Saturday, 05 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Mangni Melay Se Shutter Down Hartal Tak

Mangni Melay Se Shutter Down Hartal Tak

اُن یوٹیوبرز سوشل میڈیا مچونوں اور بعض جیالوں سے اجتماعی افسوس بنتا ہے جو ہفتہ بھر تک سوشل میڈیا پر بلاول بھٹو کی منگنی کے قصے سناتے رہے۔ چند ایک نے بلاول اور ان کی مبینہ منگیتر کی چائے پر ملاقات کی ایک تصویر بھی شیئر کردی۔ منگنی کی خبر کو تصویر نے خوب "رنگ لگائے"۔ ہفتہ بھر تک منگنی رونق میلہ جاری رہا مزید جاری رہتا لیکن بلاول بھٹو نے ایک ویڈیو بیان میں تردید کردی منگنی رونق میلہ اُجڑ گیا میلہ اُجڑنے پر بڑے بڑے پھنے خان یوٹیوبرز و مچونے اور چند جیالوں کی پھیکی ہنسی دیکھنے والی تھی۔

حالیہ منگنی میلے سے قبل بھی دوبار منگنی میلہ لگانے کی کوشش ہوئی لیکن رونق نہ لگ پائی۔ خیر اسی دوران ففتھ جنریشن وار کے سابق مجاہدین کے سوشل میڈیا اکاونٹس سے بلاول کے بارے منفی پوسٹیں شروع ہوگئیں۔ ففتھ جنریشن وار کے یہ سابق لشکری آجکل مجاہدین انصاف بنے ہوئے ہیں یہ وہی ففتھ جنریشن وار مجاہدین ہیں جنہوں نے 2012ء سے 2018ء کے درمیان بلاول اور اس کی بہنوں کے خلاف سوشل میڈیا پر غلیظ مہم چلائی تھی۔ بہرحال منگنی رونق میلہ اُجڑ نے کے بعد گزشتہ روز پیپلز پارٹی کی زرداری اور بلاول گروپس میں تقسیم کی خبر سے نیا میلہ لگانے کی کوشش ہورہی ہے دیکھتے ہیں اس کا انجام کیا ہوگا۔

البتہ نیا میلہ لگانے والے دعوے دار ہیں کہ بلاول اپنے والد کی مفاہمتی سیاست سے جدا موقف رکھتے ہیں یہ ویسا ہی دعویٰ ہے جیسا مہینہ بھر پہلے صدر مملکت آصف علی زرداری کو استعفیٰ دینے کے "حکم" کے طور پر کیا گیا تھا اس دعوے نے چند روز سوشل میڈیا پر خوب "رش" لیا پھر پھلم فلاپ ہوگئی۔ ستم یہ ہے کہ اس فلاپ پھلم میں چند "معزز" صحافیوں نے بھی سرمایہ کاری کی تھی ان "معززین" میں سے ایک نئی پھلم یعنی پیپلز پارٹی میں بلاول اور زرداری گروپس بننے پر سرمایہ کاری کررہے ہیں دیکھتے ہیں یہ بنڈل پھلم کتنے دن سوشل میڈیا کے سینما گھروں پر چل پاتی ہے۔

اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کیلئے برطانوی ہاوس آف لارڈ کے ممبر زیک گولڈ سمتھ کی جانب سے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے خط کے جواب سے گولڈ سمتھ فیملی مایوس ہوئی ہے۔ زیک گولڈ سمتھ عمران خان کے سابق برادرِ نسبتی (سالے) ہیں انہوں نے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل سے اپیل کی تھی کہ عمران خان کے حوالے انسانی حقوق کی پامالی پر دولت مشترکہ پاکستانی حکومت سے بات کرے اب زیک گولڈ سمتھ نے دولت مشترکہ کے جواب کو مایوس کن قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ زیک گولڈ سمتھ کی تحریک (کوششوں) پر ہی دنیائے کرکٹ کے سابق 21 کپتانوں نے ہفتہ بھر قبل حکومت پاکستان کو ایک مشرکہ احتجاجی مراسلہ بھیجا تھا۔ اس مراسلے میں عمران خان کی کرکٹ کیلئے طویل خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات واپس لینے طبی سہولتوں کی فراہمی اور رہائی کی اپیل کی گئی تھی۔ کہا جارہا ہے کہ زیک گولڈ سمتھ کی سپانسر شپ پر ہی کرکٹ میچ کے دوران ٹی وی چینل پر عمران خان کے صاحبزادوں کا انٹرویو نشر کیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم عمران کی رہائی کیلئے ان کے بیرون ملک مقیم حامی بالخصوص ان کے دور میں اہم حکومتی منصبوں پر فائز رہنے والے بطور خاص سرگرم عمل ہیں۔ ان میں سے ایک صاحب تو پچھلے تین برسوں کے دوران عمران خان کی رہائی کی دو درجن تاریخیں بھی دے چکے۔ بہر طور یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ عمران خان اور ان کے دیگر گرفتار ساتھیوں کو جیل قوانین کے مطابق طبی سہولتوں کی فراہمی ازبس ضروری ہے ملاقاتوں پر غیراعلانیہ پابندی ختم ہونی چاہئے۔

وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ بتارہے ہیں کہ تحریک انصاف نے وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا۔ تحریک انصاف کا موقف ہے کہ سینکڑوں جعلی مقدمات بنانے اور درجنوں مقدمات میں پارٹی رہنماوں و کارکنوں سزائیں دلوانے والی حکومت سے بات چیت کا کیا فائدہ ہوگا۔ دوسری جانب تحریک انصاف 27 ستمبر سے شروع ہونے والی اپنی احتجاجی تحریک کے حوالے سے رابطہ عوام مہم شروع کرچکی ہے جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ رابطہ عوام مہم کیلئے سندھ کے دورے پر پہنچ چکے ہوں گے۔

قبل ازیں عوامی رابطہ مہم کے حوالے سے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا تھا۔ سہیل آفریدی اور شفیع اللہ جان دعویدار ہیں کہ 27 ستمبر کو خیبر پختونخوا سے 40 لاکھ افراد احتجاجی تحریک میں شرکت کیلئے نکلیں گے اور کوئی طاقت اس عوامی سیلاب کا راستہ نہیں روک پائے گی نیز یہ کہ یہ تحریک عمران خان کی رہائی پر ہی ختم ہوگی، انتظار کیجے ستائیس ستمبر سے شروع ہونے والی تحریک اور نتائج کا یاد رہے کہ ستائیس ستمبر کی احتجاجی تحریک کیلئے جاری رابطہ عوام مہم کے دوران ہی تحریک انصاف کے بعض حامی یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا مجاہدین یہ دعویٰ کرتے دیکھائی دے رہے کہ ایک سابق آرمی چیف کی عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے بڑوں سے چار پانچ ملاقاتوں کے بعد برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے۔ ان کے خیال میں سپریم کورٹ و اسلام آباد ہائیکورٹ کے عمران خان کے حوالے سے بعض فیصلے اُنہی کوششوں کا ثمر ہیں لیکن اس کا کیا کیجے کہ جس سابق آرمی چیف کی کوششوں کا ذکر جوش و خروش سے کیا جارہا ہے وہ (جنرل اشفاق پرویز کیانی) اس کی تصدیق نہیں کررہے۔ کہا جارہا ہے کہ یہ خبر ان سے نجی قربت کے دعویدار صحافی نے دی تھی یہ وہی صحافی ہیں جنہیں ماضی میں تحریک انصاف کا لینن کہا جاتا تھا اور وہ خود کو عمران خان کے سیاسی استاد کے طور پر پیش کرتے تھے۔

جس وقت یہ سطور لکھ رہا ہوں تین ستمبر کی دوپہر دستک دے رہی ہے تین ستمبر وہی دن ہے جس دن عالمگیر انقلاب اسلامی کی داعی اور جہادی تجارت کی بانی جماعت اسلامی کی اپیل پر ملک بھر میں "شٹر ڈاؤن ہڑتال" ہونا ہے تادم تحریر ہڑتال رونق سے محروم ہے حالانکہ جماعت اسلامی کے بعض مقامات پر جاری دھرنے کامیاب ہیں اور مسائل بھی حقیقی پٹرولیم لیوی بھتہ مہنگائی اور بیروزگاری جماعت اسلامی کو چاہئے تھا کہ ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کیلئے حزب اختلاف کی جماعتوں کا تعاون حاصل کرتی مگر تنہا پرواز کی شوقین صالحین کی جماعت درست موقف کے باوجود وسیع عوامی تائید حاصل نہیں کرپائی اس امر پر دوآرا ہرگز نہیں کہ پٹرولیم لیوی بھتے مہنگائی اور بیروزگاری نے لوگوں کی زندگی اجیران کررکھی ہے۔

آپ ماہ ستمبر کے آغاز پر موصول ہونے والے اگست کے بجلی کے بلوں کو ہی لے لیجے ان بلوں نے صارفین کے کس بل نکال دیئے ہیں ایوریج بلز بھینے کی بدعت کا جادو سرچڑھ کر بول نہیں ناچ رہا ہے۔ جماعت اسلامی اگر حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کے ساتھ مختلف شعبوں کی تنظیموں کو ملک گیر ہڑتال کیلئے آمادہ کرلیتی تو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی رونق دوچند ہوجاتی۔ جماعت اسلامی کے رواں سیشن کے امیر حافظ نعیم الرحمن، قاضی حسین احمد مرحوم کے نقشِ قدم پر گامزن ہیں پتہ نہیں ہمارے لوگ جماعت اسلامی کو کھالیں چندہ اور جہادی بھتہ تو دے دیتے ہیں مگر اس کے سیاسی موقف کو وسیع تائید کیوں نہیں دیتے ایک وقت تھا جب جماعت اسلامی کا پروپیگنڈہ اپنی مثال آپ ہوا کرتا تھا اب تو جماعت اپنی مثال آپ ہے۔