Thursday, 06 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Imran Khan Ki Qaid Ke Teen Saal

Imran Khan Ki Qaid Ke Teen Saal

آج عمران خان کو جیل میں تین سال ہوگئے ہیں۔ اس پر اسد عمر نے ٹوئٹ کیا اور بتایا عمران خان ایچسن کالج لاہور/اکسفورڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ، شوکت خانم ہسپتال اور نمل کالج کے بانی جیل میں ہیں، ان کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ انہیں رہا کیا جائے۔

مجھے کچھ حیرانی ہوئی اور ٹوئٹر پر کمنٹ کیا کہ ہم سب کی ہمدردیاں خان صاحب کے ساتھ ہیں کہ وہ جیل کی تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ لیکن کیا اسد عمر نے صرف ایچسن کالج، اکسفورڈ، نمل اور ہسپتال کا ذکر کیا جو وزیراعظم بننے سے پہلے کے کارنامے ہیں۔ وہ اس ملک کے تین سال وزیراعظم بھی رہے ہیں۔ ان کے اس دور کے فیصلوں /اچیومنٹس کا بھی آپ کے ٹوئٹ میں ذکر ہونا چاہئے تھا۔

اس پر تقریباََ پوری پی ٹی آئی ناراض ہوگئی اور کچھ نے تو گالی گلوچ شروع کر دی۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ یہ تو موقع ہے ان کے وزیراعظم کے طور پر گزرے تین سال کی اچیومنٹس کو پھیلایا جائے کیونکہ لوگ جلد بھول جاتے ہیں۔

کسی نے کہا آپ نے طنز کیا۔

میں نے کہا پہلے تو میں نے طنز نہیں کیا بلکہ سنجیدہ کمنٹ کیا تھا۔ اگر آپ کے نزدیک طنز بھی تھا تو بھی آپ لوگ سنجیدہ جواب دے کر تفصیلات ٹوئیٹ کر دیں۔

ہمارے مہربان دیوان سچل نے بھی کمنٹ کیا تو انہیں جواب دیا عمران خان کے حامیوں کے جذبات کی قدر اپنی جگہ لیکن ویسے اس ملک میں کون سی انہونی ہوگئی ہے اگر خان صاحب جیل میں ہیں؟ کیا خان صاحب کو سیاسی کنٹریکٹ پر دستخط کرنے سے پہلے علم نہ تھا کہ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان قتل، دوسرے وزیراعظم بھٹو پھانسی، تیسری وزیراعظم بینظیر قتل، چوتھا وزیراعظم نواز شریف دہشت گرد/چودہ سال سزا، پانچواں وزیراعظم گیلانی سات سال جیل، چھٹا وزیراعظم راجہ پرویز اشرف جیل، ساتواں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جیل، اٹھواں وزیراعظم شہباز شریف جیل، صدر زرداری جیل، مریم نواز جیل۔۔ بلکہ عمران خان جب وزیراعظم بنے تو یہ سب لوگ جیل میں رکھے ہوئے تھے۔

تو انہیں علم نہ تھا پاکستان میں سیاست کا کیا پیکج ہے؟

انہوں نے خود یہ راستہ چنا۔۔ ہم سب اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور ان کے فوائد اور نقصانات کا سامنا بھی خود کرتے ہیں۔ ہم اپنی خواہشات کے تابع ہیں۔ جو تخت کی خواہش رکھتے ہیں انہیں اس راستے میں بھٹو کی طرح بدقسمتی سے تختہ بھی ملتا ہے۔

جس جنرل ضیاء دور میں بھٹو پھانسی لگے، جنرل مشرف دور میں بینظیر بھٹو قتل ہوئیں، پی پی پی کے سینکڑوں سیاسی ورکرز شاہی قلعہ میں مر کھپ گئے، کرکٹ میدانوں میں سیاسی ورکرز /صحافیوں کو کوڑے مارے گئے ان دونوں فوجی ادوار کو عمران خان آج بھی بہتر سمجھتے ہیں۔ ان کے بیانات چیک کر لیں۔

گوتم بدھ سے پوچھا گیا تھا انسان کا سب سے بڑا دشمن کون ہے۔ جواب دیا تھا انسان کی اپنی خواہشات۔

ہم اپنی اپنی خواہشات کا پھل پاتے ہیں، کوئی وزیراعظم کی کرسی کا خواہشمند ہے تو اس کے یہاں کئی خواہشمند ہیں۔ ان میں ایک خان صاحب بھی ہیں۔ یہ سب کرسی کے عاشق ہیں۔

میدان سجا ہوا ہے، گھوڑا بھی ہے تلوار بھی جو بہادر ہے وہ یہ سوئمبر جیت کر بادشاہ بن جائے۔

یہ اقتدار کا کھیل ہے جس میں جان دینی بھی پڑتی ہے لینی بھی پڑتی ہے۔ خان کو موقع ملا تو اس نے ان سب کو جیل ڈال دیا تھا۔ انہیں موقع ملا تو انہوں نے خان کو جیل ڈال دیا۔ خان کو کبھی دوبارہ موقع ملا تو وہ ان سب کو جیل میں ڈال دے گا۔ یہ ان سب کا پسندیدہ کھیل ہے۔ برادر آپ ٹینشن نہ لیں۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.