Tuesday, 06 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Ilzamati Topon Ki Golabari

Ilzamati Topon Ki Golabari

حکمران اتحاد اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ ہردوجانب سے مخالف فریق پر ڈالا جارہا ہے لیکن مذاکرات کی ناکامی اس وقت ہی مسلمہ ہوگئی تھی جب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے مذاکراتی عمل کا حصہ بننے سے انکار کردیا تھا خیال رہے کہ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان نے سال بھر قبل حکومت سے مذکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری کو دیا تھا تب سے تحریک انصاف کے ذمہ داران یہ کہتے آرہے تھے کہ مذاکرات ہوں گے یا احتجاج فیصلہ یہی دوشخصیات کریں گی لیکن جب مذاکرات شروع ہونے لگے تو جناب اچکزئی روٹھ کر الگ سے جابیٹھے کیوں اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں۔

البتہ اس حوالے سے انہوں نے پچھلے تین چار دنوں میں جو کہا وہ سنجیدہ گفتگو کم اور جذباتی باتیں زیادہ ہیں ایسی ہی جذباتی بات وہ بھی ہے جو مسلم لیگ ن کے بعض رہنما کہہ رہے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس موقف کے حامی سابق پشتون قوم پرست اور حاضر سروس مسلم لیگی رہنما سابق سینیٹر زاہد خان بھی ہیں یہ مسلم لیگی رہنما یہ کہہ رہے ہیں کہ " محمود خان اچکزئی کی ڈوریں کابل سے ہلائی جارہی ہیں" اسی سے ملتی جلتی باتیں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیلئے بھی ہورہی ہیں وفاقی وزیردفاع نے تو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت و قیادت پر اس حوالے سے سنگین الزامات بھی عائد کئے بلکہ اب تو انہوں نے سہیل آفریدی کو مناظرے کا چیلنج بھی کردیا ہے سہیل آفریدی چیلنج قبول کرتے ہیں یا نہیں فی الوقت کچھ کہنا ممکن نہیں۔

اطلاعات یہ ہیں (تحریر نویس کا راویوں سے متفق ہونا ضروری نہیں) تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا حکومت کے بعض سرکردہ لوگوں کے شمالی سرحد کے پار رابطوں کی بازگشت مذاکرات کے دوادوار میں بھی سنائی دی سادہ لفظوں میں کہیں تو یہ کہ حکمران اتحاد کی مذاکراتی ٹیم میں شامل مسلم لیگی رہنما ہی نہیں بلکہ کسی حد تک وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی خواجہ محمد آصف (وفاقی وزیر دفاع) کے ہم خیال ہیں مذاکرات کی ناکامی کے بعد سے لیگی رہنما یہ کہتے دیکھائی دے رہے ہیں " دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ خیبرپختونخوا حکومت کابل اور کالعدم ٹی ٹی پی سے "بندھی" ہوئی ہے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تو اپنے اس موقف کو پھر دہرا دیا کہ " ان (خیبرپختونخوا حکومت) سے یہ پوچھا جانا چاہئے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے "۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے فقط یہی نہیں کہا بلکہ دوقدم آگے بڑھ کر ایک سنگین الزام بھی لگایا کہ تحریک انصاف کی پالیسی دہشت گردی کو فروغ دینا ہے۔

ہماری دانست میں مسلم لیگی وزرا خصوصاً خواجہ آصف اور عطا اللہ تارڑ کے الزامات انتہائی سنگین ہیں ان الزامات کی تحقیقات کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیشن بنایا جانا از بس ضروری ہے تاکہ سچ جھوٹ واضح ہو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر ہردورہنماؤں کے یہ بیانات محض نمبر ٹنگ پروگرام کا حصہ نہیں تو پارلیمانی قومی کمیشن بہر صورت بننا چاہئے مسلم لیگ ن کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس تحریر نویس کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن میں خیبرپختونخوا حکومت اور تحریک انصاف کے عدم تعاون اور مخالفانہ بیانات نے ان الزامات کو تقویت دی ہے کہ ان کی ڈوریاں افغانستان سے ہلائی جارہی ہیں۔

حکمران اتحاد سے مذاکرات کی ناکامی پر تحریک انصاف کے ذمہ داران کا موقف ہے کہ ہمیں حتمی فیصلے سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان سے مشاورت کیلئے جیل میں ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ان کے مطابق جب پارٹی ہی عمران خان کی ہے تو ان سے مشاورت کے بغیر ہم کیسے فیصلہ کرسکتے ہیں۔

جبکہ بعض حکومتی زعما کہہ رہے ہیں کہ سزایافتہ شخص کے پارٹی عہدے پر نہ رہنے اور سیاسی تقرریاں و بیانات نہ دینے کا اصول تحریک انصاف نے اپنے دور اقتدار میں متعارف کروایا تھا " غالباً ان کا اشارہ میاں نواز شریف کی نااہلی اور پھر انہیں مسلم لیگ ن کی صدارت سے ہٹائے جانے کے ساتھ ان کے بیانات وغیرہ کی نشرواشاعت پر پابندیوں کی جانب ہے بہرحال یہ واضح ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں بات بن نہیں پائی۔

وزیرداخلہ نے مذاکراتی عمل کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ اب بات نہیں ہوگی لانگ مارچ میں کسی قسم کے نقصان کی ذمہ داری مارچ کرنے والوں پر ہوگی پیپلز پارٹی کی سینیٹر اور مذاکراتی کمیٹی کی ایک رکن محترمہ شیریں رحمٰن کا کہنا یہ ہے کہ طرفین میں معاہدے پر اتفاق ہوگیا تھا لیکن بعد میں پی ٹی آئی نے انکار کردیا، پی ٹی آئی کے انکار کی مختلف وجوہات بیان کی جارہی ہیں بڑی وجہ دو ہی ہیں اولاً یہ کہ تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کو اپنی صوبائی حکومت کی تائید دینے سے گریزاں ہے ثانیاً پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کے بغیر فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتی۔

دوسری جانب تحریک انصاف کا لانگ مارچ اتوار 4 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں سے ایک ضلع لکی مروت سے شروع ہوچکا ان سطور کی اشاعت تک مارچ کے شرکا کوہاٹ پہنچ چکے ہوں گے ممکن ہے کویاٹ سے بطرف پشاور روانہ ہوں اس لانگ مارچ کی قیادت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کررہے ہیں جو پشاور سے لکی مروت سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچے وفاقی حکومت کے بعض زعما گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی اور وزیرداخلہ محسن نقوی سہیل آفریدی کے سرکاری ہیلی کاپٹر میں لکی مروت لانگ مارچ میں شرکت کیلئے جانے کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

یاد رہے اس عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ لانگ مارچ کیلئے حکومتی وسائل استعمال نہ کئے جائیں دیکھنا یہ ہے کہ لانگ مارچ میں شرکت کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر " کون " توہین عدالت کی درخواست لے کر اسلام آباد ہائیکورٹ جاتا ہے ادھر اسلام آباد میں حکمران اتحاد کی باہمی مشاورت جاری ہے بعض راوی دعویدار ہیں کہ پیپلز پارٹی لانگ مارچ کے پرتشدد ہونے کی صورت میں خیبرپختونخوا میں آئینی اقدامات کی حمایت پر آمادہ ہوچکی۔

یہ راویان بلاول بھٹو کے اتوار 4 اکتوبر کو اخبارات کی زینت بننے والے ایک بیان کو اپنی روایت کی تصدیق میں پیش کررہے ہیں کیا پیپلز پارٹی آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات و فرائض معطل کرنے کی حمایت کریگی؟ یہ کہ کیا ایمرجنسی اور گورنر راج نئے مسائل کو جنم دینے کا موجب نہیں بنیں گے؟ ہماری دانست میں ہرقدم سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہے ایڈونچر کا جواب ایڈونچر سے دینا غلط ہوگا ہمزاد فقیر راحموں کافی دیر سے ایک پرانے پنجابی نغمے کا یہ ٹکڑا الاپ رہا ہے " ڈولی چڑدیاں ماریاں ہیر چیکاں"۔