یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اسرائیل کا وزیراعظم نیتن یاہو چھپتا چھپاتا واشنگٹن ڈی سی پہنچا ہے، اس کا پُرتپاک استقبال نہیں ہوا بلکہ استقبال کرنے والے مظاہرین رہے جن میں مسلمان اور مسیحی ہی نہیں یہودی بھی ہیں، جی ہاں، ایسے یہودی جو صہیونیت کی تحریک کے خلاف ہیں، اسرائیل کے قیام کے خلاف ہیں، نیتن یاہو کی بربریت کے خلاف ہیں۔ یہ بھی پہلی مرتبہ ہوتا ہے کہ یاہو کی آمد سے قبل امریکہ ہی کے ایک شہر کا میئر اس کی گرفتاری کا لیگل پلان ڈسکس کرتا ہے اور 49فیصد امریکی رائے دیتے ہیں کہ اسرائیل کے وزیراعظم کو امریکہ آمد پر آئی سی سی کے وارنٹس پر گرفتار کر لیا جائے۔
میں نے یہ بھی دیکھا کہ نوے منٹ اوول آفس ملاقات کے بعد بھی کوئی پریس بریفنگ نہیں ہوتی کیونکہ اس سے پہلے امریکہ کے صدر دوٹوک انداز میں اسرائیل کا وہ اعتراض مسترد کر دیتے ہیں جو ترکیہ کوجدید ترین ایف تھرٹی فائیو جنگی طیارے فروخت کرنے پر کیا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ اس امر کا فیصلہ امریکہ خود کرے گا کہ اس نے کس ملک کو کیا فروخت کرنا ہے۔ وہ اس ملاقات سے پہلے نیتن یاہو کی طرف سے میڈیا کو دی انٹیلی جنس انفارمیشن بھی مسترد کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نیتن یاہو یہ مت بتائے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ نیتن یاہو انہیں جنگ میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ اس ملاقات سے قبل ہوتا ہے جس کو امریکہ اور اسرائیل کے رسمی اداروں کی طرف سے کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔
میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایک دوسرے کے مخالف ہو گئے ہیں یا ان کے سٹریٹیجک مفادات مختلف مگر میں عالمی اور سیاسی امور کے تجزیہ نگار کے طور پر ایک نہیں بلکہ دس، بارہ مختلف معاملات اور واقعات کو نظرانداز نہیں کر سکتا جو وقوع پذیر ہو رہے ہیں جیسے سب سے پہلے اسرائیل کو غزہ میں ظلم و بربریت سے روکنا۔ یہ درست ہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں بننے والے امن بورڈ کے بعد بھی اسرائیل کی طرف سے اب تک ایک ہزار فلسطینی شہید کئے جا چکے مگر یہ تو اس ظلم و بربریت میں آٹے میں نمک کے برابر ہے جو پہلے جاری تھا یعنی دو برس کی مدت میں 72ہزار سے زائد فلسطنییوں کا قتل، اس میں ہر ایک گھنٹے میں ایک بچے کا قتل، 90 فیصد غزہ کا کھنڈر بنا دینا، گھر اور کمرشل ادارے تو ایک طرف رہے وہاں ہسپتال چھوڑنا نہ سکول۔
ہر غیرجانبدار شخص مانے گا کہ گذشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے اجلاس کے بعد مسلمان ملکوں بالخصوص پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے غیر اعلانیہ اتحاد کی بڑی کامیابی ہے اور میں اسے آگے بڑھتے ہوئے گریٹر اسرائیل کے خواب کی ناکامی سمجھتا ہوں کہ جب اسرائیل غزہ پر قبضہ نہیں رکھ سکتا تو وہ خلیجی ممالک پر مشتمل گریٹر اسرائیل کا خواب کیسے پورا کر سکتا ہے۔ میرے لئے یہ ایک بڑی خبر تھی جب میں نے 29 ستمبر 2025 کو نیتن یاہو کو قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی سے معافی مانگتے ہوئے دیکھا جو اس نے اپنے حملے پر مانگی۔ یہ اپنے سرپرست امریکہ کے ہاتھوں بدمست اسرائیل کی بڑی ناکامی تھی، بڑی تذلیل تھی۔
میں جب یہ کہتا ہوں کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دوری پیدا ہو رہی ہے تو اس کی بنیاد صرف حکمرانوں کی دوری نہیں، یہ عوامی بھی ہے، واضح میڈیا رپورٹس ہیں کہ امریکی حکام، اسرائیل کا منصوبہ جان چکے، پہچان چکے۔ یہ امریکی میڈیا کے مطابق 31 مئی 2026 کو ڈی جے وینس کی نتن یاہو کو فون کال تھی جس میں ڈی جے وینس نے کہا کہ نیتن یاہونے ا مریکہ کو گمراہ کیا، غلط انفارمیشن دی اور جنگ میں پھنسا دیا (اب یہی بیان صدر ٹرمپ نے دیا ہے) اور 2 جون 2026 کو اے بی سی نیوز کو سنیں، وہ بتاتا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو سفارتی سرگرمیوں کوتباہ کرنے کی قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ باقاعدہ طور پر نیتن یاہو کو گالیاں دیتے ہیں۔ میں کہہ رہا کہ معاملہ صرف حکمرانوں تک نہیں ہے بلکہ امریکی عوام جان چکے ہیں کہ نیتن یاہو امریکہ کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہا ہے اور سب پوچھ رہے ہیں کہ ایران جنگ سے امریکہ کو کیا فائدہ ہوا جس میں اس نے اربوں ڈالر جھونک دئیے اور اب بھی صرف ایران کی ایٹمی طاقت اسرائیل کے تحفظ اور مفاد کی خاطر تباہ کرانا چاہتا ہے۔
رائٹرز اور اپسوس کے سرویز ریکارڈ پر موجود ہیں کہ ایک تہائی امریکی بھی ایران جنگ کی حمایت نہیں کرتے، 69 فیصد کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ کے اہداف کے حصول میں ناکام ہو گئے، صرف 20 فیصد ایسے ہیں جو کارروائی جاری رکھنے کے حق میں ہیں اور اسی طرح سی این این کے سروے اس جنگ سے ٹرمپ کی مقبولیت تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور سروے کرنے والے اداروں کے مطابق تیس فیصد کے ارد گرد یا اس سے بھی کم۔ جیسے آغاز میں ذکر کیا، اسی طرح اکانومسٹ اور یوگورنمنٹ، کا ایک سروے رواں مہینے کا ہے جس میں 49 فیصد امریکیوں کا کہنا تھا کہ اگر نیتن یاہو امریکہ آئے تو اسے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کی تعمیل میں گرفتار کر لیا جائے، 47 فیصد اسے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہیں۔
امریکہ اسرائیل اتحاد کی ہر کمزوری، ہر دراڑ خلیجی ممالک ہی نہیں پورے عالم اسلام کی طاقت ہے کیونکہ اسرائیل صرف سعودیہ اورایران کا نہیں، یہاں جنوبی ایشیا میں بھارت کے اتحاد کے ساتھ پاکستان کا بھی دشمن ہے۔ معرکہ حق کے بعد پاکستان کے سپہ سالار کو امریکی صدر کا ظہرانہ اور تعریفیں قومی ہی نہیں بین الاقوامی تاریخ کا بڑا واقعہ اور اسرائیل کی شکست ہیں، وہ پاکستانی تاریخ میں فوج ہی نہیں سفارتکاری کے بھی فیلڈ مارشل بن کے سامنے آئے ہیں اوراس کی ایک بنیاد ہمیں مضبوط سول ملٹری ریلیشن شپ میں بھی ملتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ ایک اچھی فٹ بال ٹیم کے پروفیشنل پلیئرز کی طرح ایک دوسرے کو پاس دیتے ہیں اور بال، گول میں پہنچ جاتی ہے۔
پاکستان کی موجودہ قیادت نے علامہ اقبال کے اس شعر کو حقیقت بنا کے دکھا دیا ہے کہ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے، نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر۔ ایک غیر اعلانیہ عالمی اور سفارتی کامیابی یہ بھی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، آذربائیجان سمیت بہت سارے ملکوں کا اتحاد بن چکا ہے جو عالمی سیاست میں عالم اسلام کے مفادات کے تحفظ میں اہم ترین کردارادا کر رہا ہے۔ میں اس موقع پر دعا گو ہوں کہ یہ اتحاد بھارت کو کٹہرے میں لاتے ہوئے جموں و کشمیر کے تنازع کو حل کرنے کا کرشمہ بھی کرکے دکھائے کیونکہ امریکی صدر اس اہم ترین تاریخی تنازع پر ثالثی کے لئے آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ مشرق وسطیٰ کے بعد جنوبی ایشیا میں ایک بڑا انقلاب ہوگا جو اربوں عوام کی زندگیاں بدل دے گا۔