Monday, 26 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. Geo Asif Hassan

Geo Asif Hassan

لندن کے معروف ترین ہوٹل گروونر ہاؤس میں رات ڈھل رہی تھی۔ اسٹیج پر ایک ستر برس کا آدمی کھڑا تھا جسے ابھی ابھی پرائیڈ آف برٹن کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملا تھا۔ فلپ گلینسٹر اور اینا فریل نے ٹرافی اس کے ہاتھ میں دی۔ تالیاں بجیں۔ معاملہ ختم ہونا چاہیے تھا۔

مگر پھر اسٹیج کے ایک کونے سے لوگ آنا شروع ہوئے۔

ایک، دو، پانچ، دس، انیس۔ سب سے چھوٹی ازابیل تھی، عمر دس برس۔ سب سے بڑی لارا، عمر تینتالیس۔ یہ سب ایک قطار میں اس آدمی کے گرد کھڑے ہو گئے۔ ان انیس لوگوں میں ایک بات مشترک تھی۔ ہر ایک کے سینے میں اس آدمی کے ہاتھوں کا کام دھڑک رہا تھا۔ کسی کا دل اس نے مرمت کیا تھا، کسی کے سینے میں نیا دل رکھا تھا۔

پکے رنگ کے اس شخص نے جیب سے ایک بڑا سا رومال نکالا اور اس میں اپنے آنسو جذب کیے۔ پھر بڑی مشکل سے بولا، "اب میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ آپ نے اتنے سارے لوگوں کی گواہیاں سن لیں۔ میں نے کچھ خاص نہیں کیا، میں تو بس اپنا کام کر رہا تھا"۔

برطانیہ کے بہت سے بوڑھوں کو یاد آیا جب برسوں پہلے ایک ٹی وی شو میں نکولس ونٹن کے گرد وہ لوگ کھڑے ہو گئے تھے جنہیں اس نے بچپن میں نازیوں سے بچایا تھا۔

اس آدمی کا نام آصف حسن ہے۔ پاکستانی نژاد برطانوی۔ بچوں کے دل کا سرجن۔

انیس سو پچانوے میں وہ نیو کاسل کے فری مین ہسپتال میں کنسلٹنٹ سرجن بنے۔ تیس برس تک بچوں کے دل کی سرجری کے شعبے کے سربراہ رہے۔ اسی سال ستر برس کی عمر میں ریٹائر ہوئے۔ اس عرصے میں انہوں نے چار ہزار سے زائد اوپن ہارٹ آپریشن کیے، جن میں تین ہزار کے قریب میں وہ خود سربراہ سرجن تھے۔ ان کا اپنا اندازہ ہے کہ تقریباً چار سو بار انہوں نے کسی بچے کے سینے سے مرتا ہوا دل نکال کر کسی اور کا دل اس میں رکھا۔ ان کا ایک دوست کہتا ہے کہ عروج کے دنوں میں وہ سال میں ڈیڑھ سو آپریشن کرتے تھے اور یہ سلسلہ پچیس برس چلا۔

مگر اعداد و شمار اس کہانی کا سب سے کمزور حصہ ہیں۔

فری مین ہسپتال کی شہرت ایک خاص بات کے لیے تھی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں وہ بچے پہنچتے تھے جنہیں برطانیہ کے دوسرے مراکز نے جواب دے دیا تھا۔ خطرہ بہت زیادہ ہے، بچ نہیں سکے گا، چھیڑنا ٹھیک نہیں۔ ایسے بچوں کے ماں باپ کے لیے نیو کاسل آخری دروازہ تھا اور آصف حسن کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ آدمی انکار نہیں کرتا۔

انہوں نے دو ایسی چیزیں کیں جو آج دنیا بھر میں استعمال ہوتی ہیں۔ پہلی، برلن ہارٹ۔ ایک مشینی پمپ جو ننھے بچے کو اس وقت تک زندہ رکھتا ہے جب تک اسے کوئی عطیہ شدہ دل مل نہیں جاتا۔ دل کے انتظار کا پل۔ دوسری، جسے انہوں نے بوٹ لیس کلوژر کا نام دیا۔ جوتے کے تسمے والی بندش۔ مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ چھوٹے بچے کے سینے میں بڑا دل سما نہیں سکتا اور عطیہ شدہ دل اکثر بڑے ہی ملتے ہیں۔ آصف حسن نے سینے کی ہڈی کو بند کرنے کا ایسا طریقہ ایجاد کیا کہ بڑا دل چھوٹے سینے میں رہ سکے۔ جن بچوں کے پاس پہلے کوئی راستہ نہیں تھا، ان کے پاس اب راستہ تھا۔

اب ان انیس گواہوں میں سے دو کی کہانی سنیے۔

دو ہزار سترہ کی بات ہے۔ میکس جانسن نامی ایک بچہ آپریشن کی میز پر تھا۔ اس کے سینے میں نیا دل رکھا جا رہا تھا۔ بی بی سی کے کیمرے چل رہے تھے کیونکہ اس آپریشن میں پہلی بار برطانیہ میں ایک نئی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی تھی اور عین اس وقت ایک شریان کٹ گئی۔ خون فوارے کی طرح نکلنے لگا۔ کیمرے کے سامنے، پوری ٹیم کے سامنے۔

میکس کے والد پال کہتے ہیں، "آصف حسن نہ چیخا، نہ گھبرایا۔ اس نے بس معاملہ سنبھال لیا"۔

میکس کو جو دل ملا، وہ ایک بچی کا تھا۔ کیرا بال۔ وہ ایک کار حادثے میں دنیا سے چلی گئی تھی۔ اس کی ماں خود اسی حادثے میں شدید زخمی تھی اور باپ جو نے اکیلے یہ فیصلہ کیا کہ بیٹی کے اعضا عطیہ کیے جائیں۔ کیرا کے اعضا سے چار زندگیاں بچیں۔ میکس اور کیرا کی کہانی نے پورے ملک کو ہلا دیا اور دو ہزار بیس میں انگلینڈ کا قانون بدل گیا۔ اب ہر شخص عطیہ دہندہ ہے، جب تک وہ خود انکار نہ کرے۔ یہ قانون میکس اور کیرا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

برسوں بعد میکس نے آصف حسن کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے میری جان بچائی۔ سرجن نے بات کاٹ دی۔ "نہیں میکس۔ تمہارا دل کیرا کے گھر والوں نے عطیہ دیا تھا، بس ان کا شکریہ ادا کرو"۔

دوسری گواہ سیسیلیا ہے۔ سولہ برس پہلے، گیارہ برس کی عمر میں، اس کا دل بدلا گیا۔ اس کے ماں باپ نے اپنی بیٹی کو دل بند ہوتے دیکھا تھا۔ آج وہ ستائیس برس کی ہے، صحافی رہی ہے اور یہی وہ لڑکی ہے جس نے ایک نرس کے ساتھ مل کر اپنے سرجن کو اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا۔

سیسیلیا بتاتی ہے کہ فری مین ہسپتال کے بچوں کے وارڈ میں ہر کسی کا ایک نک نیم تھا۔ نرسوں کے، ڈاکٹروں کے اور آصف حسن کا نام تھا، بھگوان۔

میں یہ لفظ احتیاط سے لکھ رہا ہوں۔ ایک مسلمان کے لیے یہ لفظ کسی انسان کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ انگریز ماؤں کا لفظ ہے، جو اپنے مرتے ہوئے بچے کے سرہانے کھڑی تھیں۔ ایک ماں بتاتی ہے کہ جب اس کا بیٹا چند ماہ کا تھا تو ایک نرس نے اسے تسلی دی، "فکر مت کرو، تمہارے پاس گاڈ ہے"۔ ان کا مطلب خدا نہیں تھا۔ ان کا مطلب تھا، وہ آدمی جس کے کمرے میں آنے سے ڈر چلا جاتا ہے۔ سیسیلیا کہتی ہے، "ہم مذہبی گھرانہ نہیں ہیں۔ مگر اس شخص کے سامنے لگتا تھا کہ ہم کسی بہت بڑی ہستی کی موجودگی میں ہیں"۔

اور وہ آدمی خود کیا کہتا ہے؟

"میں ایک بالکل عام آدمی ہوں۔ میرے ساتھ غیر معمولی لوگ تھے۔ صرف ڈاکٹر نہیں، نرسیں، جنہوں نے اپنی زندگیاں مریضوں کو دے دیں"۔

ایک اور بات، جو اس کہانی کو ہماری کہانی بناتی ہے۔

آصف حسن کی چھٹیاں پاکستان میں گزرتی تھیں۔ مگر چھٹیوں کا مطلب آرام نہیں تھا۔ وہ اپنی اہلیہ نینسی کے ساتھ آتے، دنیا بھر سے سرجنوں کی ٹیمیں ساتھ لاتے، چھ گھنٹے میں نئی ٹیم سے جان پہچان کرتے اور پھر دو ہفتے مسلسل پاکستانی بچوں کے آپریشن کرتے۔ بغیر معاوضے کے۔ برسوں تک۔ یہ ان کی چھٹی تھی۔ انہوں نے دنیا بھر میں سرجن تیار کیے اور جب وہ سرجن کہیں نوکری پاتے تو یہ خود ان کے پاس جاتے کہ دیکھیں بندہ ٹھیک سے جم گیا ہے یا نہیں۔

ان سے پوچھا گیا کہ اس ساری زندگی میں سب سے بڑا فخر کیا ہے۔ چار ہزار آپریشن؟ چار سو دل؟ قانون کی تبدیلی؟

جواب سنیے۔

"میرا ایک پکا ارادہ تھا کہ جب میں کام چھوڑوں تو کوئی مجھے یاد نہ کرے۔ یہ غیر ضروری ہو جانے کا فن ہے۔ میں ایسے لوگ تیار کرنا چاہتا تھا جو صرف قابل نہ ہوں، مجھ سے بہتر ہوں اور یہ میں نے کر دکھایا۔ یہی میرا سب سے بڑا فخر ہے"۔

میں برسوں سے دنیا بھر میں قیادت پر بولتا اور لکھتا آیا ہوں۔ میں نے بڑے بڑے سربراہوں کو دیکھا ہے جن کی ساری محنت یہ ثابت کرنے میں گزر جاتی ہے کہ ان کے بغیر ادارہ نہیں چل سکتا اور یہاں ایک آدمی ہے جس نے پینتیس برس اس لیے کام کیا کہ ایک دن اس کے بغیر سب کچھ چلتا رہے۔

اس رات اسٹیج پر انیس گواہ کھڑے تھے۔ مگر اصل گواہی وہ ہے جو کسی اسٹیج پر نہیں آئے گی۔ نیو کاسل کے آپریشن تھیٹر میں آج کوئی اور ہاتھ کسی بچے کا سینہ کھول رہا ہے اور وہ ہاتھ آصف حسن کے سکھائے ہوئے ہیں۔

قائد وہ نہیں جس کے بغیر کام رک جائے۔ قائد وہ ہے جس کے بعد کام نہ رکے۔

آصف حسن، ہمیں تم پر ناز ہے، پاکستانی ہونے کے لیے شکریہ، مسلمان ہونے کے لیے شکریہ۔ تم نے انگلستان میں ہمارے سر بلند کردیے۔