Friday, 18 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Amir Khakwani
  4. Hausion Nahi, Saudion Ke Sath Khare Hon

Hausion Nahi, Saudion Ke Sath Khare Hon

یمنی حوثیوں اور سعودی عرب کی جنگ میں پاکستان کو سعودی عرب کا ساتھ دینا چاہیے۔ یہ بہت سادہ اور واضح مساوات ہے۔ ایک طرف یمنی حوثی ہیں، ایک ملیشا، ایرانی پراکسی، جس کا اپنا مخصوص ایجنڈآ ہے جو اس کی خاطر خطے کے امن کو بھی تباہ کرنا چاہتی ہے، دنیا بھر میں وہ افراتفری چاہتی ہے۔ وہ ایرانی ایجنڈے اور پلان پر پورا عمل کرے گی، چاہے اس کی انہیں جو بھی قیمت ادا کرنا پڑی۔

یمنی حوثیوں کے نزدیک پاکستان کی ذرا برابر بھی اہمیت یا حیثیت نہیں بلکہ وہ پاکستان کو سعودی اتحادی ہونے کے ناتے اپنے دشمنوں کی صف میں شامل کرتے ہوں گے۔ اس لئے ہم پاکستانیوں کو بھی اس حوالے سے کلیئر ہوجانا چاہیے۔ ممکن ہے کسی کو سعودی قیادت سے کوئی مسئلہ ہو، کوئی اختلاف ہو، وہ کسی سعودی پالیسی سے ناخوش ہو۔ مگر یہ معاملہ مختلف ہے۔

یہ ایران اور سعودی عرب کی براہ راست لڑائی نہیں، جس میں ہمیں ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے، صلح کرانی چاہیے۔ یہ ایک باغی، جنونی، شدت پسند، تشدد پسند گروہ حوثی کا معاملہ ہے جو سعودی عرب کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، تیل کی عالمی سپلائی روکنا چاہتا ہے اور جو ان ڈائریکٹلی پاکستان کو بھی شدید نقصان پہنچانا چاہ رہا ہے۔

یہ صرف حوثیوں کی وجہ سے ہے کہ تیل دنیا بھر میں مہنگا ہو رہا ہے اور پاکستان میں بھی پچھلے چند دنوں میں تیس چالیس روپے مہنگا ہوگیا۔ ہم پاکستانیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر حوثی مزید آگے بڑھے، کامیاب ہوئے تو پاکستان میں پٹرول ساڑھے چار سو روپے فی لٹر سے بھی آگے چلا جائےگا۔ ایسا حکومت پاکستان کی وجہ سے نہیں بلکہ حوثیوں کی وجہ سے ہوگا۔

اس لئے بھائی لوگو اپنے مسلکی مسائل سے باہر آو۔ ویسے بھی حوثی اثنا عشریہ شیعہ نہیں بلکہ زیدی ہیں، وہ شدت پسند زیدی ہیں۔

مکرر عرض ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ میں پاکستان کو کھل کر، پوری طرح، پوری قوت کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ کھڑآ ہونا چاہیے۔

یہ بات کسی اگر، مگر، چونکہ چناچہ کے بغیر کہہ رہا ہوں۔

اس لئے کہ پاکستان کی بہتری اسی میں ہے۔ کسی پراکسی کی نسبت بے شک وہ آپ کے اپنے مسلک کی ہو، اسکے بجائے ایک منظم اسلامی ریاست کو سپورٹ کرنا چاہیے جو آپ کا ساتھی، سپورٹر ہو اور ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑا رہنے کو تیار ہو۔

ہم ایرانیوں پر، حوثیوں پر، عراقیوں پر، لبنان کے حزب پر اعتماد نہیں کر سکتے، حتیٰ کہ یہی بات شام کے بارے میں کہی جاسکتی ہے، قطر کے بارے میں، امارات کے بارے میں، بحرین کے بارے میں بھی۔

تاہم سعودی عرب پر اعتماد کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ ہمارا فطری اتحادی اور دیرینہ سپورٹر، دیرینہ ساتھی ہے۔

ہمارا سعودی عرب سے کوئی لینا دینا نہیں، اللہ نے تو ابھی تک ہمیں زیارات کا موقعہ بھی نہیں دیا ان شااللہ دے گا، کبھی کسی سعودی سفارت خانے گئے نہ ہی کبھی ارادہ ہے۔

ہمارا محور، مقصد اور سب کچھ پاکستان ہے۔ ہم پاکستان کے نقطہ نظر سے، اسی فریم آف ریفرنس ہی سے دنیا بھر کو دیکھتے، پالیسیوں کا تجزیہ کرتے اور رائے بناتے ہیں۔ ہر وہ چیز جہاں پاکستان کو فائدہ ہو اور وہ جائز بھی ہو ظلم نہ ہو، وہاں پر آنکھیں بند کرکے پاکستان کے ساتھ کھڑآ ہونا چاہیے۔ پوری قوت سے اسے سپورٹ کیا جائے۔

یہی ہم نے افغان طالبان بمقابلہ پاکستان کے منظرنامے میں کیا۔ یہی ہم نے امریکہ بمقابلہ ایران کے منظرنامے میں ایران کی سپورٹ سے کیا کہ وہاں ایران مظلوم تھا، اس کے ساتھ زیادتی تھی اور اس کے گرنے سے پاکستان بھی خطرے میں آنا تھا۔

اب یہی ہم حوثیوں اور سعودی عرب کے منظرنامے میں کہہ اور کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کی غیر مشروط سپورٹ کریں۔ یمنی حوثیوں کو، اس پراکسی کو پسپا ہونا چاہیے، شکست ملنی چاہیے، اسے پیچھے دھکیلنا چاہیے۔ پاکستان اپنے ریاستی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے جس حد تک آگے جا سکتا ہے جائے۔ اگر کھل کر سپورٹ کرنا مناسب ہو تو کھل کر کیا جائے، اگر درپردہ عسکری اور دیگر سپورٹ کرنا مناسب اور بہتر ہے تو یہ کیا جائے، مگر بہرحال اپنے دوستوں اور پرانے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا رہنا چاہیے۔ کل کو ہمارے اوپر مشکل وقت آیا، تبھی یہ ہمارے دوست بھی ساتھ نبھائیں گے۔

وما علینا الاالبلاغ۔