Tuesday, 22 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Super March, Somnat, Mehangai Aur Inkishafat

Super March, Somnat, Mehangai Aur Inkishafat

پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور دیگر مطالبات پرمبنی جماعت اسلامی کا سپر ٹرین مارچ شروع ہوچکا۔ تادمِ تحریر سپر ٹرین مارچ حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر جلسہ پھڑکا کر آگے بڑھ گیا ہے۔ ایک اسلام آبادی صحافی نے خبردی ہے کہ "جماعت اسلامی نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوتی جن سے ملک یا شہریوں کو نقصان ہو"۔ اس سادگی تاریخ دانی اور خبریت تینوں کو سوا دو توپوں کی سلامی پیش کرنے کو جی چاہتا ہے تلاش کررہا ہوں کہ درہ آدم خیل میں کوئی مہربان دوست مل جائے تاکہ کرائے پر توپ حاصل کرکے عنداللہ ماجور ہوسکوں۔

ویسے آجکل اسلام آباد کے حاضر سروس اور سابق صحافی انکشافات کے ریکارڈز بنارہے ہیں۔ دو دن پہلے ایک سابق صحافی اور حاضر سروس سیاستدان نے انکشاف کیا کہ "اسٹیبلشمنٹ نے حافظ نعیم الرحمن کو کراچی کا میئر نہیں بننے دیا"۔ سید مشاہد حسین ترمذی باخبر آدمی ہیں صرف آج نہیں بلکہ ہمیشہ سے باخبر ذرائع سے قربت کے حامل رہے انہوں نے جو کہا وہ درست ہی ہوگا اور مطلب یہ لیا جائے کہ جسے کراچی کا میئر نہیں بننے دیا گیا وہ جماعت اسلامی کا مرکزی امیر بن گیا اور اب سڑکوں کی سیاست کرکے حساب چکا رہا ہے۔

ہمزاد فقیر راحموں پیر سید مشاہد حسین ترمذی سے متفق نہیں ہے۔ اس عدم اتفاق پر وہ جو کہانی سناتا ہے وہ بھی دلچسپ بلکہ باعث عبرت ہے۔ فقیر راحموں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کو کراچی کی شہری سیاست میں زندہ کرنے کیلئے ایم کیو ایم بہادرآباد کو بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے پر آمادہ کرنے والے کرداروں بارے ترمذی پیر بات کیوں نہیں کرتے؟ ہوسکتا ہے پیر ترمذی کا جواب یہ ہو کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی میں ہنی مون چل رہا تھا اس لئے داوپیچ کھیل کر پیپلز پارٹی کیلئے راستہ ہموار کیا گیا۔

معاف کیجے گا ہم بھی کیا باتاں لے کر بیٹھ گئے فی الوقت تو صورتحال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا سپر ٹرین مارچ بطرف لاہور از کراچی رواں دواں ہے۔ جماعت اسلامی کے حامی پہلے لاہور میں جمع ہوں گے پھر بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کیلئے نکلیں گے دیکھتے ہیں کہ اس سپر چولی مارچ کے پیچھے کیا ہے۔

ان دنوں وفاقی وزرا اور تحریک انصاف کے درمیان پی ٹی آئی کی 27 ستمبر سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کو لے کر تازہ بہ تازہ دھمکی آمیز بیانات کا مقابلہ جاری ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی دہشت گرد اسلام آباد آیا تو پھر واپس نہیں جانے دیں گے۔ دوسری جانب پنجاب میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ گزشتہ روز لاہور پولیس نے نقص امن کے خطرے کے باعث سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نیازی کو اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ اپنے گھر سے جمخامہ کلب جانے کیلئے نکلیں بعدازاں بتایا گیا کہ انہیں کوٹ لکھپت جیل پہنچا دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف نے اس گرفتاری کو کشیدگی بڑھانے کے ساتھ فسطائی نظام پر دھبہ قرار دیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ کو کون سمجھائے کہ فسطائی نظام خود دھبہ ہوتا ہے اس پر دھبہ نہیں لگتایا لگایا جاتا۔

ادھر کچھ وفاقی وزراء یہ بھی بتاتے دیکھائی سنائی دے رہے ہیں کہ دھرنوں سے ملکی معیشت کو یومیہ 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ خیر اسیے نفع نقصان کا حساب ہر حکومت بتایا کرتی ہے تحریک انصاف بھی اپنے دور اقتدار میں ایسا ہی نقصانی حساب رٹوانے کے ساتھ بتایا کرتی تھی کہ احتجاج کرنے والے ملک دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں دوسری جانب کنکریٹ اور گریڈیوں کے شہر اسلام آباد میں ایک بار پھر کینٹینر راج ہے ہرطرف کینٹینروں کی "لہر پہر" ہے۔

شہر اقتدار سے کچھ گرفتاریوں کی بھی اطلاعات ہیں یاد رہے کہ راولپنڈی کی خصوصی حفاظت کیلئے پہلے سے ہی انتظام کرلیا گیا ہے اور یہ انتظام مبلغ 6 ماہ کے لئے ہے۔ جماعت اسلامی کا سپر ٹرین مارچ منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ تحریک انصاف اپنی تحریکِ آزادی 27 ستمبر سے شروع کرنے جارہی ہے حکومت اپنی تیاریوں میں ہے میدان گرم ہوگا یا نہیں بس چنددن ہیں انتظار کیجے۔

تحریک انصاف کی تحریک آزادی کا سرنامہ کلام پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر خان کا یہ بیان بن گیا ہے کہ "ہم اسلام آباد کے سومنات جائیں گے اور ہرقیمت پر جائیں گے"۔ جنید اکبر خان نے مزید چند باتیں بھی کی ہیں لیکن اسلام آباد سومنات والی بات نے تھرتھلی مچادی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد سومنات پر چڑھائی کے وقت محمود غزنوی ثانی کون بنے گا جنید اکبر یا سہیل آفریدی؟ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ سومنات والا بیان بم کو لات مارنے کے مصداق ہے کچھ کی رائے یہ ہے کہ یہ درشنی بیان ہے تاکہ گرفتار کر لیا جائے۔

ان دونوں باتوں میں سے درست کونسی ہے اس پر سر کھپانے کی ضرورت نہیں البتہ ہمزاد فقیر راحموں کا کہنا ہے کہ سومنات پر سترہ اٹھارہ حملوں کی کہانیاں کتابوں میں موجود ہیں اس حساب سے تو "ہنوز دلی دور است" کے مصداق معاملہ لگتا ہے۔

ان ساری باتوں کے بیچوں بیچ سومنات والے بیان پر گو کہ جنید اکبر ایک وضاحت جاری کرچکے لیکن بیان سے ہوئے نقصان کا مداوا کچھ مشکل ہوگا کیونکہ ماضی کے حملہ آوروں کی پیروی کی خواہش یا شوق ہر دو غلط ہیں اس سے مقامیت کی توہین ہوتی ہے۔

تحریک انصاف کو حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا حق ہے لیکن اشتعال انگیز بیانات سے گریز کیا جانا چاہئے اسی طرح حکومت کو بھی کسی بھی جماعت کو دیوار سے لگانے کی پالیسی نہیں اپنانی چاہئے۔ اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ تحریک انصاف سے کچھ زیادتیاں ہورہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی تحریک انصاف کے درجنوں رہنما تین تین برسوں سے عبوری ضمانتوں پر ہیں۔ بہر حال جنید اکبر خان کے سومنات والے بیان پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے فقط افسوس پتہ نہیں ان دنوں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے انصافیوں کو غزنوی محمد بن قاسم ابدالی اور شیرشاہ سوری بننے کا شونق کیوں چُرایا ہوا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافے کی وجہ سے مہنگائی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج کی صورتحال کے باعث دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 80 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مقابلتاً پاکستان میں قیمتیں 50 فیصد بڑھیں نوجوان لہوری وفاقی وزیر اگر کرنسی کے شرع تبادلے کا حساب کتاب بھی ساتھ بتادیتے تو اچھا ہوتا۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں حکومتی قرضوں میں لگ بھگ انیس ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا جبکہ اس کے بعد کے پونے چار سال میں اٹھتیس ہزار ارب روپے کے قریب اضافہ ہوا ہے حالانکہ تجربہ کاروں کو تو بہتری کیلئے کوششیں کرنا چاہیں تھیں مگر ان تجربہ کاروں نے پونے چار برس میں (ان میں پی ڈی ایم والے سولہ ماہ بھی شامل ہیں) لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

عام آدمی کی اس وقت جو حالتِ زار ہے ایسی ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی لوگوں کیلئے دووقت چولہا جلانا مشکل تر ہوگیا ہے۔ مشاہدے میں ایسے سفید پوش خاندان ہیں جن کے گھروں میں چوبیس گھنٹوں میں ایک بار کھانا کھایا جاتا ہے وزیراعظم سمیت سارے نکے وڈے جس معاشی بہتری کا راگ الاپتے رہتے ہیں اس کے ثمرات عام آدمی تک کیوں نہیں پہنچ پائے۔ یہ بذاتِ خود ایک منہ چڑھاتا ہوا سوال ہے حرفِ آخر یہ ہے کہ کہیں بھی کچھ اچھا نہیں ہے غاخباً اسی لئے تحریک انصاف والے پرامید ہیں کہ لوگ جتنے تنگ ہیں اس کا فائدہ تحریک انصاف کی ستائیس ستمبر سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کو پہنچ سکتا ہے۔