقہ ہے، دوسرے نمبر پر سرکاری ملازمین ہیں اور تیسرے نمبر پر کسان۔

میرے پاس تینوں طبقات کے لئے عملی طور پر دلائل موجود ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے، پیپلزپارٹی ہی رکشے ڈرائیور اور تانگے والے ماجھے گامے کی جماعت سمجھی جاتی ہے اور وہ ان کی نمائندگی کاحق بھی بہت خوب ادا کرتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جس کے پاس سمارٹ فون اور چار پیسے آجاتے ہیں وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پرتنقید کرنے لگتا ہے مگر بی بی شہید کے نام پریہ پیسے واقعی ہزاروں اور لاکھوں غریب گھرانوں میں راشن ڈال دیتے ہیں، ان کے بجلی کے بل ادا کردیتے ہیں، ٹوٹی دیوار مرمت کروا دیتے ہیں۔

بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری بنا رہا ہے اور میرا کہنا ہے کہ اسلامی نظام میں زکواة سے لے کر سیکولر مغربی ممالک کے ویلفئیر کے پروگرام تک، غریبوں اور محتاجوں کے لئے ایک سسٹم موجود ہے اور جس ملک کے لوگوں کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی گزارتی ہے، وہاں ہمیں ا یسے کسی بھی پروگرام پر فخر ہونا چاہئے۔ میں قائل ہوں کہ تمام لوگ کاروبار کر سکتے ہیں نہ نوکری، انہیں امداد ہی کی ضرورت ہوتی ہے، جن میں بیمار بھی شامل ہوتے ہیں اور بزرگ بھی۔ بہرحال بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پیپلزپارٹی کی بڑی پہچان ہے، بڑی کامیابی ہے۔

سچ کہوں تو سرکاری ملازمین کی سب سے بڑی وکیل اور خیرخواہ بھی پیپلزپارٹی ہی ہے۔ میں نے اپنے اخبار میں گذشتہ بجٹ کے بعد ایک سروے کروایا جس میں پنجاب کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا موازنہ وفاق اور بالخصوص سندھ کے ملازمین کے ساتھ کیا گیا۔ پتا چلا کہ پچھلے دس پندرہ برسوں میں پنجاب اور سندھ کے یکساں گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساٹھ سے نوے فیصد تک کافرق پڑ چکا ہے۔ وجہ یہ بھی ہے کہ جب پنجاب دس فیصد تنخواہیں بڑھاتا ہے اور سندھ بیس فیصد بھی بڑھا دیتا ہے۔

یہ پیپلزپارٹی کا ہی دور تھا جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں پچاس فیصد تک بڑھائی گئی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر بجٹ میں ہمیں پیپلزپارٹی ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کامقدمہ لڑتی ہوئی نظر آتی ہے اور جہاں تک کسانوں کی بات ہے تو گندم کی امدادی قیمت اس کا ایک بہت بڑا بیرومیٹر ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے تو انہوں نے گندم کی امدادی قیمت یکشمت دوگنا کر دی تھی۔ اب اس پر تنقید یہ ہے کہ کسان کو دیا جانے والا یہ روپیہ غریب مزدور کی جیب سے ہی آٹے کی بڑھی ہوئی قیمت کی صورت نکلتا ہے مگر دوسری طرف پیپلزپارٹی یہ کریڈٹ لیتی ہوئی بھی نظر آتی ہے کہ اس کی وجہ سے ہی ملک گندم میں خود کفیل رہا۔

اس وقت پیپلزپارٹی کی کامیابی سندھ سے جڑی ہوئی ہے اور مجھے یہ کہنے میں بھی عارنہیں ہے کہ پیپلزپارٹی اپنی ہوم گراونڈ کا مقدمہ بھی ڈٹ کے لڑتی ہے اور اس پر کسی دوسری سوچ اور مفاد کو حاوی نہیں ہونے دیتی۔ آپ دیکھ لیجئے کہ کس طرح کالاباغ ڈیم کے بعد پنجاب کی محفوظ شہید کینال کو رکوایا گیا اور کس طرح سندھ کی یکجہتی کے نام پر نئے صوبوں کی مہم کی مخالفت کی جا رہی ہے حالانکہ یہی پیپلزپارٹی پنجاب کی تقسیم کی حمایت کر تی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پیپلزپارٹی جس طرح سندھ کا مقدمہ لڑتی ہے کوئی دوسری جماعت پنجاب یا کے پی کامقدمہ لڑتی نظر نہیں آتی۔ مجھے بطور سیاسی تجزیہ کار یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح پیپلزپارٹی انتخابی مہم چلاتی ہے، جس طرح بلاول بھٹو زرداری ہر انتخابی مہم کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، وہ بھی بہت خوب ہے، شاندار ہے۔

میں بطور صحافی یہ بھی گواہی دے سکتا ہوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت جس طرح اپنے ووٹروں، سپورٹروں یعنی جیالوں کو اہمیت دیتی ہے اس کی مثال کسی دوسری ملکی سطح پر مقبول اور کامیاب جماعت میں نہیں ملتی۔ میں نے دیکھا ہے کہ عام گلی محلے کے جیالے کی پہنچ بھی صدر زرداری اور بلاول بھٹو زرداری تک ہوجاتی ہے۔ گذشتہ دنوں کراچی سے میرے بہت پیارے دوست صحافی (جو مسلم لیگ نون کی حمایت کرتے ہیں) نے مجھے چیلنج دیا کہ تم صدر آصف زردار ی سے ملنا چاہتے ہو تو مجھے تین دن دو، میں تمہارا وقت طے کروا دوں گا مگر تم لاہور میں رہتے ہو اور مسلم لیگ نون کی حمایت بھی کرتے ہو کیا تم میری تین مہینوں میں بھی میاں نواز شریف سے ملاقات کروا سکتے ہو تو میں نے مسکرا کر ان کا یہ چیلنج ٹال دیا۔

میرے ایک ڈاکٹر رہنما دوست (وہ بھی مسلم لیگ نون کے حامی تھے) نے بتایا کہ وہ صدر زرداری سے ملے اور انہوں نے ان کے ساتھ کھانا بھی کھایا اور پنجابی کے فقرے بھی بولے جس کے بعد وہ ان کی شخصیت کے اسیر ہو گئے۔ یہ بات درست ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت جس طرح اپنے دوستوں، صحافیوں، کارکنوں اور عہدیداروں کو عزت دیتی ہے، ان کے کام کرواتی ہے، وہ کسی دوسری سیاسی جماعت میں ہمیں نظر نہیں آتا، ہاں، ایک اہم بات اور، چاہے کوئی اسے اچھا کہے یا برا، پی پی نے جس طرح جیالوں کو نوکریاں دیتی ہے، اسی طرح جیسے کبھی میاں نواز شریف نے لاہور کی گوالمنڈی میں دی تھیں اور لاہور کا دل ہمیشہ کے لئے جیت لیا تھا۔