بس ایسے ہی ایک کتاب نادر شاہ قاچار کے حوالے سے نظر پڑی تو ایک جگہ لکھا تھا کہ اس دور میں، یعنی اٹھارہویں صدی کے ایران میں ایک اچھا گھوڑا دس "تومان" کا مل جاتا تھا۔
دس تومان کا گھوڑا۔ کمال کی مزیدار بات ہے۔ آج کل ایک ڈالر میں لگ بھگ 20 لاکھ تومان آ جاتے ہیں۔ ڈالر کی مالیت پاکستانی روپے میں طے کی جائے تو "رائونڈ فگر" اگر 300 روپے کا مان لیں تو سو روپے کے 6 لاکھ تومان اور دس روپے کے 6 ہزار تومان۔ گویا اس دور کے ایران میں دس روپے سے آٹھ نو سو گھوڑے خریدے جا سکتے تھے اور ایک روپے میں 80-90 گھوڑے۔
خیر، تومان کا معاملہ قدرتی نہیں ہے۔ جنگوں، خانہ جنگیوں وغیرہ کے نتیجے میں یہ صورت حال پیدا ہوئی۔ کبھی حالات معمول پر آئے تو تومان اتنا سستا نہیں رہے گا۔ پھر بھی سو دوسو سال کے اندر، خاص طور سے ہمارے خطے میں اور بہت ہی خاص طور سے پاکستان میں کرنسی کی قیمت بہت ہی زیادہ کم ہوئی ہے۔
***
سو دو سو سال پیچھے کیا جانا، ہمارے سکول کے زمانے میں حبیب جالب کی ایک نظم بہت مقبول ہوئی تھی کہ 0 2روپئّے مَن آٹا، اس پر بھی ہے سناٹا اور آج آٹا کتنے روپے من ہے؟ من چھوڑئیے، سیر بھی آٹا 160 روپے میں آتا ہے، مٹھی بھر آٹے پر گزارے کی نوبت آگئی ہے۔ عوام کا نقطہ نظر کچھ اور ہوگا، خود آٹے سے اس کی اسقدر قدر افزائی کا پوچھا جائے تو وہ کیا کہے گا؟ یہی کہ شکریہ شہباز شریف، شکریہ مریم شریف۔
***
غالب کو فرصت کے دنوں کی بہت تمنا تھی کہ بس بیٹھے رہیں اور تصور جاناں میں مگن رہیں لیکن سچ پوچھئے تو ہمیں اس دور کی یاد بہت ستاتی ہے جس میں سکّے ہوا کرتے تھے اور ہر سکّے سے کچھ نہ کچھ خریداری کی جا سکتی تھی۔ لیکن پھر روپے کی بے قدری اتنی بڑھی کہ سبھی سکّے ایک ایک کرکے غائب ہو گئے، اس کے بعد ایک روپے، پھر دو روپے کے نوٹ کی باری آئی۔ اب سب سے چھوٹا نوٹ 5 روپے کا ہے جو بہت کم نظر آتا ہے۔ دکاندار کے بل میں 5 روپے کی واپسی بنتی ہو تو زیادہ تر دکاندار یہ کہتے ہیں کہ پانچ کا نوٹ تو نہیں ہے، کوئی چیز لے لو اور 5 روپے کے نوٹ میں اب کوئی چیز آتی نہیں، سوائے ٹافی کے۔ وہی ٹافی جو سکّوں والے دور میں ایک روپے کی 16 کے حساب سے ملتی تھی۔
***
سکّے ہمارے ہاں تو ختم ہو گئے لیکن خطے کے تمام ترقی یافتہ (ہمارے فریم آف ریفرنس کے حساب سے) ممالک میں موجود ہیں۔ افغانستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، سبھی میں۔ کاش ہم بھی تھوڑے سے ترقی یافتہ ہو جاتے۔
بھارت میں 25 پیسے کا سکّہ تو ختم ہے لیکن 50 پیسے کا اب بھی ہے اگرچہ کم کم دیکھنے میں آتا ہے۔ روپے، دو روپے، پانچ سے 25 روپے کے سکّے بھی ہیں۔
ہمارے سکول کے زمانے میں سب سے زیادہ سکّے پاکستان ہی میں تھے۔ وہ اس طرح کہ سات آٹھ سکّے تو انگریزی نظام کے چلے آ رہے تھے یعنی پیسہ، ٹکا، آنا، دو آنے، چار آنے، آٹھ آنے اور ایک روپیہ۔ ٹکے کا سکّہ دو قسم کا تھا۔ ایک معمول کا اور ایک بیچ میں سوراخ والا۔ اسی طرح آنے کا سکّہ بھی دو طرح کا تھا۔ گویا یہ کُل 9 سکّے ہو گئے۔ پھر اسی دوران ایوب خاں نے اعشاری نظام نافذ کر دیا، اس میں ایک چھوٹا پیسہ، 5,10,25 اور 50 پیسے کے سکّے میں شامل تھے گویا 5 اور آ گئے اور کل 14 سکّے ہو گئے۔ بہت برس تک دونوں قسم کے سکّے رائج رہے۔ سب سے خوبصورت سکّہ سب سے کم قیمت والا یعنی ایک نئے سیسے کا سکّہ تھا۔ ایسی خوبصورت پالش یا کوٹنگ تھی کہ چمکتے سونے کا بنا لگتا تھا۔ اس کی چمک اور چم چماہٹ دلوں کو موہ لیتی تھی۔
مالیت کا حال یہ تھا کہ خربوزے دو آنے کے سیر اور تازہ کچھور آٹھ آنے کی سیر مل جاتی تھی۔ یعنی ایک روپے میں 5 کلو خربوزے اور دو کلو کھجور۔
اب سکّے ختم ہو گئے، بے رحم سکّہ روائی رہ گئی بلکہ بڑھ گئی۔
***
چلئے، اس اداس کہانی کو یہیں ختم کرتے ہیں اور احوال تازہ کی بات کرتے ہیں اور احوال تازہ کی بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ نے کمال فراخدلی اور دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کو مدت پوری کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ انہوں نے فرمایا، حکومت پانچ سال کی مدت پوری کرے گی۔ باخبر حضرات کا کہنا ہے کہ یہ فراخدلی تا اطلاع ثانی ہے، یعنی جب تک کوئی نیا اور مختلف بیان نہیں آ جاتا، حکومت کو مدت پوری کرنے کی تمنا رکھنے کی اجازت ہوگی۔
دریں اثنا بلکہ قبل دریں اثنا خبر آئی تھی کہ حکومت کو چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ اس مدت میں نئے صوبے بنائواور صدارتی نظام لائو ورنہ اڈیالہ جانے کیلئے تیار رہو یعنی لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو۔ اس کے بعد اب ایک اور خبر "بریک" ہوئی ہے کہ یہ مہلت کم کرکے تین مہینے کر دی گئی ہے۔ اب وزیر داخلہ کی دریا دلی اس موخر الذکر الٹی میٹم سے کیسے "میچ" کرتی ہے، دیکھنے والی بات ہے۔