Friday, 30 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Abdul Waheed Kakar Ke Army Chief Banne Ka Qissa

Abdul Waheed Kakar Ke Army Chief Banne Ka Qissa

جنرل عبدالوحید کاکڑ مرحوم کے بارے میں لکھے کالم کو مکمل کئے بغیر اسرائیل کے انتخاب کے نتائج کی جانب بھٹک جانا دیرینہ قارئین کو پسند نہیں آیا۔ اصل کہانی کی جانب لوٹنا ہوگا۔ گزشتہ کالم کے اختتام پر اعتراف کیا تھا کہ اسلام آباد کے سازشی ڈرائنگ روموں میں کسی ایک شخص نے بھی آصف نواز جنجوعہ کی وفات کے بعد ان کے ممکنہ جانشین کے طورپر جنرل وحید کاکڑ کا نام نہیں لیا تھا۔ جنرل ضیاء کے برسوں تک بااختیار سیکرٹری اطلاعات رہے جنرل مجیب واحد شخص تھے جنہوں نے ان کی تعیناتی سے دو روز قبل ان کا نام مجھے نہایت اعتماد سے بتایا تھا۔ 12جنوری 1993ء کے روز مرحوم کی بطور آرمی چیف تعیناتی ہوگئی تو میں نے طے کرلیا کہ جنرل مجیب سے یہ معلوم کیا جائے کہ انہوں نے میرے پوچھنے پر فقط وحید کاکڑ ہی کا نام کیوں لیا تھا۔

ان سے ملاقات کا موقع ڈھونڈ رہا تھا تو اتفاقاََ ایک تقریب میں مل گئے۔ ان سے گزارش کی کہ صحافتی تجسس کی تسکین کے لئے کچھ وقت درکار ہے۔ انہوں نے سماجی تقریب ختم ہونے سے قبل باہر نکلتے ہوئے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ میں وہاں پہنچا تو اکیلے بیٹھے منتظر تھے۔ بیٹھتے ہی میں نے سوال اٹھایا کہ جنرل وحید کاکڑ کا نام ان کے ذہن میں کیسے آیا تھا۔ وہ مسکرائے اور انکشاف کیا کہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کے جنازے میں شرکت کے وقت صدر غلام اسحاق خان نے وہاں موجود چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کو کہا کہ رات کے کھانے سے قبل ایوانِ صدر آجائیں۔ وہاں بیٹھ کر طے کیا جائے کہ جنجوعہ مرحوم کا جانشین کون ہونا چاہیے۔ چیئرمین نے مجیب صاحب کو ایوان صدر جانے سے قبل اپنے ہاں چائے کے لئے مدعو کیا۔ جنرل مجیب وہاں پہنچے تو انہیں فوج کے سینئر جرنیلوں کی فہرست دکھائی گئی۔ جنرل مجیب نے اس پر سرسری نگاہ ڈالتے ہی یہ رائے دی کہ مذکورہ فہرست میں سے صدر اسحاق عبدالوحید کاکڑ کو منتخب کرنا چاہیں گے۔

میں نے اس کی وجہ پوچھی تو جنرل مجیب نے بزرگانہ انداز میں سمجھایا کہ جب کوئی فیصلہ ساز کسی معاملے میں تمہاری رائے جاننا چاہے تو بجائے اپنی پسند بیان کرنے کے یہ سوچنے کی کوشش کرو کہ فیصلہ ساز کی ترجیح کیا ہوسکتی ہے۔ "مجھے خبر تھی کہ و ہ(غلام اسحاق) نواز شریف سے اُکتائے ہوئے ہیں۔ ایسے موقع پروہ ایسا آرمی چیف تعینات کرنا چاہیں گے جن پر نواز شریف اثرانداز نہ ہوسکیں "۔ جو معیار جنرل مجیب نے سوچا وہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کے حق میں جارہا تھا۔ انتہائی غیر سیاسی اور اپنے کام سے کام رکھنے والے سپاہیانہ مزاج کے علاوہ وہ شہری اشرافیہ سے فاصلہ رکھنے والے پشتون بھی تھے۔ جنرل مجیب کے بقول غلام اسحاق خان نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف سے عبدالوحید کاکڑ کا نام سنتے ہی ان کی تعیناتی پر رضا مندی کا اظہار کردیا۔

جنرل کاکڑ کی تعیناتی ہوگئی تو نواز شریف اور ان کے وفادار وزراء پریشان ہوگئے۔ طے کر بیٹھے کہ اپنی پسند کا آرمی چیف لگانے کے بعد صدر وزیر اعظم کو دیوار سے لگانے کو تل جائیں گے۔ چند ہی دنوں بعد مگر جنرل عبدالوحید کاکڑ نے ریاست کے ایک اہم دائمی ادارے کے سربراہ کو تبدیل کردیا جو ان کی دانست میں نواز مخالف سیاستدانوں سے روابط کے ذریعے صدر غلام اسحاق خان کی پسند کا وزیر اعظم ڈھونڈنے کی گیم لگارہے تھے۔ نواز شریف اور ان کے وفادار وزراء کے لئے مذکورہ تبدیلی خوش گوار حیرت کا سبب ہوئی۔ نواز شریف کے خلاف مسلم لیگ (نون) کی صفوں سے متبادل ڈھونڈنے والے مگر مذکورہ تبدیلی سے مایوس ہوئے۔

مایوسی کی اس گھڑی میں کوہاٹ سے پیپلز پارٹی کے قدیمی وفادار سید افتخار حسین گیلانی جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں بااثر وزیر قانون رہے تھے متحرک ہوئے۔ محمود خان اچکزئی کے ساتھ مل کر انہوں نے خفیہ روابط کے ذریعے محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو قائل کرنا چاہا کہ "نظام کہنہ" کے محافظ غلام اسحاق خان کے منتخب وزرائے اعظموں کے خلاف ہاتھ مضبوط کرنے کے بجائے ان دونوں کو جمہوری نظام مستحکم کرنے کی خاطر چند نکات پر اتفاق کرنا ہوگا۔ پارلیمان کی بالادستی ان نکات میں سرفہرست تھی۔ مطلوبہ بالادستی اجاگر کرنے کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو کو قومی اسمبلی کی اس قائمہ کمیٹی کی سربراہی سنبھالنے کو قائل کیا گیا جو وزارتِ خارجہ کے امور پر نگاہ رکھتی ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین پارلیمان کی بالادستی اجاگر کرنے کے معاملہ پر اتفاق کے امکان نے غلام اسحاق خان کو دھچکا لگایا۔ مرحوم چوہدری الطاف حسین اور فاروق لغاری مگر انہیں اطمینان دلاتے رہے کہ آصف زرداری کی گرفتاری محترمہ بھول نہیں سکتیں اور نواز شریف اس ضمن میں بے اختیار ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ صدر اسحاق کو ان کی مشکلات کا واحد ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ صدر اسحاق کو یہ بات بھی اس گروپ نے سمجھائی کہ پیپلز پارٹی تو نواز شریف کے خلاف صدر اسحاق کا ساتھ دینے کو ہمہ وقت تیار ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مسلم لیگ کے اراکین اسمبلی میں سے "نیا وزیر اعظم" نمودار نہیں ہورہا۔ مسلم کی صفوں میں کھلبلی مچانے لہٰذاحامد ناصر چٹھہ متحرک ہوگئے۔ محمد خان جونیجو اور میر بلخ شیر مزاری بھی ان کے حامی ڈھونڈنے لگے۔ سردار آصف احمد علی نے "احتجاجاََ" کابینہ سے استعفیٰ بھی دے دیا۔

مسلم لیگ کی صفوں میں انتشار نمودار ہونا شروع ہوا تو اس کے انتہائی لمحات میں 17اپریل 1993ء بروزہفتے کی شام نواز شریف نے براہِ راست خطاب کیا۔ جس کے اختتام پر "میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لوں گا" کا ا علان کردیا۔ مذکورہ اعلان کے عین دوسرے روز اسحاق خان نے آٹھویں ترمیم کے تحت میسر اختیارات استعمال کرتے ہوئے نواز شریف کو قومی اسمبلی سمیت برطرف کردیا۔ خلافِ توقع حامد ناصر چٹھہ کی بجائے میر بلخ شیر مزاری عبوری وزیر اعظم نامزد کردیے گئے۔ ان کی بنائی کابینہ میں "سنگین کرپشن" کے الزامات کے تحت جیل میں رہے آصف علی زرداری کو بجلی اور پانی جیسی طاقتور وزارت کا سربراہ بھی نامزد کردیا گیا۔ صدر غلام اسحاق ان سے حلف لیتے ہوئے ایک لمحے کوبھی ندامت محسوس کرتے نظر نہ آئے۔

قومی اسمبلی برطرف کرنے کے باوجود غلام اسحاق خان صوبائی وزرائے اعلیٰ اور اسمبلیوں سے کام چلانے کو آمادہ تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بھانپ گئیں کہ انہیں نواز شریف سمیت سیاسی گیم سے باہر رکھنے کی گیم لگائی جارہی ہے۔ تلملا کر انہوں نے غلام اسحاق کی شفقت کے طلب گاروں کو "سیاسی یتیم" کا لقب دیا۔ مذکورہ لقب نے غلام اسحاق خان کو صوبائی حکومتیں بھی برطرف کرنے کو مجبور کردیا۔

دریں اثناء جسٹس نسیم حسن شاہ کی سپریم کورٹ نے روزانہ کی بنیاد پر نواز شریف کی برطرفی کے خلاف دائر ہوئی اپیل کی سماعت شروع کردی۔ نواز شریف بھی مختلف شہروں میں جاکر "نظام کہنہ" کو للکارنے لگے۔ ان کے "انکار" نے نواز شریف کو مقبول سیاستدان بنادیا۔ روزانہ سماعتوں کے دوران سپریم کورٹ کے جج منتخب حکومت کی برطرفی کے خلاف سخت ریمارکس دیتے رہے۔ تاثر یہ دیا کہ غلام اسحاق جیسے "نظام کہنہ" کے محافظ عوام کی منتخب کردہ حکومتوں کو مستقل اضطراب کی کیفیت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ غلام اسحاق خان ان ریمارکس کی بدولت سیاسی اعتبار سے کمزور و بے بس دکھنا شروع ہوگئے۔ سپریم کورٹ نے 26مئی 1993ء کو نواز حکومت بھی بحال کردی۔ اپنی بحالی کے باوجود نواز شریف مگر پنجاب حکومت کے حصول میں ناکام رہے جہاں گورنر الطاف حسین صوبائی اسمبلی کو برطرف کرنے کا اختیار ہرصورت استعمال کرنے پر بضد تھے۔

1992ء کے آخری تین مہینوں سے مئی 1993ء تک پھیلے سنگین سیاسی ہیجان کے دوران جنرل عبدالوحید کاکڑ کی جنوری 1993ء میں تعیناتی کے بعد عسکری قیادت و ادارے غلام اسحاق خان اور نواز شریف کے مابین چپقلش کے دوران قطعاََ لاتعلق رہے۔ جو لاتعلقی نظر آئی وہ پاکستان کی سیاسی اور محلاتی سازشوں کے تناظر میں ناقابل یقین تھی۔ ان دنوں ضرورت سے زیادہ متحرک ہوتے ہوئے مگر اس لاتعلقی پر اعتبار کرنے اور اس کا احترام کرنے کو مجبور تھا اور اس لاتعلقی کا تمام تر کریڈٹ جنرل عبدالوحید کاکڑ کی ذات کو دینا تاریخی فرض سمجھتا ہوں۔

پنجاب حکومت کے حصول میں ناکامی نواز شریف برداشت نہ کر پائے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ مل کر جمہوری نظام کو تقویت دینے کی حکمت عملی بھی اختیار نہ کی۔ کامل ہیجان اور اضطراب کا یہ ماحول جنرل عبدالوحید کاکڑ کی جانب سے "میرے عزیز ہم وطنو" کی راہ بنارہا تھا۔ موصوف نے وہ راہ اختیار کرنے کے بجائے اپنے "محسن" صدراسحاق اور وزیر اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دے کر نئے انتخاب کی راہ نکالنے کو مائل کیا۔ اقتدار پر بذات خود قبضے کے بجائے جمہوری نظام کو یوں مستحکم ہونے کا ایک اور موقع فراہم کردیا۔ محلاتی سازشوں کے عادی سیاستدانوں نے مگر بدقسمتی سے یہ موقع بھی ضائع کردیا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.