Wednesday, 30 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Dera Ismail Khan Dehshat Gardi Aur Iss Shehar Se Wabasta Meri Yaadein

Dera Ismail Khan Dehshat Gardi Aur Iss Shehar Se Wabasta Meri Yaadein

بے تحاشہ وجوہات کی بدولت سوشل میڈیا سے رجوع کو ان دنوں وقت نہیں مل پاتا۔ اکثر یہ کالم یا ٹی وی پروگراموں کی کلپس پوسٹ کرکے دیگر کاموں میں مصروف ہوجاتا ہوں۔ اہم ترین واقعات کے بارے میں بھی اپنی "گرانقدر" سوچ کے اظہار سے گریز کی راہ اختیار کررکھی ہے۔ ہفتے کی شام مگر حماقت کا مرتکب ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں لیکن شرمسار محسوس کرنے کے بجائے پریشان ہوگیا ہوں۔ شدت سے احساس ہورہا ہے کہ اندھی نفرت وعقیدت ہمیں بحیثیت قوم اہم مسائل کے بارے میں قطعاََ بے حس بنارہی ہے۔ بدقسمتی سے دہشت گردی جیسے سنگین واقعات بھی اندھی نفرت وعقیدت کی بدولت کماحقہ توجہ اور فکر مندی سے محروم ہیں۔

ہفتے کی دوپہر ڈیرہ اسماعیل خان کو کوئٹہ سے ملانے والے ایک قصبے میں منعقد امان میلے پر ٹریکٹر/ٹرالی کے ذریعے ہوئے دہشت گرد حملے کی خبر آئی۔ اس کی تفصیلات سے گاہے بگاہے فون پر نگاہ ڈالتے ہوئے خود کو باخبر رکھنے کی کوشش کی۔ شام ہوئی تو لیپ ٹاپ کھول کر مزید کی تلاش جاری رکھی۔ جوواقعہ تھا اسے دہشت گردی کی تازہ لہر کے تناظر میں دیکھیں تو انہونا محسوس نہیں ہوتا۔ چند ذاتی تجربات لیکن مجھے اس حملے کے بارے میں مزید پریشان کرنے کا سبب ہوئے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میرے لئے قطعاََ اجنبی شہر رہا ہے۔ جنرل ضیاء نے 8 برس کے سخت گیر مارشل لا کے بعد غیر جماعتی انتخابات کا فیصلہ کیا تو میں اسلام آباد کے انگریزی روزنامہ "دی مسلم" کا نوجوان رپورٹرتھا۔ 1984ء میں اندراگاندھی کے قتل کے بعد بھارت میں ہوئے انتخابات کی دہلی سے کلکتہ تک سفر کرتے ہوئے جو رپورٹنگ کی تھی اس کی وجہ سے تھوڑی شہرت مل گئی۔ خود کو انتخابی سیاست کا ماہر تصور کرتے ہوئے اِترانا شروع ہوگیا۔ جوانی کے خمار میں اپنے مدیر مشاہد حسین سید صاحب سے درخواست کی کہ مجھے دفتر بسوں میں سفر اور چھوٹے ہوٹلوں میں قیام کے لئے کچھ رقم ایڈوانس دے تو میں پاکستان کے مختلف شہروں میں جاکر وہاں کا انتخابی موڈ رپورٹ کرسکتا ہوں۔ مشاہد صاحب نے دفتر سے کچھ رقم دلوانے کے علاوہ اپنی جیب سے بھی معاونت کرتے ہوئے حوصلہ افزائی فرمائی۔ نجانے دماغ میں کیا سمائی کہ پہلے انتخابی دورے کے لئے ڈیرہ اسماعیل خان سے میانوالی اور وہاں سے براستہ چکوال اسلام آباد لوٹنے کا سفر شروع کردیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں میراایک بھی شناسا رہائش پذیر نہیں تھا۔ ایک خستہ حال بس کے ذریعے منہ اٹھائے وہاں پہنچ گیا۔ مقامی پریس کلب کا پتہ معلوم کرنے کی کوشش کی۔ لاری اڈے پر ملے افراد کو اس کی خبر نہ تھی۔ وہاں سے البتہ شہر کے مرکزی بازار پہنچ گیا۔ کاندھے پر کپڑے کے تھیلے میں چند کپڑے، صابن، تولیہ اور دانت صاف کرنے کا سامان رکھا تھا۔ مرکزی بازار پہنچ کر نسبتاََ مصروف چائے خانے میں گھس گیا۔ اس کے مالک کو اپنے آنے کا مقصد بتایا اور کسی سستے ہوٹل کا پتہ جاننا چاہا۔ حیران کن محبت وشفقت سے اس نے مجھے اپنے ملازم کے ذریعے ایک ہوٹل بھجوادیا۔ ہوٹل والے سے ملازم نے میرا اپنے مالک کی وساطت سے تعارف کروایا۔ نہایت کھلے دل سے نسبتاََ مفت محسوس ہوتے کرائے پر مناسب کمرہ مل گیا۔ اپنے قیام کے دوران میں نے جتنی بار بھی قہوہ یا چائے پی اس کے پیسے بھی نہ لئے گئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان شہر یوں میرے دل میں پہلی محبت کی طرح ہمیشہ کے لئے بس گیا۔

1990ء کی دہائی میں ایک بار طویل قیام کے لئے بھارت جانا ہوا تو وہاں ٹی وی کے حوالے سے بہت مشہور ہوئے ونود دوا سے تاحیات دوستی ہوگئی۔ آبائی تعلق اس کا بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا۔ اس کی بے غرض محبت نے قائل کردیا کہ اس شہر کی مٹی میں کوئی خاص شے ہے جو اس کے باسیوں کو پرخلوص میزبان بنادیتی ہے۔

آخری بار ڈیرہ اسماعیل خان عمران خان کی اس ریلی کی کوریج پر گیا تھا جس کے ذریعے وہ وزیرستان پہنچ کر ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرنا چاہ رہے تھے۔ شام ڈھلنے کے کئی گھنٹے گزرنے کے بعد شہر میں داخل ہوئے تو رات بسر کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔ اس کے باوجود قطعی اجنبی افراد نے معقول بندوبست کردیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے وابستہ یادوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوشل میڈیا کے ایکس (X) پلیٹ فارم پر ہفتے کی شام ایک مختصر پیغام لکھ دیا۔ اس کے ذریعے محض یہ اعتراف کیا کہ ڈیرہ سے وابستہ یادیں مجھے وہاں دوپہر میں ہوئے دہشت گرد حملے کو فراموش کرنے نہیں دے رہیں۔ میری لکھی پوسٹ کا ذاتی دُکھ کے اظہار کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں تھا۔ اسے کافی افراد نے سراہا۔ اس کے بعد مگر Medlaskar (میڈلسکر)کے نام سے بنے ایک اکائونٹ سے میری والدہ کو گالی بکنے کے بعد یہ طعنہ ملا کہ مبینہ طورپر باپ کی شناخت سے محروم یہ "ٹائوٹ" صحافی ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئے دہشت گرد حملے کے ذکر سے لوگوں کی توجہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے بھٹکانا چاہتا ہے۔ جس شخص یا مشین نے یہ پیغام لکھا اس کو محض 22 افراد فالو کرتے ہیں۔ اس کا پیغام چسپاں ہونے کے بعد مگر تواتر سے کئی عجیب وغریب ناموں سے بنائے پیغامات کا طومار لگ گیا۔ مصنوعی ذہانت کی بدولت پوسٹ ہوئے مغلظات بھرے پیغامات کا سلسلہ طولانی ہوگیا تو ایکس انتظامیہ نے انہیں دیکھنے سے قبل مجھے ذہنی طورپر خبردار کرنا شروع کردیا۔

میری ڈھیٹ ہڈی سوشل میڈیا کے ذریعے ملی گالیوں سے گھبراتی نہیں۔ یہ سوچتے ہوئے لیکن کئی گھنٹے پریشان رہا کہ اپنے تئیں عمران خان کے عشق میں مبتلا ہوئے جنونی کس حد تک سفاک ہوچکے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کا واقعہ اگر واقعتا قابلِ نظرانداز ہوتا تو اس کے عین دوسرے روز خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ سوگوار خاندانوں اور زخمیوں کو پرسہ اور تسلی دینے اس شہر میں موجود نہ ہوتے۔ وہاں قیام کے دوران وہ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے گھر بھی گئے۔ یاد رہے کہ گنڈاپور کا آبائی تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ ان کی سیاسی شناخت اگرچہ اس پرخلوص انکساری اور بے غرض محبت کی نمائندہ نہیں جو میری دانست میں ڈیرہ اسماعیل خان کے باسیوں کی سرشت میں شامل ہے۔

دہشت گردی کے خلاف میرا موؤف کئی دہائیوں سے سخت گیر ہے۔ اسے وطن عزیز کے کلیدی مسائل میں شمار کرتا ہوں۔ اس کی وحشت کو اجاگر کرنے کے لئے برسرزمین جاکر بے تحاشہ واقعات کی انتہائی مشکل حالات میں رپورٹنگ کی ہے۔ دیرینہ قارئین کو غالباََ یاد ہوگا کہ 2021ء میں افغانستان میں طالبان کی بطور فاتح کابل واپسی کے چند ہی دن بعد میں نے تواتر سے ان کی "اجتماعی یادداشت" کا ذکر شروع کردیا۔ اسے ذہن میں رکھتے ہوئے مصر رہا کہ طالبان کی بطور فاتح کابل واپسی کو "غلامی کی زنجیریں کاٹنے" کے مترادف ٹھہراتے ہوئے خیرمقدم کرنے والے بالآخر پچھتائیں گے۔ "سیم پیج" پر ہونے کے خمار میں لیکن اس بدنصیب کی رائے نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی۔ اندھی نفرت وعقیدت سے بالاتر ہوکر ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ گزشتہ چند ہفتوں سے خیبرپختونخواہ میں دہشت گردی کی لہر شدت سے لوٹ آئی ہے۔ ہماری اشرافیہ کو باہمی اختلافات بھلاکر اس کا اجتماعی طورپر نہایت سوچ بچار سے تیار کی حکمت عملی کے ساتھ سامنا کرنا ہوگا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.