Saturday, 05 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Abdullah Tariq Sohail
  4. Chilman Se Mara Gaya Nazara

Chilman Se Mara Gaya Nazara

پاکستان ترکی اور سعودی عرب کے درمیان اتحاد کو باقاعدہ نام دے دیا گیا ہے، مکہ ڈیفنس الائنس۔ اس کا صدر دفتر بھی طے ہوگیا ہے یعنی سعودی عرب۔ لیکن سعودی عرب میں کہاں؟ کیا مدینہ منورہ نہیں ہو سکتا؟

حجاز و نجد کے تمام مسلمانوں کو متحد کرکے حضور ﷺ نے پہلی اسلامی ریاست بنائی تو اس کا دارالحکومت مدینہ ہی تھا۔ بعدازاں حضرت عمر نے اس ریاست کو توسیع د ے کر دنیا کی سب سے بڑی سلطنت بنا دیا تب بھی مدینہ ہی اس کا دارالحکومت تھا۔ آپ کے بعد حضرت عثمان خلیفہ بنے تو اس سب سے بڑی عالمی سلطنت کی حدود میں آٹھ دس لاکھ مربع میل کا اضافہ ہوگیا۔ تب بھی دارالحکومت مدینہ ہی تھا۔ آپ کی شہادت کے بعد مسلمان دھڑوں کی جنگ میں پڑ گئے اور مدینتہ النبی دارالحکومت نہ رہا۔

***

حضرت عمرؓ کی بنائی عالمگیر اسلامی سلطنت جیسی بڑی ایمپائر نہ ان سے پہلے کسی نے بنائی، نہ بعد میں۔ بعض لوگ کہتے ہیں انگریزوں کی حکومت میں سورج نہیں ڈوبتا تھا اور یہ رقبے اور آبادی میں اسلامی سلطنت سے بڑی تھی۔ لیکن یہ موازنہ سرے سے ہی غلط ہے۔ انگریزوں نے قبضہ کیا تھا اور بہت سے ممالک کو غلام بنا لیا تھا۔ امپائر بس انگلینڈ ہی کی تھی، باقی سارے ملک نوآبادیات تھے۔

حضرت عمر کی بنا کردہ سلطنت میں غلامی نہیں تھی۔ جو علاقہ بھی فتح ہوتا، وہاں کے لوگ مسلمان ہو جاتے۔

حکومت راشدہ، سلطنت بنی امیہ، سلطنت عباسی اور سلطنت ترکانِ عثمانی اسلامی کب کی ختم ہو چکی، لیکن ان سارے علاقوں کے لوگ اب بھی مسلمان ہیں، یہ سارا علاقہ مسلمان دنیا ہے۔ ماضی کی رومن اور پرسشین ایمپائرز کا بھی یہی حال تھا۔ چنانچہ حکومت راشدہ والی سلطنت بدستور بے مثال اور یکتا تھی اور رہے گی۔

***

سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں کیخلاف قرارداد پاس کر لی ہے اور اس موقع پر اسمبلی میں بڑی سخت تقریریں ہوئی ہیں جن کی حدّت کا میڈیا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایسی ہی پھپاوے اڑاتی تقریریں نئے صوبوں کے خلاف مولانا فضل الرحمن بھی کر رہے ہیں۔

یعنی صوبے ابھی بنے نہیں، محض تجویز آئی ہے تو اختلاف، تقسیم اور انتشار کی بجلیاں چمکنا شروع ہوگئی ہیں، یا رب آشیانے کی خبر۔ جب صوبے بن جائیں گے تو کڑکت برست اور گرجت کا کیا سماں ہوں گا ع۔

جب رات ہے ایسی متوالی تو صبح کا عالم کیا ہوگا۔

***

برسبیل تذکرہ، اوپر لکھا گیا مصرعہ حضرت شکیل بدایونی کے گیت کا ہے اور شکیل نے، کم از کم، اس مصرعے میں "غلطی ہائے مضامین" کا ارتکاب کیا ہے۔ خدا معلوم، انہیں "تجربہ" نہیں تھا یا کسی تجربہ کار نے انہیں بتایا نہیں تھا کہ متوالی رات کی صبح نہیں ہوا کرتی۔

متوالے صبح دم نہیں اٹھتے۔ ان کی آنکھ دوپہر بلکہ بعداز دوپہر کھلتی ہے۔ گھنٹہ دو گھنٹہ انہیں "ھینگ اوور کی انگڑائیاں اور جماہیاں لینے میں لگ ہی جاتا ہے۔ پھر وہ نہاتے اور کپڑے بدلتے ہیں اور بعداز سہ پہر ان کیلئے نئے دن کا آغاز ہوتا ہے اور یہ شام کا سماں ہوتا ہے۔

چنانچہ متوالوں کی شام ہوتی ہے، پھر رات اور ان کے نظام الاوقات میں صبح نام کی کوئی شے نہیں ہوتی۔

***

استاد منّا ڈے کے گائے گیت "کس نے چلمن سے مارا نظارہ مجھے" (مجروح سلطان پوری) پر استاد مرحوم جانی واکر (بدرالدین)) نے بہت زبردست ساتھ ہی بہت پرلطف پرفارمنس دی تھی۔ ویسی ہی پرفارمنس مختلف حلقے دیتے نظر آ رہے ہیں۔ خود کو خود ہی "ترجمان" مقرر کردہ میڈیا اینکر پرسن یہ دھمکاوے دے رہے ہیں کہ سیاسی جماعتیں مان کر نہیں دیتیں تو ایسا رندا پھرے گا کہ تمام جماعتوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا، ان کی جگہ نئے لوگ آئیں گے۔

تمام سیاسی جماعتوں کا خاتمہ ایک بار ایوب خاں نے کیا تھا، دوسری بار ضیاء الحق اور پھر تیسری بار پرویز مشرف نے کیا تھا۔ ان تجربات نے پاکستان کو ایشیا کا "مردبیمار" بنا دیا۔

اور ابھی تو یہ دھمکاوے پس چلمن مارے جانے والے نظاروں " تک ہی ہیں۔ چلمن ہٹ گئی تو، ارے۔ توبہ!

***

سندھ اسمبلی میں ایک تقریر قومی کرکٹ ٹیم کیخلاف ہوئی اور بہت ہی سخت ہوئی۔ یہ تک کہہ دیا گیا کہ یہ ٹیم جس ملک میں بھی گئی، منہ کالا کرا کے ہی آئی۔ ایک بھی میچ نہیں جیتا۔

ٹیم کی یہ بھد جو اڑائی گئی تو اصل نشانہ ٹیم نہیں، کوئی اور تھا یعنی وہ جس کا حسنِ انتخاب یہ ٹیم ہے۔

بہرحال، اتنا تو مانئے کہ ہماری ٹیم اپنی اس بے مثال کارکردگی پر دنیا بھر میں زیربحث آئی۔ ہر جگہ اس کا "چرچا" ہوا کہ نہیں؟

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

تنقید کرنے والوں کو یہ "مثبت پہلو" بھی تو سامنے رکھنا چاہیے۔

***

وزیراعظم نے تجارتی سہولت کاری کا بورڈ بنا دیا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے سرمایہ کاری سہولت کاری والی باڈی بنائی تھی جس کے بعد سرمایہ کاری صفر ہوگئی تھی۔

گویا اب تجارت کو "صفر" کرنے کا ارادہ ہے۔