Friday, 11 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Ronaq Mela Ke Dhanday

Ronaq Mela Ke Dhanday

لیجے پھٹے چُک ڈھمکیری باز یوٹیوبرز اور آستانہ عالیہ آبپارہ شریف کے سدھائے ہوئے کھوجی پتر کاروں کے صدر مملکت آصف علی زرداری کے ملک سے فرار، جلاوطنی اور سیاسی عمل سے خاموش کنارہ کشی وغیرہ وغیرہ والے سارے دعوے ہوا ہوئے اور آصف علی زرداری اپنے بیرون ملک دورے کی مدت میں دودن کی کمی کرکے وطن واپس پہنچ چکے فقیر راحموں چونکہ خواجہ آصف سے ناراض ہے اس لئے دعویدار یوٹیوبرز سوشل میڈیا بازوں اور سدھائے ہوئے پتر کاروں کے لئے ان کے مخصوص جملے کو نہیں اچھالنا چاہتا ایک یو ٹیوبر سیاستدان نے تو منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا " اگر زرداری ملک میں واپس آگیا تو میرا منہ کالا کردینا " اس سے حساب کیسے ممکن ہوگا وہ تو امریکا میں مقیم ہے

چلیئے آگے بڑھ لیتے ہیں زرداری والے قصے میں نئے لندن پلان کی باتوں کا رنگ بھرنے والے پتہ نہیں کہاں کھو گئے ان کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا زرداری اور نواز شریف کی لندن میں ملاقات نہیں ہوئی بہر حال یہ پتہ نہیں کہ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا بازوں کی عطا کردہ سنہری جلاوطنی زرداری نے ملاقات کیلئے لندن پہنچنے والے سینیٹر محسن نقوی کی درخواست پر ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی یا بلاول کی مبینہ منگنی نہ ہوسکنے کی وجہ سے یہ اہم سوال ہیں امید کی جانی چاہئے کہ یوٹیوبرز سوشل میڈیا بازوں اور سدھائے ہوئے پترکاروں کیلئے ان سوالوں میں جوابات کے خزانے چھپے ہوئے ہیں وہ چاہیں تو چنددن مزید رونق میلہ لگا کر دال روٹی کماسکتے ہیں اور منہ کالا کرنے کی نئی پیشکش بھی کرسکتے ہیں

انجمن تعمیراتِ نئے صوبہ جات کے صدر سینیٹر محسن نقوی اور سیکرٹری جنرل میاں محمد عامر کے ساتھ ساتھ ان دنوں درانی طیارہ کی پبلک سروس جاری ہے سندھ اسمبلی سندھ کی وحدت کو ناقابل تقسیم قرار دینے کی قرارداد منظور کرچکی پنجاب اسمبلی کی نئے صوبوں والی ماضی میں منظور کی گئیں دوقراردادوں بارے وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللہ کہتے ہیں وہ قراردادیں آنجہانی ہوچکیں اب ان کا ذکر وقت کا ضیاع ہے

ضیاع پر یاد آیا ہمارے ہاں ایک جنرل ضیا الحق ہوا کرتے تھے پانچ جولائی 1977ء کو انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں تیسرا مارشل لاء نافذ کیا گیارہ سال ایک ماہ اور بارہ دن اقتدار پر قابض رہے کشتوں کے پشتے لگائے پاکستان کو امریکا و سویت یونین کی افغان جنگ میں گردن تک پھنسایا پنتالیس برس سے کچھ اوپر وقت ہوگیا ہماری گردن وہیں پھنسی ہوئی ہے جنرل صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان قومی اتحاد کے تعاون سے پھانسی پر چڑھانے کے علاوہ بھی ملک و ملت اور امتِ مسلمہ کیلئے بے پناہ خدمات سرانجام دیں اور یہ ساری خدمات جن کیلئے سرانجام دیں " انہوں " نے اگست 1988 کی ایک سپہر میں ان کا سی ون تھرٹی فضا میں اُڑوادیا

انہی جنرل صاحب نے اپنے راج پاٹ کے ایک دن ملتان میں کہا تھا

" سیاستدان دُم ہلانے والے کتے ہیں ہڈی ڈالوں گا تو دُم ہلاتے چلے آئیں گے " وہ کہتے ہیں نا بڑے بول رسوا کرتے ہیں آجکل انہی جنرل ضیاالحق کے دوعدد صاحبزادگان سیاستدان ہیں بڑے صاحبزادے ہر حکومت کے خدمت گار و وفادار رہتے ہیں بات صوبوں سے شروع ہوئی اور تیسرے فوجی آمر جنرل ضیاالحق کی سمت مُڑ گئی ایسا اس لئے ہوا کہ یہ سطور لکھتے ہوئے طالبعلم کو یاد آیا کہ جنرل ضیاالحق کے دور میں مولانا ظفر انصاری کا بتیس صوبوں والا فارمولا سامنے آیا تھا یار لوگ جب بھی راولپنڈی و اسلام آباد کے دوآستانوں کے گدی نشینوں کی نگاہِ کرم کے خواہش مند ہوتے ہیں ظفر انصاری فارمولے کو اپنے اپنے اندازِ بیاں میں پیش کرنے لگتے ہیں

خدا بخشے مرحوم انصاری صاحب کو بھلے مانس آدمی تھے سادہ خوراک سادہ لباس شیروانی سمیت کے شوقین تھے اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے ایسے کہ رہے نام خدا کا انجمن تعمیراتِ نئے صوبہ جات کے صدر سیکرٹری جنرل اور درانی "طیارے" کے مالک میں سے کون مولانا ظفر انصاری کا جانشین بننا چاہتا ہے اور بنے گا اس بارے بھی یوٹیوبرز سدھائے ہوئے پترکار اور سوشل میڈیا باز چاہیں تو چنددن اپنا دھندہ چلاسکتے ہیں

امریکا اور ایران حالت جنگ میں ہیں اس تنازعے کو لے کر دوعدد جماندرو سینئر تجزیہ کاروں کی ایک نجی چینل پر جھڑپ دیکھنے سننے والی تھی ایک دوسرے کو پھبتیاں کسنے والے ان جماندرو سینئر تجزیہ کاروں کو کون سمجھائے کہ جگت بازی کو تجزیہ نہیں کہتے خیر ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا کی انجمن سیاپہ فروشان کے رکن رکین ہوں یا دستاب ملکی علاقائی و عالمی امور کے تجزیہ کار سبھی جگت بازی پہ مہارت رکھتے ہیں خیر جانے دیجئے ہم اصل مُدے پر بات کرتے ہیں امریکا ایران جنگ جاری ہے اور اس جنگ کے ایک طرح کے نتائج وہ ہیں جو کرہ ارض پر بسنے والے تقریباً سبھی لوگ بھگت رہے ہیں یہ نتائج معاشی گراوٹ کے طور پر ہمارے سامنے ہیں تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے شرق و غرب کے ممالک میں مہنگائی کا ننگا ناچ شروع ہوچکا دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ امریکا ایران پر حملے کرتا ہے ایران جواباً خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتا ہے (اسرائیل حسب سابق اپنا " کام " جاری رکھے ہوئے ہے) چاردن میں ایران میں رجیم چینج کرنے کا منصوبہ لے کر چڑھ دوڑنے والے اب بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں زمانہ جنگ میں جھوٹ دھمکیاں دعوے اور دھول خوب بکتے ہیں اور خوب بک رہے ہیں صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر شوشے چھوڑتے ہیں ایرانی جواباً چنا چور گرم کی صدا لگاتے ہیں جنگ جاری ہے نتائج ہم اور آپ کیا پوری دنیا بھگت رہی ہے جنگ مزید جاری رہی (بظاہر اس کے خاتمے کا امکان نہیں ہے) تو مسائل بڑھیں گے مہنگائی کا شکنجہ مزید سخت ہوگا ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کی کمزور معشتیں ڈوبنے کے خطرات بڑھتے جائیں گے خام تیل کی قیمت 160 ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہے ایرانی 200 ڈالر فی بیرل کی پیشنگوئی کررہے ہیں ہر جنگ کی طرح اس جنگ کا حتمی نتیجہ مذاکرات ک میز پر بُنا جانا ہے تو دیر کیوں؟ یہ بھی رونق میلے اور دھندہ چلانے کا سوال ہے یوٹیوبرز سدھائے ہوئے پتر کاروں اور سوشل میڈیا بازوں کو اس پر توجہ دینا چاہئے اللہ کرم کرے گا

پاکستان تحریک انصاف اپنے بانی و سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی ملک کی آزادی چوروں کی فارم سنتالیس والی حکومت کے خاتمے آزاد عدلیہ کی بحالی سمیت متعدد مطالبات کے حق میں 27 ستمبر سے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے جارہی ہے ستائیس ستمبر سے شروع ہونے والی پی ٹی آئی کی اس تحریک میں جے یو آئی ف کو شامل کرنے کیلئے کوششیں ہورہی ہیں اسی تحریک کے حوالے سے خیبرپختونخوا میں قائم تحریک انصاف کی حکومت کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی متعدد وزرا اور ساتھیوں سمیت گزشتہ دنوں سندھ میں رابطے عوام مہم چلاتے رہے کراچی میں انہوں نے کہا کہ اگر اہلیان کراچی دس پندرہ دن کیلئے کراچی کو بند کردیں تو حکومت عمران خان کو ہاتھ جوڑ کر رہا کردے گی سوال یہ ہے کہ صرف کراچی ہی کیوں دس پندرہ روز کیلئے بند ہو پشاور لاہور کوئٹہ کیوں بند نہیں ہونے چاہئیں؟ اصولی طور پر " سب بند " پروگرام پشاور سے شروع ہونا چاہئے پی ٹی آئی کی ستائیس ستمبر سے شروع ہونے والی تحریک ایم آر ڈی کی 1983 والی تحریک کا ریکارڈ توڑ پاتی ہے ہم پلہ رہتی ہے یا ناکام ہوتی ہے اس کا فیصلہ ستائیس ستمبر کو ہی ہوجائے گا اس وقت تحریک انصاف کے پاس اپنے کارکنوں و ہمدردوں کے علاوہ ایم ڈبلیو ایم اور محمود خان اچکزئی کے کارکن ہیں (محمود خان اچکزئی کے کارکن بلوچستان کے پشتون علاقوں کے علاوہ کراچی اور خیبرپختونخوا میں ہوسکتے ہیں) اگر پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمٰن کو اس احتجاجی تحریک میں شرکت پر آمادہ کرلیتی ہے (جسکا کہا جارہا ہے) تو رونق میلہ لگ ہی نہیں بڑھ بھی سکتا ہے

تادم تحریر اطلاعات یہ ہیں کہ جے یو آئی متحدہ اپوزیشن میں اپنی شرکت کو پارلیمان تک محدود رکھنا چاہتی ہے بہرحال ستائیس ستمبر میں ابھی سولہ دن پڑے ہیں ان سولہ دنوں میں کچھ بھی ہوسکتا ہے البتہ پی ٹی آئی کا جمہوری و قانونی حق ہے کہ اپنے مطالبات کے حق میں عوامی تحریک منظم کرے حکومت کو چاہئے کہ فہرستیں بنوانے اور پی ٹی آئی کے کارکن اٹھوانے کی حکمت عملی نہ اپنائے مگر اس کا کیا کیجے کہ خود بعض حکومتی زعما نجی محفلوں میں یہ اعتراف کرتے دیکھائی دیتے ہیں کہ " مہنگائی اور دوسرے مسائل سے پریشان شہری تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک میں معاون بن سکتے ہیں " غالباً یہی وہ خطرہ ہے جس سے نمٹنے کیلئے پنجاب میں تحریک انصاف اور ایم ڈبلیو ایم کے حامیوں کے ساتھ حکومتی پالیسیوں سے نالاں مختلف الخیال شہریوں کی فہرستیں بنانے کی اطلاعات مل رہی ہیں