Tuesday, 06 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Muhammad Irfan Nadeem
  4. Universities Mein Tarjuma Quran Ki Tadrees: Sawal o Khadshat

Universities Mein Tarjuma Quran Ki Tadrees: Sawal o Khadshat

دو سال قبل ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں کی مختلف ڈگری کلاسز کے لیے "انڈرسٹینڈنگ آف قرآن" کے نام سے ایک باقاعدہ کورس متعارف کروایاتھا۔ اس کورس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ طلبہ اپنی متعلقہ ڈگری کے ساتھ قرآن فہمی کی بنیادی صلاحیت بھی حاصل کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے آٹھ جلدوں پر مشتمل ایک نصاب مرتب کیا گیاتھا جسے یونیورسٹیوں میں شامل کرنے کے لیے باقاعدہ ہدایات اور نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تھے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عملی طور پر اس کے نتائج کیا سامنے آرہے ہیں؟ کیا طلبہ واقعی قرآن فہمی کے اہل ہو رہے ہیں؟ کیا نسل نو اس نصاب کے ذریعے قرآن کے قریب آرہی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ طریقہ تدریس انہیں قرآن کے قریب کرنے کے بجائے دورکرنے کا سبب بن رہا؟ کیا یہ نصاب طلباء کو ایک اضافی تعلیمی بوجھ محسوس ہورہا ہے؟ کیا زبان سکھانے کے لیے وضع کیا گیا ایک طریقہ قرآن فہمی جیسے پیچیدہ علمی عمل کے لیے بھی اتنا ہی مؤثر ثابت ہو رہاہے؟

دنیا میں زبان سیکھنے کے دو معروف طریقے رائج ہیں، ڈائریکٹ میتھڈاور اِن ڈائریکٹ میتھڈ ڈائریکٹ میتھڈمیں زبان کو اسی زبان کے ذریعے سمجھایا اور سکھایا جاتا ہے۔ ترجمہ کم سے کم کیا جاتا ہے۔ طالب علم الفاظ، جملوں، گفتگو، سماعت اور عملی مشق کے ذریعے زبان سیکھتا ہے۔ مثلاً انگریزی سکھاتے ہوئے استاد اردو میں معنی بتانے کے بجائے انگریزی کتاب دکھا کر کہتا ہے This is a bookیوں طالب علم زبان کو براہِ راست سمجھنے اور استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح عربی زبان سکھاتے ہوئے استاد عربی لفظ یا جملے کا اردو ترجمہ کرنے کے بجائے براہ راست عربی میں سکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے برعکس اِن ڈائریکٹ میتھڈ میں زبان سیکھنے کے لیے مادری زبان، ترجمہ، قواعد اور تشریح کو ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ طالب علم پہلے اپنی زبان میں الفاظ کے معنی، قواعد اور جملوں کی ساخت کوسمجھتا ہے، پھر دوسری زبان کو پڑھنے، سمجھنے اور استعمال کرنے کی طرف بڑھتا ہے۔ مثلاانگریزی کا یہ جملہ This is a book پہلے اردو میں ترجمہ کرکے اس کا مفہوم اور قواعد سمجھائے جاتے ہیں پھر اسے سیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح عربی زبان سکھاتے ہوئے استاد پہلے عربی جملے کا اردو ترجمہ کرتا ہے، پھر اس کا مفہوم اور قواعد سمجھائے جاتے ہیں اور اس طرح زبان سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ڈائریکٹ میتھڈ میں طالب علم کو نئی زبان کا ماحول براہِ راست فراہم کیا جاتا ہے۔ استاد کوشش کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ گفتگو، سوال جواب، اشیا کی شناخت اور تصورات کو تصویروں، اشاروں اور روزمرہ کے جملوں کے ذریعے سمجھایا جائے۔ اس میں الفاظ، تصورات اور اشیاء کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ طالب علم نئی زبان کو اپنی مادری زبان میں ترجمہ کیے بغیر براہِ راست سمجھنے اور استعمال کرنے کی عادت پیدا کرے۔ اس کے برعکس اِن ڈائریکٹ میتھڈ میں مادری زبان ایک واسطے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ سادہ الفاظ میں ڈائریکٹ میتھڈ زبان کو استعمال کرتے ہوئے زبان سکھاتا ہے جبکہ اِن ڈائریکٹ میتھڈ زبان کے بارے میں سمجھا کر زبان سکھاتا ہے۔ ڈائریکٹ میتھڈ میں سماعت اور گفتگو پر زیادہ زور ہوتا ہے جبکہ اِن ڈائریکٹ میتھڈ میں قواعد، ترجمہ، مطالعہ اور تجزیہ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔

ڈائریکٹ میتھڈ بظاہر زبان سیکھنے کا ایک فطری اور آسان طریقہ دکھائی دیتا ہے لیکن عملی اعتبار سے یہ عام طالب علم کے لیے نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طالب علم کو نئی زبان کے الفاظ، محاورات، تراکیب اور روزمرہ کے جملوں کا ایک وسیع ذخیرہ الفاظ رٹنا پڑتا ہے۔ چونکہ مادری زبان ترجمے اور فوری وضاحت کے لیے کم استعمال ہوتی ہے اس لیے طالب علم کو بہت سے الفاظ کو یاد کرکے اور رٹا لگا کر بطور وکیبلری اپنے ذہن میں محفوظ کرنا پڑتا ہے۔ جب تک اس کے پاس مناسب vocabularyموجود نہ ہو وہ نہ استاد کی گفتگو کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے اور نہ اپنے خیالات کو نئی زبان میں بیان کر سکتا ہے۔ یوں اس طریقہ کے مطابق زبان سیکھنے کے ابتدائی مرحلے میں ہی الفاظ کا اچھا خاصا ذخیرہ تیار کرنا پڑتا ہے جو ایک عام طالب علم کے لیے بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت طالب علم کو لفظ کا صرف معنی ہی نہیں بلکہ اس کا استعمال، تلفظ، جملے میں مقام، مختلف سیاق میں مفہوم اور متعلقہ تراکیب بھی سیکھنی پڑتی ہیں۔ ایک عام طالب علم کے لیے اتنا وسیع ذخیرہ جمع کرنا اور اسے مسلسل استعمال میں لانا آسان کام نہیں ہوتا۔ اس طرح اس طریقہ کار میں زبان کا عملی ماحول تو پیدا کیا جاتا ہے لیکن اس ماحول سے فائدہ اٹھانے کے لیے پہلے سے ایک مناسب لسانی ذخیرہ اور وکیبلری کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اِن ڈائریکٹ میتھڈ میں مادری زبان ایک پہلے سے تیار شدہ علمی و لسانی بنیاد فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے نئی زبان کے الفاظ، قواعد اور مفاہیم نسبتاً آسانی سے سمجھے جا سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے عام طالب علم کے لیے اِن ڈائریکٹ میتھڈ زیادہ سہل اور قابلِ رسائی قرار دیا جا تاہے۔

ڈائریکٹ میتھڈ کے بارے میں عموماً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ روایتی ترجمہ اور قواعدی طریقہ تدریس کے مقابلے میں رٹنے کے رجحان کو کم کرتا ہے کیونکہ اس میں زبان کو براہِ راست استعمال، مشاہدے، سوال و جواب اور عملی مشق کے ذریعے سکھانے پر زور دیا جاتا ہے۔ تاہم قرآنِ مجید کی تدریس میں اس طریقے کے عملی اطلاق کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ طریقہ رٹنے کے مسئلے کو ختم کرنے کے بجائے اسے ایک مختلف شکل دے دیتا ہے۔ ایک طرف یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس طریقہ کار کے تحت طالب علم زبان کو قدرتی انداز میں سمجھے اور محض قواعد اور ترجمے پر انحصار کرنے کے بجائے براہ راست قرآن سمجھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن دوسری طرف جب طالب علم کے پاس پہلے سے مطلوبہ لسانی ذخیرہ موجود نہ ہو تو اسے اسی ذخیرے کو حاصل کرنے کے لیے بڑی تعداد میں الفاظ اور تراکیب یاد کرنی اور رٹا لگانی پڑتی ہیں۔ چنانچہ رٹا سسٹم ختم ہونے کے بجائے بس اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔

(باقی اگلے کالم میں)