Thursday, 01 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Ali Raza Ahmed
  4. Uljhanein Or Suljhanein (1)

Uljhanein Or Suljhanein (1)

میرا دوست وقار مجروح ایک رسالے کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہے وہ اپنی رہائش میں بیٹھ کر "الجھنیں آپ کی علاج ہمارے" ترتیب دے کر الجھنوں کو سلجھنوں میں ایسا بدلتا ہے کہ پورے رسالے کی فضاء بدل جاتی ہے اب تو وہ ہمسایا ممالک سے آنے والی ڈاک کو بھی اچھے"خطوط"پر چلانے لگ گیا ہے۔ گزشتہ اتوار کو اس کاپیج کا مواد بڑا دلچسپ لگا جو آپ کی سمع خراشی کے لئے پیش خدمت ہے ملاحظہ فرمائیں۔۔

(قارئیں ہم آپ کے الجھنوں بھرے سوالات کو اب سنجیدگی سے لینے لگ گئے ہیں اور یہ سنجیدگی جنتی بھی ہے اس کو بڑا سمجھیں۔ آپ اپنا سوال صاف اور کاغذ کی پشت پر لکھیں کیونکہ سیدھ پر لکھی عبارت سے ادارے کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ ابھی کل ہی میرا پورے سوال و جواب کا مسودہ کمپوزر نے یہ کہہ کر واپس بھی دیا کہ میں اتنا پڑھا لکھا نہیں ہوں پتا نہیں وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا ہمارے پاس پوری دنیا سے سوال پوچھنے اور الجھنیں بیان کرنے والے کثیر تعداد میں ہیں اور جواب دینے اور "حل" پیش کرنے والے توان سے زیادہ حجامو ں دوکانوں اور سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سوال کرنے والا عموماً جواب چاہتا ہے جبکہ جواب دینے والا عموماً سوال کے پیدا ہونے پر بھی سوال اٹھادیتا ہے مگر ادارہ پھر بھی آپ کے سوالات کا "سوالی" ہے۔ ہمارے ہاں تو بعض دفاتر میں ایسا سوال پوچھنا بھی ایک باقاعدہ فن ہے اور جواب دینا ایک ایسی صنعت جس میں خام مال کے طور پر سائل ہی کی امیدیں استعمال ہوتی ہیں۔ قارئین کی الجھنوں کے "حل" جو ادارے نے پیش کیے ان کو بھی ذرا ملاحظہ فرمالیں)

معروف بیگ۔ نوشہرہ

میں معروف شاعر ہوں اور ایک عرصے سے غزلیں لکھ رہا ہوں مگر کوئی رسالہ میری غزل کو اپنے رسالے کے کسی پلڑے میں نہیں ڈالتا بلکہ ایک تولہ چھ ماشے کا شعر بھی انہیں بے وزن لگتا ہے کیا کیا جائے مجھے مشورہ درکار ہے۔

ادارہ: ہمارا رسالہ"بحرالکاہل" آپ کے لئے حاضر ہے اپنے نام کے اثر کی وجہ سے شاید یہ چھپنے میں ذرا وقت لیتا ہے۔ آپ بلا مبالغہ ہم پر اپنی"غزلِ کرم" کریں اور فوری طور پر اپنا کلام بھیجیں ہم آئندہ چھپنے والے شمارے ستمبر "2023" میں "تازہ غزل" کے گوشہ میں اسے ذرا گرم کرکے لگائیں گے جس کی وجہ سے بقیہ شعراء کا پارہ چڑ ھنے کے امکانات ہیں۔ ویسے اپنی غزل میں قافیہ ردیف بحر اور وزن کا خیال ضرور رکھیں بخدا ہم یہی سمجھیں گے کہ آپ نے ہمارے وقار کی قدر کی ہے اور اسے مجروح ہونے سے بچایا ہے۔

کابل خان ترین۔ کوہاٹ

میں ایک سیاسی ورکر ہوں جب سے فلم ڈائریکٹر جمائمہ گولڈ سمتھ نے"کیفرون" نامی انگریز سے باون سال کی عمر میں شادی کی ہے اس وقت سے میں نے بھی احتجاجاً کئی راتیں جاگ کر گزار دی ہیں مگر اپنا بیڈ تاحال نہیں چھوڑا بس یوں سمجھ لیں یہیں دھرنا دیے بیٹھا ہوں آپ ہی بتائیں یہ بھی کوئی بات ہے؟ اگر اس نے شادی کرنی ہی تھی تو اس وقت کرتی جب میں نے ابھی پارٹی نہیں بدلی تھی۔ اب خامخواہ مجھ جیسے شریف آدمی کو پریشان کرنے کی کیا ضرورت ہے بھلے اس جمائمہ نے یہ "حرکت" کر لی ہے لیکن مجھے یقین ہے وہ لندن بیٹھ کر اب بھی کوئی نہ کوئی گیم ڈال سکتی ہے کیا میرا احتجاج درست ہے؟

ادارہ: آپ کا شکریہ کابل خان کہ آپ نے ہمیں اس "کابل" سمجھا۔ یہ بات واقعی "نا کابل" برداشت ہے اور اس نے شادی کرکے ایسا قدم اٹھایا ہے کہ آپ جیسے مخیر ووٹروں کے قدم ویسے ہی اکھڑ گئے ہیں لہذا ان میں ایک میں فوراً "کابلا" فٹ کروائیں اور خود کو نئی پارٹی سے اکھڑنے سے بچائیں۔ ویسے کیمرون بیچارے سے آپ کی کیا دشمنی ہے وہ کون سا قارونِ ثانی ہے۔ ایسی چائنا کی شادیاں معجون ختم ہوتے ہی "کیمر-ون" ہوجاتی ہیں۔ آپ دھرنے میں مرنے سے گریز کریں اور کوئی ایسا کام کریں کہ آپ کا زیادہ وقت آرام میں گزرے اور آپ کی "آرام زدگی" میں فرق نہ آئے۔

سردار سورن سنگھ۔ بھنڈیاں والا

میری عمر اڑتالیس سال ہے گزارش ہے کہ زندگی میں پہلے بار میرا منہ اندر سے پک گیا ہے جس کی وجہ سے مجھے کھانے گانے اور لگانے میں بہت تکلیف ہے حالانکہ اتنی بھی نہیں لیکن منہ پر آئی بات رہتی کہاں ہے۔ اب دو ہاتھ جوڑے میری بِنتی ہے کہ میری تشفی فرمائیں۔

ادارہ: شری سورن سنگھ جی آپ کا منہ اب آ جا کر کہیں پکا ہے اس عمر میں لوگوں کو منہ خور کی بیماری تک لگ جاتی ہے حالانکہ گندی سے گندی مٹی کا برتن بھی آگ کی بھٹی میں چند منٹوں میں پک جاتا ہے اور پھر ایسا مضبوط ہوتا کہ ہر استعمال کرنے والے کو پکا منہ بنا کر کہتا ہے میں اڑتالیس سال کا ہوں اور ابھی بھی پختہ ہوں قبل ازیں یہ باہر سے پکتا تھا تو دنیا دیکھتی تھی اور وہیں "نقصہ جات" سے آگاہ کر دیتی تھی اب اندر سے پکنے کی وجہ سے وہ بھی نسخے دینے کی بجائے گالی دے کر گزر جاتے ہوں گے۔ شکر کریں زندگی میں یہ موقع آیا ہے کہ آپ بھی اپنے ذاتی منہ کو پکا سا بنا کر ہر کسی کو چکمہ دے سکتے ہو۔ بہتر ہے اب آپ چند دن کسی کو بھی منہ نہ لگائیں بلکہ آئندہ اسی پکے منہ کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کریں جس سے آپ اندازہ ہوگا منہ بنانے اور لگانے میں کتنا فائدہ ہے۔

لگانے کے بارے میں یہی سمجھ آئی ہے کہ آپ ہر ایرے غیرے کو منہ نہیں لگاتے اس کی بجائے آپ اپنی بتیسی وغیرہ لگادیتے ہیں جس سے آپ کو یقیناََ تکلیف تو ہوتی ہوگی۔ اب اس عمر میں منہ پکنے کا بھر پور فائدہ اٹھائیں۔ بلکہ ابھی چند روز اس کا علاج بھی نہ کروائیں اور اس کو خوب پک لینے دیں مشورہ یہی ہے کہ اس کو درمیان میں کچا پکا مت چھوڑیں ورنہ آپ سخت ہڈی چبانے کو ترس جائیں گے اور لوگ آپ کو ایسا دیکھ کر آپ پر ترس کھا سکتے ہیں بہتر یہ ہے کہ لوگ آپ کو دیکھ کر یہ کہیں کہ یہ چچا منہ کا بہت پکا ہے۔

آپ کو شاید کسی منہ بولی بیماری نے آ لیا ہے بلکہ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ آپ نے ضرور بے وقتی راگ الاپا ہوگا۔ اب آپ اڑتالیس کے ہیں اس عمر میں کوئی بھی راگ اونچے سروں میں گانے سے "پرہیز" کریں۔ پکا ہوا کچھ نہ کھائیں بلکہ اس کا اظہار کیے بغیر صرف کچا کھانے کی کوشش کریں اور ایسا پتنی کے سامنے کہنے سے گریز کریں کہ میں اسے ویسے ہی کچا کھا جاؤں گا بلکہ پکے سگریٹ سے بھی پرہیز ہی بھلی۔ آپ کی عمر اڑتالیس سال اور پکے سگریٹ سے اب "ہڑتال لیس" ہی بھلی۔۔