Thursday, 08 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Thar Ke Bachon Mein Laaiq e Ehteram Taleem Ki Talab Ki Shiddat

Thar Ke Bachon Mein Laaiq e Ehteram Taleem Ki Talab Ki Shiddat

حکومت اور تحریک انصاف کی سیاسی ترجیحات سے لاتعلق اور بے نیاز پاکستانیوں کی اکثریت بھی گزشتہ کئی دنوں سے خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالات یا گورنر راج کے نفاذ کے انتظار کو مجبور بنادی گئی ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا نفاذ ہمارے حکومتی بندوبست ہی کو دھچکا نہیں لگائے گا، اس کے منفی اثرات معاشرتی اعتبارسے نسلی تفریق کو بھی بڑھاوا دے سکتے ہیں۔ اس کے بارے میں سوچتے ہوئے پریشان ہوجاتا ہوں۔

گھبراہٹ کے اس عالم میں ایک نیا قضیہ اٹھ کھڑا ہوا۔ "شہر کراچی" کے جذبات کی خود ساختہ اجارہ دار ہوئی ایک جماعت دہائی مچارہی ہے کہ سرکار کی جانب سے چلائے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لئے ایم ڈی کیٹ کے نام سے حال ہی میں جو امتحان ہوا ہے اس کے انجام پر ان کے شہر کاکوئی بچہ یا بچی امتیازی نمبروں سے پاس ہونے والے ٹاپ -20میں شامل نہیں تھے۔ یہ تعداد ناقابل اعتبار ہے۔ مزید حیرت اس حقیقت کو اچھالتے ہوئے بھی نمایاں کی جارہی ہے کہ امتیازی نمبروں سے پاس ہونے والے طلبہ کی کثیر تعداد تھرپارکر سے تعلق رکھتی ہے۔

تھرپارکر ہمارے "قومی میڈیا" کی بدولت "بھوک سے بلبلاتے" بچوں کی اموات کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ مذکورہ شناخت کے تناظر میں یہ کہانی فروغ دینا آسان ہوگیا کہ حال ہی میں میڈکیٹ کا جو امتحان ہوا اس میں "وڈیروں کی حکومت" نے دھاندلی اور بدعنوانی کی پشت پناہی کی ہوگی۔ "شہری" اور "دیہی" سندھ کی بنیاد پر 1980ء کی دہائی سے سنگین تر ہوتی تفریق کو مذکورہ الزام کے ساتھ بھڑکانے کی کاوش ہورہی ہے اور بدقسمتی سے "قومی میڈیا" اس کا معروضی تجزیہ کرنے میں دلچسپی نہیں دکھارہا۔

ذاتی حوالوں سے زندگی کے مشکل ترین اور نہایت خوش گوار ایام کراچی میں گزارے ہیں۔ ایم کیو ایم کے بانی کارکنوں سے 1978ء کے برس طویل ملاقاتیں رہیں۔ ان سے ہوئی ملاقاتوں کی بدولت اس جماعت کے قیام اور عروج کی وجوہات بخوبی سمجھتا ہوں۔ ایم کیو ایم کی بے تحاشہ شکایتوں کو واجب تصور کرنے کے باوجود اس کی پرتشدد سیاست کاشدید نقاد ہوں۔ ایم کیو ایم کی تنقید لیکن مجھے "جیالا" نہیں بناتی۔ ٹی وی پر رونمائی مگر ناظرین کو اپنے دلوں میں نسلوں سے پلتے تعصبات کی وجہ سے "جیالے" اور "غیر جیالے" تجزیہ کاروں میں تقسیم کردیتی ہے۔ وضاحتوں میں وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ اپنے خیالات کے اظہار پر توجہ مرکوز رکھتا ہوں۔

فرض کرلیتے ہیں کہ سندھ کی مبینہ طورپر "بدعنوان حکومت" نے کراچی کو نیچا دکھانے کے لئے کوئی ایسی جگاڑ تلاش کرلی جو نہایت سوچ سمجھ کر 1990ء کی دہائی میں متعارف کروائے میڈکیٹ کے امتحانی نظام میں نقب لاسکتی تو اس سے محض تھرپار کرکے بچوں کو فیض یاب کیوں کیا؟ لاڑکانہ یا بے نظیر آباد کے طلباء￿ اس جگاڑ سے کیوں محروم رہے۔ میڈ کیٹ امتحانی نظام کے حوالے سے شہر کراچی کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں مچائی دہائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس حقیقت پر بھی غور لازمی ہے کہ آبادی کے اعتبارسے ہمارے سب سے بڑے شہر کا ہر باسی اس کمیونٹی سے تعلق نہیں رکھتاجس کی ایک مخصوص جماعت نمائندگی کی دعوے دار ہے۔ 1980ء کی دہائی میں کراچی کابل، قندھار اور کوئٹہ کے مقابلے میں پشتو بولنے والوں کا سب سے بڑا شہر بن چکا تھا۔ رواں صدی کے آغاز سے کراچی میں نسلوں سے آباد سندھی بولنے والوں کے مقابلے میں اندرونی سندھ سے اس شہر منتقل ہوئے افراد اکثریت میں دکھنے لگے۔ جنوبی پنجاب میں گنے کی کاشت کے فروغ نے سرائیکی خواتین کو کپاس کی چنائی سے محروم کیا تو اس خطے سے سرائیکی بولنے والے کراچی منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ پنجابیوں کی کثیر تعداد بھی کئی نسلوں سے اس شہر میں آباد ہے۔

بڑے شہروں میں آبادی میں اضافے کے رحجانات کا علمی جائزہ لینے کی ہمارے ہاں روایت نہیں۔ اس حوالے سے مختص علم کو Demographyکہا جاتا ہے۔ مجھے اس لفظ کے اردو متبادل کا علم نہیں۔ اس علم کوعلمِ سماجیات کی اہم شاخ تصور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے مجھے کوئی ایسا صاحب علم نہیں ملا جس نے پاکستان یا بیرون ملک کی کسی یونیورسٹی سے اس علم میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی ہو۔ چند ماہرین سماجیات اگرچہ کراچی میں آباد نسلی گروہوں پر علمی انداز میں توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ کاش ان کی بدولت ہم عام پاکستانیوں کی اکثریت کو کراچی کا "لسانی جغرافیہ" اور دیگر حقائق سمجھا سکیں۔

سنجیدہ موضوعات کے بارے میں تعصبات پر مبنی تجزیے آج کا موضوع نہیں۔ جان کی امان پاتے ہوئے عرض فقط یہ کرنا ہے کہ تھرپار کرکے بچے کئی صدیوں سے انتہائی غریب طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی اکثریت کا تعلق ہماری اقلیتی برادری سے ہے۔ "وڈیرے" ان پر کرم فرمائی سے فطری طورپر گریز کرتے ہیں۔ انتہائی مفلس گھرانوں میں پیدا ہوکر بڑے ہوئے بچے مگر غربت ومفلسی کی زنجیروں سے آزاد ہونے کے لئے تعلیم پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ 1980ء کی دہائی سے رپورٹر کی جبلت نے کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں قائم میڈیکل کالجوں اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے طلبہ کا طائرانہ جائزہ لیا تو تھرپار کر سے آئے بچوں کی تعداد غیر معمولی نظر آئی۔ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں چند فرض شناس اور شفا فراہم کرنے کے ماہر تصور ہوتے ڈاکٹر بھی تھرپارکر ہی سے آئے تھے۔

سندھ کے حوالے سے "دیہی" اور "شہری" کی گمراہ کن تفریق سے بالاتر ہوکر سوچتے ہوئے خیبرپختونخوا کے انتہائی پسماندہ علاقے کرک پر توجہ دینا ہوگی۔ خیبرپختونخوا میں سکولوں کے اکثر اساتذہ اس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے علاوہ جنوبی پنجاب کے تونسہ، کوٹ ادو اور لیہ جیسے اضلاع بھی ہیں۔ سرکار کے چلائے میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے میڈکیٹ کے نام سے جو امتحان متعارف ہوااس کی بدولت ان شہروں سے طلبہ کی حیران کن تعداد کامیاب ہوئی۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں کے افتادگان خاک کے اکثر بچے خود کو پیدائشی غربت اور مفلسی سے آزاد کرنے کے لئے تعلیم کے حصول پر توجہ مبذول کرلیتے ہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے نسبتاََ خوشحال گھرانوں کے بچے تعلیم کے ساتھ زندگی بھی "انجوائے" کرنا چاہتے ہیں۔ اس پہلو کو تاہم اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔

کراچی کی جانب لوٹتے ہوئے یاد یہ بھی دلانا ہوگا کہ گزشتہ چند برسوں سے نام نہاد "اربن سندھ" کے لئے مختص نشستیں سی ایس ایس کے امتحان کے نتیجے میں اکثر خالی رہ جاتی ہیں۔ اتفاقاََ "دیہی" سندھ سے اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لئے ہوئے اس امتحان میں بھی تھرپارکر ہی کے باسی نمایاں نمبروں سے پاس ہورہے ہیں۔ تھر کے بچوں میں تعلیم کی طلب کی شدت کا احترام کریں۔ ان کی کامیابی کوسراہتے ہوئے دنیا کو بلکہ یہ پیغام دینا چاہیے کہ "سخت گیر اسلامی ملک" کے طورپر مشہور ہوئے پاکستان میں تھرپارکر میں آباد ہندواقلیت خالصتاََ میرٹ کی بنیاد پر میڈیکل اور انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتی ہے۔ بطور پاکستانی مساویانہ حقوق کے حامل ہوتے ہوئے وہ ترقی اور خوشحالی کے زینے سے تعصب کی بنیاد پر دور نہیں رکھے جاتے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.