رواں ہفتے کا آغاز ہوا تو پیر کی رات سونے سے قبل چند وزراء اور صفِ اوّل کے حکومتی نمائندوں کی ٹی وی سکرینوں پر تواتر سے رونمائی نے یہ پیغام دیا کہ منگل کے روز کسی بھی وقت خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالات یا گورنر راج کا اطلاق ہوجائے گا۔ ان دونوں کے مابین فرق جاننے کے لئے اپنے تحریری آئین کی دو شقیں (232اور234) بہت غور سے پڑھیں۔ "قومی زبان" میں انہیں پڑھتے ہوئے ککھ سمجھ نہ آئی۔ دریافت فقط یہ ہوا کہ انتظامی اختیارات کو آئین کی زبان میں "عاملانہ" اختیارات وفرائض کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں ان کے لئے ایگزیکٹو (Executive)کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ گھبرا کر انگریزی متن سے رجوع کرنا پڑا۔ بنیادی فرق یہ جانا کہ 232کا اطلاق صوبائی اسمبلی کو عملاََ مفلوج بناکر بھی برقرار رکھتا ہے۔ یوں وفاق "عوام کی منتخب کردہ" اسمبلی کو برطرف کرنے کے الزام سے بچ جاتا ہے۔ یہ فرق سمجھنے کے بعد خود کو یہ سمجھاتے ہوئے شرمندہ کرنے کی کوشش کی کہ سرکار مائی باپ ہم عامیوں کی جانب سے لگائی تہمتوں سے بے نیاز ہوتی ہے۔
منگل کا دن گزر گیا تو محسوس یہ ہوا کہ پیر کے دن حکومتی نمائندوں کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف جارحانہ انداز میں عائد کیے الزامات کے باوجود 232یا 234میں سے کسی ایک کے اطلاق کی فی الحال نوبت نہیں آئی۔ "اچانک" خبر یہ بھی آگئی کہ ہمارے ہمہ وقت متحرک مگر خاموش طبع وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب صدر مملکت سے کراچی میں ملے ہیں۔ نظر بظاہر یہ ون-آن-ون ملاقات تھی۔ اس میں کیا موضوعات زیر بحث آئے اور مذکورہ ملاقات کتنی دیر تک جاری رہی اس کے بارے میں کوئی مستند خبر نہ آئی۔ سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے خود کو یاد دلایا کہ 232 یا 234 میں سے کسی ایک کے اطلاق میں صدر مملکت کا عہدہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ وزیر داخلہ غالباََ اسی تناظر میں صدر سے ملے ہوں گے۔
ایوان ہائے اقتدار تک رسائی کی بدولت معتبر تسلیم ہوئے ساتھیوں میں سے چند نے مذکورہ ملاقات کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے اپنی سیاست کو ملکی تاریخ کا سنگ میل بنانے والے آصف علی زرداری خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ہنگامی حالات کے نفاذ سے گریز کو ترجیح دیں گے۔ 18ویں ترمیم کے ذریعے موصوف نے صوبائی خودمختاری کو توانا تر بنایا تھا۔ جن دنوں یہ ترمیم تیار ہورہی تھی آصف علی زرداری اکثر مجھے تنہائی میں ملاقاتوں کے لئے ایوان صدر بلالیا کرتے تھے۔ اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے ان کے جذبات سے لہٰذا بخوبی آگاہ ہوں۔ ان سے تنہائی میں ملے اب کئی برس گزرچکے ہیں۔ اس قابل نہیں کہ اعتماد کے ساتھ آپ کو بتائوں کہ وہ اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں ان دنوں کیا محسوس کررہے ہیں۔
آصف زرداری 18ویں ترمیم کے بارے میں جو بھی سوچ رہے ہوں منگل کے دن حکومتی رویے نے یہ پیغام دیا کہ 232 یا 234 میں سے کسی ایک کو خیبرپختونخوا پر لاگو کرنے کے لئے مناسب تیاری کے بغیر وفاق پیر کے روز خیبرپختونخوا کی حکومت اور خصوصاََ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو تابڑتوڑ الزامات کی بوچھاڑ سے دیوار کے ساتھ لگانے کی کوششوں میں مصروف رہا۔ تحریک انصاف کا دیرینہ ناقد رہا ہوں۔ اس کے چند رہ نمائوں سے اگرچہ قریبی مراسم بھی رہے۔ حتیٰ کہ عمران خان صاحب کے ساتھ بھی رواں صدی کی پہلی دہائی تک کھلی ڈلی گفتگو ہوجایا کرتی تھی۔ عاشقان عمران البتہ مجھ "لفافے" سے نفرت کرتے ہیں۔ سہیل آفریدی میرے لئے قطعاََاجنبی شخص ہیں۔
موصوف کی شخصیت کو جانے بغیر رپورٹر کے تجسس سے جمع کردہ معلومات کی بنیاد پر یہ اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ سہیل آفریدی "حکومتی دھمکیوں سے گھبراکر" استعفیٰ دیتے نظر آنا نہیں چاہیں گے۔ سیاستدانوں کی اوسط عمر کے تناظر میں وہ تقریباََ نو وارد ہیں۔ لمبی اننگ کھیل سکتے ہیں۔ "سیاسی شہید" بن کر وزارت سے محروم ہونے کو سیاسی حوالے سے طویل المدت سرمایہ کاری تصور کریں گے۔ منگل کی شام ہوئی پریس کانفرنس کے ذریعے انہوں نے اسلام آباد کو ان ہی بنیادوں پر جواب دیا ہے۔ سخت گیر موقف کے اظہار کے باوجود موصوف نے 4 اکتوبر کو "پہلے مرحلے" میں پشاور سے صوابی آنے کا اعلان کیا ہے۔ "پہلے مرحلے" کا ذکر آپ کو یہ سوچنے کو اُکساتا ہے کہ شاید اپنے مارچ کے ساتھ صوابی پہنچ کر آفریدی اسلام آباد پر یلغار سے قبل وفاقی حکومت کو مذاکرات کی گنجائش فراہم کرتے نظر آنا چاہیں گے۔
"پہلے مرحلے" کا ذکر مگر حکومت کو اس گماں میں مبتلا رکھنے کا حربہ بھی ہوسکتا ہے کہ سہیل آفریدی کو اسلام آباد آنے کی جلدی نہیں۔ وہ صوابی پہنچنے کے بعد پشاور واپسی کے لئے حکومت سے "فیس سیونگ" والی رعایتوں کے خواہش مند ہوں گے۔ وفاق کو مذکورہ حربے سے گمراہ کرتے ہوئے وہ پشاور سے نکل کر اسلام آباد پر "اچانک" دھاوا بھی بول سکتے ہیں۔ ایک بات البتہ طے ہے اور وہ یہ کہ اب وفاق کا سہیل آفریدی کے ساتھ چلنا مشکل سے مشکل تر ہورہا ہے۔ درمیانی راستہ نکالنے کیلئے قابل اعتبار قوتیں یا شخصیات متحرک ہوئی نظر نہیں آرہیں۔ متحرک ہوں بھی تو میرے اور آپ جیسے سفید پوشی کا بھرم رکھنے کو مضطرب ذلتوں کے مارے پاکستانی ان کے بارے میں قطعاََ غافل ہیں۔ "انتہائی باخبر" مشہور ہوئے صحافی بھی بس ٹیوے لگارہے ہیں۔