Monday, 26 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. America Ke Iran Par Aik Aur Round Ki Dhamkiyon Ke Asraat

America Ke Iran Par Aik Aur Round Ki Dhamkiyon Ke Asraat

اتوار کی صبح بے خوابی سے نڈھال ہوا سات بجنے میں دس منٹ پر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ مضطرب بے خوابی کی وجہ کوئی ذاتی پریشانی نہیں بلکہ "سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے" والا خبط تھا۔ اسے دل ودماغ پر مسلط کرنے والے شخص کا مختصر تعارف مگر قارئین کو درکار ہوگا۔

سوشل میڈیا کے ایکس پلیٹ فارم کا پھیرا لگانے کے عادی دوست ماریونوفل (Mario Nawfal) نامی "ذہن ساز" سے شناسا ہوں گے۔ لبنان کے ایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہوکر آسٹریلیا منتقل ہوکر بینکاری اور کاروبار کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ماریو نے وسیع پیمانے پر کھانے کی فراہمی کے ایک کاروبار سے شروع ہوکر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری شروع کردی تھی۔ کافی رقم جمع کرلینے کے بعد دولت کمانے کے نت نئے ڈھنگ سوچنے والے اس شخص نے مگر بتدریج یہ دریافت کیا کہ انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد دنیا بھر میں پھیلے لاکھوں افراد "تازہ ترین خبروں" سے آگاہ رہنے کو بے تاب ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ روایتی میڈیا انہیں "باخبر" رکھنے کی صلاحیت اپنے مفادات ا ور محدودات کی وجہ سے کھوبیٹھا ہے۔ لوگ "سچ" کی تلاش میں نوکریوں سے آزاد ہوئے "سٹیزن جرنلسٹس" کی بتائی خبریں سننا چاہتے ہیں۔

"سچی" اور "چوندی چوندی" خبروں کی بڑھتی طلب کو بھانپتے ہوئے ماریو نے ایک کمپنی بنائی۔ سنا ہے اس کے لئے اس نے سینکڑوں لوگوں کو معقول تنخواہوں پر بھرتی کیا ہے۔ اپنی ٹیم تیار کرلینے کے بعد سوشل میڈیا کے ایکس پلیٹ فارم سے روایتی 24/7چینل کی طرز پر اس نے صبح گیارہ بجے سے رات گیارہ بجے تک مستقل "خبریں" براہِ راست نشر کرنا شروع کردیں۔ دوبئی میں بیٹھ کر وہ ایکس کے ذریعے امریکی اور نیٹو ممالک کے انٹیلی جنس اداروں اورفوج کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے لوگوں سے رابطہ کرکے سنسنی خیز معلومات خلقِ خدا کو فراہم کرنا شروع ہوگیا۔ بطور رپورٹر اس کے رویے کو میں نے ہمیشہ مشکوک گردانا۔ ہمہ وقت یہ شبہ لاحق رہا کہ وہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے جنون میں مبتلا طاقتور ریاستوں کے طے کئے ایجنڈے کو "سٹیزن جرنلسٹ" کا روپ دھارے مہارت سے پھیلارہا ہے۔ نیک نیت "سٹیزن جرنلسٹ" وگرنہ سی این این جیسے اداروں کی طرح مسلسل کئی گھنٹوں تک چوندی چوندی خبریں فراہم کرنے کا متحمل ہو نہیں سکتا۔

مذکورہ شکوک کے باوجود اسے باقاعدگی سے سنتا ہوں تانکہ ہم جیسے بے وسیلہ افراد کی اذیتوں میں مزید اضافے کے لئے دنیا کے سفاک اجارہ دار کے منصوبوں کا اندازہ ہوسکے۔ یہ الگ بات ہے کہ ماریو کی پھیلائی کہانیوں کو اکثر یاوہ گوئی تصور کرتے ہوئے حقارت سے نظرانداز کرنا پڑتا ہے۔ جمعہ کی شام مگر میرے ساتھ پنجابی والا "ہاتھ" ہوگیا۔ رواں ہفتے کا آغاز ہوتے ہی ماریو تواتر سے یہ دعویٰ کرنا شروع ہوگیا کہ عام توقعات کے برعکس امریکی صدر ٹرمپ 3نومبر کو امریکہ میں منعقد ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے قبل ہی ایران پر ایک اور حملے کی تیاری کررہا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کو منگل 27اکتوبر کے روز ہونے والے انتخاب میں اکثریت دلوانے کی خاطر وہ یہ حملہ اپنے اتحادی کے ساتھ مل کر اس دن سے قبل آئے ہفتے اور اتوار کے دنوں میں بھی کرسکتا ہے۔

ماریو کی جانب سے ہذیانی انداز میں دہرائے دعوے کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کے بعد اسے بے پرکی ٹھہرانے کو مجبور ہوا۔ بنیادی دلیل اس کی حمایت میں ذہن میں یہ آئی کہ ویک اینڈ پر ہوا حملہ فقط ایک ہی ہلے میں ایران میں کوئی ایسا ہدف حاصل نہیں کرسکتا جو نیتن یاہو کے لئے منگل کے روز ہونے والے انتخابات کے دوران اس کی جماعت کی برتری یقینی بناسکے۔ امریکہ کے مڈٹرم انتخاب تک پہنچتے ہوئے ایران پر ہوا ایک اور "ناکام" حملہ سیاسی اعتبار سے مگرٹرمپ کے لئے خودکش بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ طے کرنے کے بعد دیگر خبریں دیکھنے میں مصروف ہوگیا۔ جمعہ کی شام کھانے کے لئے لیپ ٹاپ بند کرنے والا تھا تو ماریو کے اکاؤنٹ پر براہِ است نشر ہوتے ایک انٹرویو پر نظر پڑگئی۔

جس شخص سے ماریو ہم کلام تھا وہ ٹرمپ کا قریبی دوست ہے۔ دونوں پراپرٹی کے دھندے سے وابستہ رہے ہیں۔ امریکہ کا دوسری بار صدر منتخب ہونے کے بعد ٹام براک نامی اس دوست کو ترکی جیسے اہم اور نیٹو کے رکن ملک میں امریکی سفیر بنادیا گیا۔ مذکورہ تعیناتی کے چند ماہ بعد اسے شام اور عراق کے لئے بھی امریکی صدر کا "خصوصی سفیر" تعینات کردیا گیا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ ٹام براک ترکی میں قیام پذیر ہوا عراق اور شام پر بھی برطانوی سامراج کے وائسرائے کی طرح کڑی نگاہ رکھتا ہے۔

ترکی، عراق اور شام کے بارے میں ا مریکی صدر کی رائے بنانے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے ٹام کی ماریو کے ساتھ گفتگو کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس کا ایک ایک لفظ غور سے سننے کو مجبور ہوا۔ سادہ سوالات اور جوابات پر مبنی گفتگو کے ذریعے ماریو امریکی صدر کے انتہائی قریب معاون سے یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ 27اکتوبر سے قبل آنے والے ویک اینڈ کے دوران ایران پر آر یا پار ٹائپ حملہ ہوسکتا ہے یا نہیں۔ تھوڑی ٹال مٹول کے بعد ٹام نے بالآخر "یقینا"کا استعمال کرتے ہوئے "گل مکادی"۔ یقیناََ (Absolutely)کا لفظ استعمال کرلینے کے بعد اگرچہ وہ یہ پیغام بھی دیتا رہا کہ ایران کے پاس اب بھی وقت ہے کہ ہونی کو ٹالنے کے لئے امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے تعینات ہوئے اسٹیو وٹکوف سے فی الفور رابطہ کرے۔

ٹام براک کے عہدے کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کا ادا کردہ (Absolutely) فکرمند کر گیا۔ ذہن میں فوراََ یہ بات بھی آئی کہ حال ہی میں پاکستان کے فیلڈ مارشل ایران گئے تھے۔ عالمی میڈیا میں قیاس آرائی ہوئی کہ وہ ایرانی قیادت کو لچک دکھانے کو آمادہ کرنے گئے تھے۔ روس کے وزیر خارجہ کے دورہ ایران کو بھی اسی تناظر میں اجاگر کیا گیا۔ ٹام کا انٹرویو ایکس پر نشر ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد مگر صدر ٹرمپ کی ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو ہوئی۔ ایک صحافی نے ٹام کے انٹرویو کا حوالہ دیا۔ ٹرمپ نے نہایت سادگی اور پرکاری سے فقط یہ پوچھا کہ اس نے واقعتاً حملے کو یقینی بتایا ہے۔ ہاں میں جواب مل جانے کے بعد تصدیق یا تردید کے بجائے محض یہ کہتے ہوئے جہاز کی طرف روانہ ہوگیا کہ ٹام (اور اس کی رائے) بہت اہم ہے۔

ٹام کی جانب سے "Absolutely"کے استعمال کو امریکی صدر نے جس انداز میں تقریباََ درست ٹھہرایا اس نے دو ٹکے کے رپورٹر ہی کو نہیں بلکہ عالمی منڈی کو بھی پریشان کردیا۔ تیل کی قیمت کا تعین کرنے والے برنٹ نے فی بیرل کی قیمت 117امریکی ڈالر تک بڑھانا شروع کردی۔ یاد رہے کہ 2002ء کے بعد تیل کی یہ قیمت ریکارڈ توڑ تھی۔ اس مقام تک وہ مارچ -اپریل 2026ء میں امریکہ-ایران جنگ کے دوران بھی نہیں پہنچی تھی۔

تیل کے اجارہ دار سیٹھوں میں پھیلے اضطراب نے قائل کردیا کہ 27اکتوبر کے اسرائیل انتخاب سے قبل ہفتے اور اتوار کے دنوں میں ایران پر ایک اور حملے کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔ میرے شبے کو تقویت پہنچانے کے لئے امریکہ کا ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن ایران کی جانب پہنچنے کے قریب تھا۔ اس جہاز میں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کا ایک نمائندہ بھی موجود ہے اور مسلسل اس جہاز میں ذخیرہ ہوئے خوفناک اسلحہ کی موجودگی کی تفصیلات بیان کئے چلے جارہا ہے۔

تیل کی ناقابل برداشت حد تک بڑھتی قیمتوں نے ہمارے عوام کی بے پناہ اکثریت کے لئے روزمرہ زندگی میں آفتوں کا جو سیلاب برپا کیا ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے ایران کے خلاف ایک اور راؤنڈ کے امکانات کے نتائج سوچتے ہوئے دل کانپ گیا۔ ایران کے خلاف برپا جنگ سے قطع نظر ہمارے ہاں آٹے کی مسلسل بڑھتی قیمتوں اور سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی ایل پی جی کے نرخوں میں اضافے کی خبریں پاکستانیوں کی بے پناہ اکثریت کو سسک سسک کر زندہ رہنے کو مجبور کرسکتی ہیں۔ ایسے عالم میں جی کو حوصلہ دینے کو ہمارے حکمران دو لفظ بھی ادا نہیں کررہے۔ ہم ذلتوں کے ماروں کو ہمارے حال پر چھوڑ دیا گیا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.