Saturday, 29 August 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Janab Wazir e Azam, Ye Qatal Hain

Janab Wazir e Azam, Ye Qatal Hain

جی ہاں، جناب وزیراعظم، میں پمز میں شہید ہونے والے چودہ بچوں کے حوالے سے بات کر رہا ہوں، وہ پھول جو کھلتے ہی اپنے مسیحاؤں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ میں پچھلے تین روز سے ان عورتوں کے بارے سوچ رہا ہوں جنہوں نے نو ماہ تک اپنے پیٹوں میں ان بچوں کو رکھا اور کئی تو ایسی تھیں کہ ان کے پیٹ چیر کر، سی سکشن کے ذریعے، ان بچوں کو باہر نکالا گیا۔ وہ بچے جو اپنی ماؤں کے پیٹوں میں محفوظ و مامون تھے، وہاں سانس بھی لے رہے تھے اور رزق بھی، کچھ نااہلوں اور نکموں کی وجہ سے زندگی جیس نعمت سے محروم ہوگئے۔

میں ان باپوں کے بارے سوچ رہا ہوں جو بیویوں کے پیٹوں میں موجود بچوں پر خون پسینے کی کمائیاں خرچ کرتے رہے، ان کی امیدوں کے دیپ جلتے ہی بجھا دئیے گئے۔ میں نے بہت سارے ڈاکٹروں سے بات کی، بیشتر نے مجھے کہا کہ یہ ایک حادثہ ہے، ڈاکٹر زندگیوں کی حفاظت کرتے ہیں وہ کسی کی جان نہیں لیتے مگر میں ان سے اتفاق کرتے ہوئے بھی اتفاق نہیں کر پا رہا، میری نظر میں یہ محض حادثہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک قتل ہے، چلیں، یہ میں مان لیتا ہوں کہ یہ قتل عمد نہیں ہے مگر یہ قتل خطا ضرور ہے، یہ قتل بالسبب ضرور ہے۔

جی ہاں، جناب وزیراعظم، مجھے لگی لپٹی آتی ہے اور نہ ہی منافقت، مجھے کہنا ہے کہ یہ قتل اُن سے ہوئے ہیں جن کی ذمہ داری ان جانوں کی حفاظت تھی۔ آپ نے وفاقی سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا، معطل کر دیا، بہت اچھا کیا کہ یہ سیاسی طور پر ضروری تھا اور انتظامی طور پر بھی مگر میں اپنے اب تک کے صحافتی تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ کسی بھی وزیر یا سیکرٹری کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ کسی بھی ہسپتال کے ڈے بائی ڈے افئیرز، کو دیکھے، انہیں چلائے یا انہیں درست رکھے۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے جدید ترین ہسپتال میں بہت کچھ ایسا تھا جس کے سٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجرز، موجود ہی نہیں تھے یا ان پر عمل نہیں ہو رہا تھا۔

یہ کوتاہی بنیادی طورپر پمز کے سٹاف کی ہے۔ میں اس ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے اس وارڈ کے ٹیکنیشن تک کو مجرم سمجھتا ہوں۔ میں حیرت سے سوچ رہا ہوں کہ نومولود بچوں کی ایسی نرسری جس میں پیدا ہونے والے وہ بچے رکھے جاتے ہیں جنہیں کسی نہ کسی قسم کی ایمرجنسی کا سامنا ہوتا ہے، جن میں کسی کو انجکشن لگ رہے ہوتے ہیں تو کسی کو ڈرپ، کسی کی سانس کا مسئلہ ہوتا ہے تو کسی کے خون کا، اتنے چھوٹے بچوں کو ہر گھنٹے آدھے گھنٹے بعد دودھ اور پوٹی کی حاجت بھی ہوتی ہے تو کیا ان بچوں کے لئے پمز کی نرسری میں کوئی ڈاکٹر، کوئی نرس اور کوئی آیا موجود ہی نہیں تھی؟

جی ہاں، جناب وزیراعظم، یہاں معاملے کوبنیاد سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غلطی، کوتاہی بلکہ مجرمانہ غفلت کہاں ہوئی ہے۔ میں مان لیتا ہوں کہ یہ ایک حادثہ تھا ور ایک مشینری کا خراب ہونا اور مشینری کسی بھی جگہ خراب ہوسکتی ہے تو اب میں سوال کرتا ہوں کہ نیبولائزر نے سپارکنگ کی، اس سے شعلے نکلے اور آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔ اگر وارڈ میں ایک دو ڈاکٹر، ایک دو نرسیں اور ایک دو آیاموجود ہوتیں اور سب آگ لگتی دیکھ کے ان کی ٹرالیاں دھکیلتی ہوئی یا انہیں چادروں میں ڈال کر ہی آگ سے دور لے کر بھاگ نکلتیں تو ان کی جانیں بچ سکتی تھیں۔

جی ہاں، جناب وزیراعظم، اگر ایک بچی کی خالہ اندر سے اپنی بھانجی نکال کر لے جا سکتی تھی تو باقی بچوں کو بھی نکالا جا سکتا تھا مگر وہ سب ہمیں کوئلوں کی صورت میں ملے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نرسری میں ڈاکٹر سے سویپر تک کوئی سٹاف ہی موجود نہیں تھا اور اب یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں، پہلا یہ کہ کیا سٹاف کی روسٹر پر ڈیوٹی ہی نہیں تھی اور اگر ڈیوٹی تھی تو وہ ڈیوٹی پر موجود ہی نہیں تھے ورنہ وہ بچوں کو ریسکیو کر لیتے اور اس ہسپتال کے چہرے پر اتنی بڑی کالک نہ ملی جاتی کہ اس پر اقوام متحدہ سے سعودیہ اور ایران تک اظہار افسوس کر رہے ہیں مگر اس میں آپ کا یا وزیر صحت کا کیا قصور۔

حکومت کا کام ان ڈاکٹروں کی ڈیمانڈ پر اربوں روپوں کے فنڈ فراہم کرنا ہے اوراس کے بعد ان کا استعمال انہی کی ذمہ داری ہے جو لاکھوں کروڑوں کی تنخواہیں ہڑپ کرتے اور عہدے انجوائے کرتے ہیں۔ ان قتلوں اور اس بدنامی کے ذمے دار براہ راست عمران سکندر، رضوان تاج، اقبال درانی، عنیزہ جلیل، ارم نوید سے اس وارڈ کے ذمے داران ہیں یعنی وہ سب جواس کی مینجمنٹ کے ذمے دار تھے اور وہاں ڈیوٹی پر موجود ہونے کے بھی۔ اگر اس کی مینجمنٹ درست نہیں تھی یا وہاں پر سٹاف ہی موجود نہیں تھا تو اس کی ذمہ داری سیکرٹری ہیلتھ یا وزیر صحت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔

جی ہاں، جناب وزیراعظم میں اس پر بھی کنوینس ہوں کہ کسی بھی حادثے پر سیاسی رنگ بازی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ جب آپ کسی سانحے پر پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ شروع کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں اصل ملزم (یا مجرم) اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ یہاں کچھ سیاسی گِدھوں نے باقاعدہ طور پر مہم شروع کر دی، اس میں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ بھی شامل ہوا کہ پمز میں عمران خان کو لایا جا رہا تھا اور اگر وہ یہاں آجاتا تو کیا مارا جاتا، کیسے، یہ مجھے علم نہیں کہ وہ پریگنینٹ تھا یا خود نومولود۔

پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ عمران خان کو پمز کی بجائے شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے تو بعید از قیاس نہیں کہ یہ واقعہ کوئی سازش ہوتاکہ سپریم کورٹ میں پمز کو غیر معیاری اور غیر محفوظ ہسپتال ثابت کیا جا سکے اور عمران خان کو نجی ہسپتال پہنچانے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ میرا مشورہ ہے کہ پمز کے وہاں موجود سٹاف کے سوشل میڈیا اکاونٹس ضرور چیک ہونے چاہئیں کہ کہیں کوئی اس کلٹ کا رکن ذہنی مریض تو اس سازش کے پیچھے تو نہیں کیونکہ ہم نے یہاں سیاسی مقاصد کے لئے سانحہ ماڈل ٹاون کی حقیقی لاشوں سے چھبیس نومبر کی جعلی لاشوں تک سے کچھ سیاسی گِدھوں کو اپنا سیاسی پیٹ بھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جو اپنے مقاصد کے لئے نو مئی برپا کر سکتے ہیں وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

جی ہاں جناب وزیراعظم ہمیں ایک سیاسی کلٹ کا سامنا ہے سو ہمیں مزید محتاط ہو کے چلنا ہے۔ اس وقت ضروری ہے کہ اس واقعے میں انصاف ہو، حقیقی ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے اور اس کے ساتھ ہی پورے ملک میں ہسپتالوں کے لئے یکساں، مثالی ایس او پیز بنا دئیے جائیں۔ جو ان پر عمل نہ کرے اسے اس اہم ترین اور حساس ترین شعبے میں نوکری کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ ہسپتال زندگیاں بچانے کے لئے ہوتے ہیں، زندگیاں لینے کے لئے نہیں!