Tuesday, 29 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Hukumat Ka Mumkina Agla Faisla Kun Qadam, Article 232

Hukumat Ka Mumkina Agla Faisla Kun Qadam, Article 232

سوشل میڈیا کے پھیلائے ہیجان کی بدولت نہایت سوچ بچار کے بعد اپنی رائے کا اس کالم میں اظہار عموماََ وقت کا زیاں محسوس ہوتا ہے۔ اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوشل میڈیا کا پھیرا لگانے کے بعد نہایت ڈھٹائی سے مجھے یہ اعلان کردینا چاہیے کہ سہیل آفریدی نے 27ستمبر کے روز طے ہوئے لانگ مارچ کو 4اکتوبر تک مؤخر کرتے ہوئے حکومت کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔

تحریک انصاف کے احتجاجی کارکنوں میں سے کسی ایک کو بھی آئندہ سات دنوں کے دوران اسلام آباد آنے کا تردد درکار نہیں ہوگا۔ پاکستان کا دارالحکومت مگر اس پورے عرصے میں کنٹینروں کی مدد سے بنائی دیوار کے حصار میں نظر آئے گا۔ ملک بھر سے کٹے اسلام آباد میں روزمرہ زندگی یوں مفلوج ہوئی محسوس ہوگی اور تحریک انصاف ٹی-20 میچ کے بجائے ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے حکومت کو تھکا تھکا کر ہلکان کرنے کی خواہش میں کامیاب ہوتی نظر آئے گی۔ سوشل میڈیا کا طالب علم ہوتے ہوئے مجھے کامل اعتماد ہے کہ مذکورہ بنیادوں پر لکھے کالم کو توقع سے زیادہ لائیکس اورشیئرز ملیں گے۔

منطق کے ٹھوس حقائق پر اطلاق کے نتیجے میں حکومتی بندوبست سے نفرت کرنے والوں کا جی بہلانے والی رائے کے برعکس اخذ کئے نتائج اس "ٹاؤٹ" قلم گھسیٹ کو ایک بار پھر بے نقاب کردیں گے۔ ستائش کی ہوس لیکن کبھی لاحق نہیں رہی۔ پرانی وضع کی صحافت سوچ سمجھ کر لکھنے کو مجبور کرتی ہے۔

آج کے موضوع پر مزیدبڑھنے سے قبل کھلے دل سے یہ حقیقت اجاگر کرنا ہوگی کہ اپنے پیشرو علی امین گنڈاپور کے برعکس جواں سال ہوتے ہوئے بھی سہیل آفریدی نے 27ستمبر کے روز "اٹک کے اُس پار "سے اسلام آباد پر ایک اور یلغار کا تاثر دینے سے حیران کن حد تک اجتناب برتا۔ موصوف نے پرخلوص دِکھتی لگن سے "سٹریٹ موومنٹ" گرمانے کے لئے سندھ اور پنجاب کے دورے کئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا رویہ موصوف کے خلاف مخاصمانہ نہیں تھا۔ سندھ حکومت کا نسبتاََ نرم رویہ بھی لیکن آفریدی کے دورہِ سندھ کو مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کرپایا۔ وہاں سے ایسے مناظر سوشل میڈیا پر وائرل نہ ہوپائے جو کارکنان کے متاثر کن ہجوم کو 27 ستمبر کے روز اسلام آباد پہنچنے کو بے چین دکھاتے۔

"سٹریٹ موومنٹ" کے حوالے سے تاہم سہیل آفریدی کی لاہور آمد میری دانست میں تحریک انصاف کی صفوں پر چھائی مایوسی کو کاملاََ عیاں کرنے کا سبب ہوئی۔ حکومتی جبر نے تحریک انصاف کے رہ نماؤں اور نمایاں کارکنان کے دل ودماغ کو بے بس بنارکھا ہے۔ سہیل آفریدی کا اس کی وجہ سے آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے میں وہ منظم وموثر انداز میں استقبال کر نہیں پائے۔ لاہور کے معروف لکشمی چوک کے قریب ایک مصروف ترین سڑک کے کنارے سہیل آفریدی پولیس وین سے اتر کر گھنٹے سے زیادہ دیر تک بیٹھے رہے۔

مجھ جیسے بڈھے صحافی کو اس چوک کے کسی کونے میں دیکھ کر کم از کم 15سے 20افراد سیلفیاں کھنچوانے کو رک جاتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے جانے پہچانے چہرے کو مگر ایسی "پذیرائی" بھی نصیب نہ ہوئی۔ ان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی تھی۔ اسے موبائل پر دیکھنے کے بعد تحریک انصاف کے پرجوش کارکن لکشمی چوک پہنچ سکتے تھے۔ آفریدی کو مگران کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ لکشمی چوک کی ایک سڑک کنارے بیٹھے سہیل آفریدی کے ساتھ برتی بے اعتنائی نے مجھے اداس کردیا۔ اپنی اداسی پر توجہ دیتے ہوئے نواز شریف کی تنہائی بھی یاد آگئی۔

فرزند لاہور ہوتے ہوئے بھی ان کی وہ تقریر سننے کے لئے قابل قدر ہجوم لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل کے باہر جمع نہیں ہوا تھا جو انہوں نے عاصمہ جہانگیر کی برسی کے حوالے سے ہوئی ایک تقریب میں لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک فرمائی تھی۔ نواز شریف کے ساتھ اس روز برتی بے اعتنائی کے ذکرنے مسلم لیگ (نون) کے چند خود ساختہ محافظوں کو ناراض کیا۔ اس کے باوجود آج بھی مُصر ہوں کہ سیاست سے لاتعلقی اور بے اعتنائی کے موسم وطن عزیز کے لئے اجنبی نہیں۔ بلااستثناء صف اول کے ہمارے کئی سیاستدانوں نے انہیں کئی بار بھگتا ہے۔ اس تناظر میں ذاتی مشاہدات پر مبنی یادداشتیں لکھنے کے لئے ایک نہیں کم از کم دس کالم درکار ہوں گے۔

ماضی کو کریدنے کے بجائے اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے دیانتداری سے اعتراف فقط یہ کرنا ہوگا کہ سہیل آفریدی کی پرخلوص دِکھتی لگن کے باوجود ان کے سندھ اور لاہور کے دورے یہ تاثر اجاگر نہیں کر پائے کہ 27 ستمبر کو ہر صورت اسلام آباد پہنچنے کے لئے تحریک انصاف کے پرجوش کارکنان کی کماحقہ تعداد بے تاب ہے۔ قصہ مختصر "سٹریٹ موومنٹ" مطلوبہ نتائج فراہم نہ کرپائی۔ بالآخر معاملہ خیبرپختونخواہ سے اسلام آباد پر ایک اور یلغار کے تصور پر ہی لوٹ آیا۔

دریں اثناء ماضی کے تجربات کو بنیاد بناتے ہوئے اسلام آباد کے ایک "محب وطن" رہائشی اسلام آباد ہائی کورٹ کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ موصوف کی جانب سے دائر ہوئی درخواست کی فوری سماعت نے سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ اختیارات کو لانگ مارچ کے حوالے سے محدود تر بنادیا۔ خیبرپختونخواہ سے احتجاجی مظاہروں کو اسلام آباد کا رخ کرنے سے روکنے کی ذمہ داری بلکہ بنیادی طورپر خیبرپختونخواہ کی پولیس اور انتظامیہ کے کاندھوں پر منتقل کردی گئی۔

جس درخواست کی سماعت کا ذکر ہورہا ہے اس پر اپنی رائے کے اظہار کے لئے تحریک انصاف کے وکلاء میں سے کسی ایک نے بھی فریق بننے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ ان کی جانب سے برتی بے اعتنائی نے سہیل آفریدی کو تقریباََ تنہا چھوڑ دیا۔ پرانی وضع کا صحافی ہوتے ہوئے گزرے پیر سے جمعرات کی شام تک میں پشاور میں موجود اپنے دوستوں سے مسلسل رابطے میں رہا۔ جان بوجھ کر ان دوستوں سے روابط کو ترجیح دی جو تحریک انصاف کے خیر خواہ تصور ہوتے ہیں۔ ان سب نے متفقہ طورپر یہ اطلاعات دیں کہ پشاور اور اس کے ہمسایہ شہروں میں اسلام آباد پر یلغار کی تیاری نظر نہیں آرہی۔

سہیل آفریدی مگر نہایت پر اعتماد ہیں۔ چند دوستوں کو گماں تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ کے اعتماد کا منبع تحریک انصاف کی قیادت کے "اسلام آباد میں ہورہے" رابطے ہیں۔ بیرسٹرگوہر مبینہ روابط کا مرکزی ذریعہ ٹھہرائے گئے اور توقع یہ باندھی گئی کہ غالباََ وہ عمران خان کے علاج کے حوالے سے کوئی "اچھی خبر"کے حصول کے ذریعے سہیل آفریدی کو اسلام آباد پر چڑھائی کے ارادے کو مؤخر نہیں بلکہ منسوخ کرنے کی راہ فراہم کردیں گے۔

حکومتی صفوں میں تحریک انصاف کو "فیس سیونگ" فراہم کرنے کا ارادہ رپورٹر کے جبلی تجسس کے بھرپور استعمال کے باوجود ذاتی طورپردریافت کرنے میں ناکام رہا۔ اسلام آباد میں کنٹینروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے بلکہ منگل کی شام سے سخت گیر مؤقف پر ڈٹے رہنے کے تاثر کو مضبوط کیا۔ اسلام آباد کے خوف سے محصور ہونے کے تاثر کے ریگولر اور سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ نے تحریک انصاف کویہ نتیجہ اخذ کرنے کو اُکسایا کہ خلق خدا کی نگاہ میں حکومتی بندوبست 27ستمبر کے لانگ مارچ سے گھبرا گیا ہے۔ ہینگ اور پھٹکڑی لگائے بغیر یوں تحریک انصاف نے اپنی "قوت" کا رعب جمادیا ہے۔

سیاست کا دیرینہ طالب علم ہوتے ہوئے یہ لکھنے کی جسارت کروں گا کہ جی کو بہلانے والا یہ نتیجہ ہر حوالے سے خوش گمانی پر مبنی تھا۔ حکومت کو تھکادینے کے نام پر لانگ مارچ کو 4اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ مذکورہ تاثر کو تقویت فراہم نہیں کرتا۔ حکومت کو "تھکا تھکا کر ہلکان کرنے" کا چورن بیچنے والوں کو دیانتداری سے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ حکومت عوام کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہی ہے کہ تحریک انصاف اس کے خوف سے لانگ مارچ کے ارادے پر عملدرآمد نہیں کر پائی ہے۔ جو "بوکھلاہٹ" حکومتی صفوں میں کنٹینروں کی مدد سے لگائی دیواروں کی وجہ سے نظر آرہی تھی اسے وہ 4 اکتوبر تک برقرار رکھنا نہیں چاہے گی۔ "اگلا" اور نسبتاََ فیصلہ کن قدم اب اس کی جانب سے اٹھایا جاسکتا ہے۔ ممکنہ قدم کی تلاش کے لئے میں آئین کے آرٹیکل 232پر ہفتے کی دوپہر سے توجہ مبذول کئے بیٹھا ہوں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.