سب پوچھتے ہیں ایک کامیاب معاشی ماڈل کیسا ہوتا ہے جہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی معاشی سرگرمی ہورہی ہو۔ مطلب پیسہ آرہا ہو یا جا رہا ہو۔۔ پیسہ سرکولیشن میں رہنا چاہئے۔
چلیں آج آپ کو پاکستان کے اس معاشی ماڈل کی چند مثالیں سمجھاتے ہیں۔
ہمارے ہاں ہر دوسرا بندہ مظلوم بنا پھرتا ہے کہ اس کا واٹس ایپ ہیک ہوگیا اور فراڈیے نے ہیک کرنے کے بعد اس کے دوستوں سے پیسے مانگ لیے اور اکثر نے بھیج بھی دیے۔ لیکن اس اجلاس میں دو گھنٹے گزارنے کے بعد جو بریفنگ این سی سی ائی اے کے اعلی پولیس افسر نے دی اس کے بعد مجھے کوئی شک نہیں رہا کہ وٹس ایپ بھی آپ کی اپنی مدد کے بغیر ہیک نہیں ہو سکتا۔
جس شخص کا وٹس ایپ ہیک ہوتا ہے، متاثرہ شخص اس کی سب تفصیلات خود فراڈیوں کو فراہم کرتا ہے اور الزام فراڈیوں کو دیتا ہے۔ حالانکہ وہ سب فراڈ اس کی لالچ یا حماقت کی وجہ سے ہوا ہے۔ فراڈیے کا بس اتنا کمال ہے اس نے ایک صحیح بیوقوف کا انتخاب کیا اور آپ نے اسے مایوس نہیں کیا۔ لہذا پہلا الزام خود کو دیں جو آپ نہیں لیتے۔ اپنی حماقت کا ذمہ دار بھی حکومت اور اداروں کو سمجھتے ہیں۔
تاہم سب سے زیادہ تکلیف دہ فراڈ وہ ہے جس میں متاثرہ شخص کسی کی کہانی میں ان پھنس کر ساری رقم خود اس کے دیے بنک اکاونٹ، جاز اکاونٹ یا ایزی پیسہ میں خود ٹرانسفر کرتا ہے اور جب تک اسے احساس ہوتا ہے فراڈ ہو چکا ہوتا ہے بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔
پھر وہ حکومت اور بینکوں کو الزام دیتا ہے۔ وہ خود کو کبھی اپنی حماقت کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا کہ اس نے خود ہے سب پیسہ OTP ڈال کر ٹرانسفر کیا ہے۔ ٹرانسفر کی وجہ کوئی بھی ہو۔
اب تو پاکستان میں تو رینٹ اے اکاؤنٹ بینک کھلے ہوئے ہیں۔ جس بندے کے نام پر اکاؤنٹ کھلتا ہے یا پہلے سے بینک اکاؤنٹ ہوتا ہے، اس کے ساتھ باقاعدہ ڈیل ہوتی ہے۔ اس اکائونٹ میں فراڈ کی رقومات ٹرانسفر ہوتی ہیں۔ بندے کو پتا ہوتا ہے کہ پکڑے گئے تو جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ وہ اس کا الگ سے پریمیم چارج کرتا ہے۔ اس فراڈ میں شریک سب افراد اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور پکڑے جائیں تو چند ماہ جیل میں گزار لیتے ہیں۔
آدھی قوم فراڈ پر لگی ہوئی ہے اور آدھی کیساتھ فراڈ ہو رہا ہے۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ "معاشی سرگرمی" ہو رہی ہے۔ آپ لُٹ رہے ہیں یا کسی کو لوٹ رہے ہیں۔
بھلا معاشی ترقی اور کسے کہتے ہیں کہ کچھ افراد کما رہے ہیں تو کچھ ان سے اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں۔ یوں سرمایہ ہاتھ بدلتا رہتا ہے، ایک جیب سے دوسری جیب۔ ہمارا یہی پاکستان کا اس وقت کامیاب معاشی ماڈل ہے۔ نوجوانوں کو روزگار ملا ہوا ہے۔
خوشی کی خبر ہے کہ اس ملک سے بیروزگاری ختم ہورہی ہے۔ آپ نے بس ایک فون، ایک سم اور ایک اپنے حصے کا بیوقوف ڈھونڈنا ہے۔