اکثر میں کافی لینے اب جناح سپر مارکیٹ ایف سیون میں کافی بینز کیفے جاتا ہوں کہ وہاں رش نہیں ہوتا۔ وہاں بڑے اچھے لڑکے ہیں ان سے دعا سلام ہوگئی ہے۔ مجھے اپنے بیٹوں کی طرح لگتے ہیں۔ جتنی دیر وہ کافی بناتے ہیں ان سے گپ شپ ہوتی رہتی ہے۔
آج کافی کا بل دے رہا تھا کہ ایک نوجوان لڑکا اندر آیا اور اس نے ان سے پوچھا یہاں کوئی کام ملے گا؟
وہاں موجود لڑکے نے کہا اس کے لیے اسے ایف 6 مرکز (سپر مارکیٹ) جانا ہوگا جہاں کافی بینز کا ہیڈآفس ہے۔
وہ لڑکا سن کر مایوس ہوا اور مجھے لگا وہ کافی دیر سے کسی سے پوچھتا ہوا وہاں تک پیدل پہنچا تھا۔ اب اسے نئی منزل کا بتایا جارہا تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا اسے F/6 میں کافی بینز کیفے کا کچھ علم نہ تھا۔ اس نے بیک پیک پیچھے لٹکایا ہوا تھا۔
اسے دیکھ کر مجھے لگا وہ پیاسا ہوگا اور شاید بھوکا بھی۔
میں اس وقت کافی کی ادائیگی کررہا تھا۔ میں نے پانی کی ایڈیشنل بوتل اور کچھ کھانے کی چیز اپنے بل میں ایڈ کرائی اور اس لڑکے کو پکڑا دی۔
وہ کچھ جھجکا تو اسے کہا ایک منٹ رکو۔ میں نے اس سائیڈ پر جانا ہے میں تمہیں ایف 6 کیفے پر ڈراپ کر دوں گا۔ کہاں تم پیدل ڈھونڈتے پھرتے رہو گے۔
جانا میں نے کسی اور سائیڈ پر تھا لیکن سوچا اس مسافر کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔ یہ بھی کسی ماں کا بچہ ہے جو شاید یہاں نوکری ڈھونے آیا ہے۔
وہ چپ کرکے وہیں بیٹھ گیا لیکن اس نے نہ پانی پیا نہ کچھ کھایا۔
میں نے کافی پکڑی۔ اسے لے کر باہر نکلا اور گاڑی کا فرنٹ دروازہ کھولا اسے کہا بیٹھیں۔
میں نے بیٹھتے ہی کچھ نہیں پوچھا کہ مجھے اندازہ تھا ہماری مائیں یہ کہہ کر بچوں کو شہر بھیجتی ہیں کہ بیٹا کسی سے کچھ لے کر کھانا یا پینا نہیں ہے۔ کسی اجنبی پر اعتبار بھی نہیں کرنا۔
وہ مجھ پر اعتبار کرکے گاڑی میں تو بیٹھ گیا تھا کہ اسے لگا منزل پر پہنچا دوں گا لیکن وہ ابھی بھی الرٹ سا بیٹھا تھا کہیں اس کے ساتھ واردات ہی نہ ہو جائے۔ اس نے ابھی تک پانی بھی نہیں پیا تھا نہ وہ کچھ کھایا تھا جو اسے کیفے سے لے کر دیا تھا۔
جناح سپر سے سپر مارکیٹ کی طرف جاتے ہوئے میں نے پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں؟
کہنے لگا میں گوجرانوالہ کے ایک گائوں سے کافی بینز پر نوکری لینے آیا ہوں۔
میں نے کہا گوجرانوالہ میں کافی بینز نہیں ہے۔ وہاں کوشش نہیں کی؟
کہنے لگا وہاں جگہ نہیں تھی۔
میں نے پوچھا آپ کا نام کیا ہے۔
بولا سٹفنس۔۔
مجھے لگا جیسے انگلش میں stiffness کہا ہو۔ میں نے دوبارہ پوچھا تو بھی یہی بتایا۔
میں نے کہا آپ کو اپنے نام کا مطلب علم ہے؟ بولا نہیں۔
میں نے پوچھا آپ کرسچین ہیں؟
بولا جی۔
کہنے لگا ماں نے روکا۔ سب نے کہا کہاں اسلام آباد میں رہو گے، کوئی جان پہچان بھی نہیں ہے۔ میں نے کہا کہیں بھی سو لوں گا۔ لیکن اب گھر سے باہر جا کر کچھ کرنا ہے۔
مجھے نومبر 1993 کے اپنے دن یاد آئے جب ہمارے لیہ میں بھائی سرور باجوہ نے پروفیسر لالہ میرو سے رقعہ لے کر دیا تھا کہ لاہور جا کر ان کے دوست سے مل لوں جو مجھے انگریزی اخبار میں جاب لے دیں گے۔ پوری رات لیہ سے لاہور بس پر سفر کیا تھا۔ لاہور بادامی باغ اڈے پر اتر کر ویگن پر سوار ہو کر چیرنگ کراس اتر کر اگلی صبح ان صاحب سے رقعہ سمیت ملا تھا۔ اگرچہ کام نہیں ہوا تھا۔
خیر وہ ایک الگ لمبی کہانی ہے۔
میرے پاس کوئی حوالہ اور رقعہ تو تھا۔
اس نوجوان کے پاس تو کسی کا رقعہ بھی نہیں تھا۔
مجھے اس نوجوان کے لہجے میں عیجب سا عزم نظر آیا جو سب کشتیاں جلا کر شہر آگیا تھا جہاں اس کا کوئی جاننے والا نہیں تھا اور اسے یہ بھی علم نہ تھا رات کو وہ کہاں سوئے گا۔
میں نے پوچھا آپ کتنے بھائی بہن ہیں؟
بولا پانچ ہیں۔ بہن چھوٹی ہے۔
میں نے پوچھا باپ کیا کرتا ہے؟
عجیب سی اداسی سے بولا وہ کچھ نہیں کرتا۔
مجھے اس نوجوان پر عجیب سا پیار آیا۔
میں نے گاڑی کیفے کے سامنے روکی۔ اسے کچھ دیر سمجھایا کہ اس نے کیا کرنا ہے۔ اپنا وزٹنگ کارڈ اسے دیا کہ اندر جا کر کیفے کے مینجر کو دو۔ اس کارڈ پر میرا موبائل نمبر بھی تھا۔
اسے اتار کر گاڑی آگے بڑھا دی اور سوچا اگر قسمت اسے گوجرانوالہ کے ایک گائوں سے سب کے منع کرنے کے باوجود یہاں تک لے آئی تھی اور اتفاقاََ میں اس وقت کیفے پر موجود تھا جب وہ وہاں پوچھنے آیا تو قسمت اس کا آگے بھی ساتھ دے گی۔
میں نے اسے کچھ اور کہنا چاہ لیکن پھر چپ رہا کہ کہیں وہ مشکوک ہی نہ ہو جائے کہ اس گاڑی والے کو مجھ سے اچانک اتنی ہمدردی کیوں ہوگئی ہے۔۔ کہیں یہ صاحب پھنسا ہی نہ دے۔۔
لیکن شام تک مجھے عجیب سی گلٹ محسوس ہوئی کہ مجھے اسے کچھ کیش بھی دینا چاہیے تھا کہ چلیں جب تک نوکری نہیں ملتی کچھ دن تو گزارہ کرتا۔ پتہ نہیں گھر سے ماں یا باپ نے کتنے پیسے دے کر بھیجا تھا۔ بلکہ گاڑی سے اتر کر مینجر صاحب سے خود ملنے جاتا اور اس کی سفارش کرتا۔
مجھے اس کے فیصلے اور بہادری پر رشک آیا جو سب کے منع کرنے کے باوجود رسک لے کر اپنے گائوں سے اسلام آباد پہنچ گیا تھا جہاں اس کی چند لمحوں کی ہی سہی پہلی واقفیت مجھ سے ہوئی تھی۔ وہ شہر جہاں وہ اپنی زندگی سنوارنےتو آیا تھا لیکن اپنے پیچھے بہت کچھ چھوڑ بھی آیا تھا۔ ہم سب نے کبھی ایسے ہی اپنے گھر اور گائوں چھوڑے تھے۔۔