Friday, 30 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Yaad Dashtein

Yaad Dashtein

بہت سارے صحافی بی بی سی وغیرہ کو بتا رہے ہیں کہ جنرل عبدالوحید کاکڑ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی پیشکش کے باوجود آرمی چیف کے عہدے میں توسیع قبول نہیں کی۔ میں نے ان میں ایک دو ایسے صحافیوں کے نام بھی پڑھے جو اس وقت غالباََ سکول میں تھے، شاید انہوں نے کچھ کتابوں میں ایسا پڑھا ہو۔

میں اس وقت صحافت میں نیا تھا اور سیاسی صحافت میں بھی۔ اس وقت میاں نوازشریف لیڈر آف دی اپوزیشن تھے اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم۔ یہ درست ہے کہ جنرل وحید کاکڑ پانچویں نمبر پر ہونے کے باوجود طاقتور صدر غلام اسحق خان کی چوائس بنے لیکن جب غلام اسحق خان نے نوازشریف کی اسمبلی توڑی، وہ سپریم کورٹ کے ذریعے بحال ہوئے تو وحید کاکڑ نے اپریل تا جولائی 1993ءکے بحران میں دونوں کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔

یہ 1996ءکا آغاز تھا جب نوازشریف وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد طاقتور اپوزیشن لیڈر کے طور پر جگہ بنا چکے تھے اور محترمہ بینظیر بھٹو اپنے صدر فاروق لغاری سے دور ہو رہی تھیں۔ ان دنوں میاں نوازشریف اپنے ماڈل ٹاون والے گھر میں کارکنوں کی محفل سجایا کرتے تھے۔ وہاں کی ان تقریر ہوتی جس سے بڑی خبر نکل آتی۔ الیکٹرانک میڈیا ہوتا نہیں تھا اور میں خبریں اخبار سے وابستہ تھا۔

ایک روز میاں نوازشریف نے ماڈل ٹاون والے گھر کے کان میں کارکنوں کے سامنے تقریر کی اور اس کے بعد ہم ان کے گھر کے اندر والے ڈرائنگ روم کی طرف جانے لگے تو روزنامہ جنگ کے چیف رپورٹر پرویز بشیر (جو اب ایڈیٹر رپورٹنگ ہیں) نے اپنے مخصوص انداز میں بات کا آغاز کیا۔ میاں صاحب سنا ہے بی بی آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع دے رہی ہیں، میاں نواز شریف نے ان کا فقرہ غور سے سنا اور اس کے بعد اس بات کو اپنے مخصوص انداز میں ٹال دیا۔ ہم سمجھے وہ اس پر بات نہیں کرنا چاہتے مگر معاملہ کچھ اور تھا۔

ہم سب ڈرائنگ روم میں آ گئے۔ چائے پینے کے ساتھ آف دی ریکارڈ گپ شپ شروع ہوگئی کہ اچانک اندر سے میاں نوازشریف کے پرائیویٹ سیکرٹری کرنل ریٹائرڈ مشتاق طاہر خیلی اپنے مخصوص انداز میں اندر آئے، بریف کیس کھولا اور اس میں سے ایک گلابی رنگ کا کاغذ نکال کر میاں نوازشریف کو دیا۔ پرویز رشید ان کے ساتھ تھے۔ میاں نوازشریف نے اسے پڑھا اور پرویز بشیر سے مخاطب ہوئے، پرویز صاحب آپ کیا پوچھ رہے تھے، اس پر میرا یہ جواب لکھ لیں۔ اس کے بعد انہوں نے ہمیں لکھوانا شروع کر دیا اور یہ واضح اور دوٹوک بیان تھا جس میں وہ جنرل وحید کاکڑ کی بطور آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کر رہے تھے، وہ وزیراعظم بینظیر بھٹو کو کہہ رہے تھے کہ مدت ملازمت میں توسیع نہ دی جائے کہ یہ فوج کے لئے نقصان دہ ہوگی اور اس بیان کے بعد یہ گنجائش ہی نہیں تھی کہ وحید کاکڑ کو ایکسٹینشن آفر کی جاتی، وہ متنازع ہو چکے تھے اور میرا خیال ہے کہ اس کا فوج کے اندر بھی کوئی نہ کوئی ردعمل ہونا تھا۔

مجھے یہ واقعہ کئی حوالوں سے یاد ہے کہ ایک تو میری پولیٹیکل رپورٹنگ زیادہ تجربے والی نہیں تھی اور دوسرے اس روز اس گفتگو کے موقعے پر برادرم سلمان غنی موجود نہیں تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اسی روز بیٹے کی نعمت سے نوازا تھا اور انہوں نے میجر طاہر جو خبریں اخبار میں میرے سینئر تھے، ان سے کہا تھا کہ وہ خبر ان سے لے لیں گے، سلمان غنی اس وقت روزنامہ پاکستان کے بعد "نوائے وقت" جوائن کر چکے تھے۔

ہم ماڈل ٹاون سے واپس آئے اور میں نے نماز جمعہ سے پہلے خبر مکمل لکھ کے فائل کی اور ساتھ ہی فوٹوکاپی بھی کروا لی تاکہ سلمان بھائی کو دے سکوں۔ میری"خبریں" میں اور ان کی "نوائے وقت" میں کریڈٹ لائن بھی ایک ہی تھی جو "خبرنگار خصوصی" تھی۔ یہ یادگار اس لئے رہا کہ سلمان بھائی نے خبر پڑھنے اور فائل کرنے کے بعد مجھے سراہا کہ خبر بہت اچھی بنائی ہے اور میں نے صرف انٹرو تبدیل کیا تاکہ دونوں اخبارات کی خبریں حرف بحرف ایک ہی نہ ہو جائیں۔ انہوں نے میاں نوازشریف کی باہر کی گئی تقریر سے انٹرو لیا۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات تھی کہ ایک سینئر اور تجربہ کار صحافی نے اہم ترین معاملے کی رپورٹنگ میں میرے خبر بنانے کو سراہا تھا۔

میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ پرویز رشید صاحب اور کرنل مشتاق جو لکھا ہوا پیپر لائے تھے کیا وہ فوج کے افسران نے دیا تھا کہ کاکڑ کی مدت ملازمت میں توسیع نہ ہو تو اس کا جواب تھا نہیں، نوازشریف اپنے بیانات اور الفاظ کے چناؤ میں بہت محتاط تھے اور ہیں۔ وہ غیر ذمہ دارانہ گفتگو نہیں کرتے۔ جب یہ سوال ہوا تو انہوں نے چائے پر آنے سے پہلے اپنا موقف سٹاف کو بتاکے کہا کہ اسے تحریر کر لیا جائے تاکہ وہ پریس کو جاری ہو۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ مدت ملازمت میں توسیع لینے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھے۔ وحید کاکڑ کے بعد جہانگیر کرامت آرمی چیف بنے جنہیں نیشنل سیکورٹی کونسل بنانے کی تجویز پر وزیراعظم سے اختلافات پر 1998ءمیں مستعفی ہونا پڑا اور پھر پرویز مشرف آ گئے جنہوں نے میاں نواز شریف کی حکومت ختم کرکے مارشل لا لگا دیا۔

جنرل وحید کاکڑ نے سیاسی کردار ادا کیا جس کی بعد میں انہیں قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ نوازشریف سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بطور وزیراعظم مدت پوری کر سکتے تھے مگر جنرل وحید کاکڑ نے نوازشریف ہی نہیں اپنے محسن غلام اسحاق خان کو بھی گھر بھیج دیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔