Wednesday, 28 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Mehangai, Berozgari Aur Ghurbat Ki Sharah Mein Khatarnak Izafe

Mehangai, Berozgari Aur Ghurbat Ki Sharah Mein Khatarnak Izafe

سُنا ہے "ہمارے" وزیر اعظم (میاں محمد شہباز شریف) بہت "سادہ و کفایت شعار" ہیں تنخواہ بھی نہیں لیتے (یاد رہے تنخواہ بھی نہیں لیتے والی بات سنی سنائی ہے) کفایت شعاری مستحکم حاکمیت اور مساوات پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ملکی خزانے کے بے مصرف استعمال کو "پسند" نہیں کرتے مگر اس کا کیا کیجے کہ آپ کی کابینہ میں 31 وزرا 11 وزرائے مملکت 5 مشیر 8 معاونین خصوصی اور 18 کوارڈی نیٹر شامل ہیں (تعداد میں اونچ نیچ کی ذمہ داری راوی پر ہے ادارہ راوی کی روایت کا ہرگز ہرگز "ذمہ وار" نہیں۔

البتہ یہ سوال درست ہے کہ وزیروں، وزرائے مملک، مشیروں، معاونین خصوصی و کوارڈی نیٹرز کے اس لشکر کی کارکردگی کیا ہے؟ ہاں ان میں سے چند آستینیں اُلٹائے نجی چینلوں کے سیاپہ فروشی والے پروگراموں میں فریقِ مخالف کو"آڑے ہاتھوں" لیتے دیکھائی ضرور دیتے ہیں۔ یہ 73 رکنی لشکر رعایا المعروف عوام کے ٹیکسوں پر پل رہا ہے اس پالنے پوسنے کا "عوام" کو اب تک کیا فائدہ ہوا؟ فقیر راحموں تو کہہ رہا ہے کہ شاہ تم بس صاحبوں کی آنیاں جانیاں، گلاں باتاں اور ٹشن سے جی بہلاو، مہنگائی و بدحالی کے اس موسم میں جو ختم ہونے میں ہی نہیں آرہا ہم جی کیسے بہلائیں یہ بذات خود سوا سات روپے سکہ رائج الوقت کا سوال ہے۔

اچھا ایک ضمنی سوال بھی ہے وہ یہ کہ جس کفایت شعاری مستحکم حاکمیت (وہی گڈ گورننس کہتے ہیں جسے) اور مساوات پر وزیراعظم پختہ یقین رکھتے ہیں وہ اپریل 2022 سے اب اکتوبر 2026 تک عملی شکلیں لے پائی یا نہیں؟ لے پائی تو کہاں، نہیں لے پائی تو کیوں؟

ہمیں یاد ہے کہ جو لوگ آج اقتدار میں ہیں یہ اپریل 2022 سے قبل بڑے ٹشن مشن کے ساتھ ہمیں (یہاں ہم سے مراد ہم سبھی ہیں) بتایا کرتے تھے کہ ناتجربہ کاروں کی ٹیم نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے ان کی معاشی پالیسیوں نے مسائل کی فصلیں بو دی ہیں ہم اقتدار میں ہوتے تو یہ سب نہ ہوتا، لیکن عملی طور پر آج جو ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ مہنگائی نے لوگوں کی مت مار رکھی ہے یہ ہمارا دعویٰ نہیں بلکہ خود وفاقی حکومت کے ادارہ شماریات کے اعدادوشمار ہیں جن کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی شرح 11.85 فیصد سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔

بہت ادب اور احترام کے ساتھ ادارہ شماریات کے بابوؤں کے ان اعدادو شمار سے ہم متفق نہیں۔ عدم اتفاق کی وجہ فقط اتنی ہے کہ ایک عام شہری کے طور پر مجموعی گھریلو اخراجات کے الٹ پھیر سے جو حساب ہمیں سمجھ میں آتا ہے اس کے مطابق مہنگائی کی شرح 15.08 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ مثال کے طور پر ایل پی جی کا فی کلو سرکاری نرخ 283 روپے ہے اور اس وقت یہ فی کلو 580 روپے سے 650 روپے تک فروخت ہورہی ہے۔ دوسری سادہ مثال یہ ہے کہ ہری مرچ 125 روپے پاو پرچون میں فروخت ہورہی ہے پیاز 200 سے 220 روپے کلو ہیں آلو 65 سے 70 روپے کلو مبلغ 100 روپے کا جتنا ہرا دھنیا سبزی فروش دیتا ہے وزن کریں تو یہ آدھاپاؤ بھی نہیں بنتا۔

گزشتہ ہفتے کے دوران دودھ دہی دالوں کنگ آئل اور گھی کی قیمتیں بڑھیں ماہ اکتوبر میں اب تک انہی اشیا کی قیمتیں دوبار بڑھ چکیں برائلر مرغی کا گوشت 560 روپے سے 600 روپے کلو تک فروخت ہورہا ہے مٹن 3200 روپے بیف 1600 سے 1800 روپے فی کلو فروخت ہورہا یہ چند مثالیں ہیں سادہ الفاظ میں یہ کہ پرچون فروش ہوں یا آڑتھی سب بے لگام ہیں فقیر راحموں کے بقول "لگی کا داؤ ہے جسکا جتنا لگ گیا" یہی کڑواسچ ہے۔

حساب کتاب کا گورکھ دھندا یہ بتاتا سمجھاتا ہے کہ ایل پی جی کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 107 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 59 فیصد پٹرول 49 فیصد ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 43 فیصد اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ سے پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بے پناہ اضافے کا بوچھ شہریوں پر پڑا بھاری بھرکم پٹرولیم لیوی نے صارفین کا بُھرکس نکال دیا ہے۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ چند دن قبل ایک عالمی مالیاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں غربت کی شرح 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

لیکن اگر اس شرح کا ہمارے ہاں کے زمینی حقائق سے حساب کیا جائے تو یہ 43 فیصد کے قریب قریب ہے۔ دوسری جانب ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ وفاقی و چاروں صوبائی حکومتیں ہرسال جو کم از کم ماہانہ اجرتیں مقرر کرتی ہیں ان کا دو فیصد بھی اطلاق نہیں کرا پاتیں باقی کے اٹھانوے فیصد کا اطلاق قیامت کے بعد ہی ممکن ہے۔ ہمارے پاس ایک سادہ سا حساب ہے گزشتہ برس ہم دونوں (اہلیہ اور ہم) کی ادویات پر ماہانہ 11000 ہزار روپے خرچ ہوتے تھے۔ چند ادویات کی تبدیلی کے ساتھ اتنی ہی تعداد کی ماہانہ ادویات اب 15000 ہزار روپے میں آتی ہیں۔ خیال رہے کہ ان میں ہردوماہ بعد ڈاکٹر کی خدمت میں معائنہ کیلئے پیش کی جانے والی فی کس 4000 روپے فیس شامل نہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے تجربہ کار ماہرین معاشیات تین افراد کے کنبے کا ماہانہ بجٹ اس مقررہ سرکاری ماہانہ اجرت میں ہی بنا کر دیکھا دیں جو اٹھانوے فیصد لوگوں کو ملتی ہی نہیں۔

ہم سفرِ حیات کے 69 ویں برس کو چل بھگت رہے ہیں کم از کم ہم نے ایسی بدترین مہنگائی کبھی نہیں دیکھی ہاں ہم نے اسی سفر حیات کے دوران پانچ سے سات اور پھر دس روپے میں باعزت انداز میں ایک وقت کا سادہ سا کھانا پیٹ بھر کے کھایا اب تو فقیر بھی پانچ دس روپے منہ بناکر ایسے لیتا ہے جیسے دینے والے پر احسان عظیم فرمارہا ہو۔

بہر حال یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ تجربہ کاروں کی حکومت (دونوں ادوار یعنی پی ڈی ایم والے اور دوہزار چوبیس سے شروع ہوئے جاری دور) عام آدمی کی زندگی میں بہتری لاسکنے میں ناکام رہی ہے۔ ماچس کی ڈبیہ تک پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے بجلی کے بلوں میں چھ اقسام کے ٹیکس ہیں بدلے میں شہری کو حکومت کیا دیتی ہے ماسوائے وعدہ فردا کے ہماری دانست میں یہ سوال بنتا ہے "بادشاہ لوگوں" سے کہ رعایا کس کے در پر فریاد کرے کہ داد رسی ہوسکے؟

ممکنہ جواب یہ ہوسکتا ہے کہ خلیج کی ابتر صورتحال کے پوری دنیا پر منفی معاشی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ پاکستان بھی اسی دنیا میں واقع ہے مریخ پر ہرگز نہیں، لیکن یہ عرض کرنا ازبس ضروری ہے کہ معاشی دباو اور مہنگائی سے رعایا کو نجات دلانے یا بوجھ ہی کم رکھنے کی حکمت عملی کس نے وضع کرنا تھی تجربہ کاروں نے یا فرشتوں نے؟

بارِ دیگر عرض ہے آمدنی اور اخراجات کے عدم توازن سے پیدا ہوئی صورتحال نے رعایا کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ غربت کی شرح بھی بڑھ رہی اور بیروزگاروں کی تعداد بھی رعایا کے ان لوگوں کی حالت بہت پتلی ہے جو ذاتی مکان کی ملکیت نہیں رکھتے کرائے پر مقیم ہیں۔ تجربہ کاروں کو کچھ سوچنا بلکہ عملی کام کرنا ہوں گے مہنگائی غربت اور بیروز گاری میں کھڑکی توڑ اضاضے کے ساتھ آبادی میں بے ہنگم بڑھاوے کا آتش فشاں بھی پھٹنے کو اس لئے صرف باتوں اور لچھے دار تقریروں و دلفریب منصوبوں کی فروخت سے کارروبار مملکت نہ چلاتے رہیں بلکہ امراض کا درست اور بروقت علاج کیجے۔