نقل بھی اصل کی جانب نقل و حرکت کرتی کرتی اب اصل کے قریب آ چکی ہے اور آج کل نقل بھی اصل کو آنکھ مار کر کچھ دیر کے لئے چپ کرا دیتی ہے بلکہ خریدار کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتی ہے اور اس کا دماغ سودا خرید کر لفافے میں ڈالنے تک الٹا دیتی ہے۔ گھر سے جب بھی دودھ خریدنے جائیں آپ اس کا تجربہ کر سکتے ہیں بس یہ نقل الٹ سے ذرا مختلف ہے۔
گورا کا الٹ کالا ہے اسی طرح امیر غریب دن رات اور اصل نقل وغیرہ سے تو سب دوست دشمن واقف ہی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا antonym یا opposit کے درجات اور الفاظ بھی بدلے جا چکے ہیں بلکہ اب "الٹ" کی درمیانی شئے اپنی "سیدھ" اور آسانی کے ساتھ آن لائن بھی دستیاب ہے۔ بچپن میں استاد نے جب میٹھا کا الٹ پوچھا تو میرے ساتھ بیٹھے وقار نے ہاتھ اٹھا یا اور اس کے منہ سے فوراً نکلا استاد جی! رفیق۔۔ استاد جی نے اس کے کان سے پکڑ کر کہا اوئے میرے ساتھ مذاق؟ اصل میں رفیق کو "پھیکا" کے نام سے پکارا جاتا تھا بالکل اسی طرح وہ مرغا زار کو ککڑ زار بھی بنا دیا کرتا تھا۔ اب آمد کا الٹ بھی جامد میں بدل گیا ہے بلکہ حالات نے بدل دیا ہے جامپور سے جام صاحب پشاور آ کرکسی کے مہمان بنیں اورپھر واپس اپنے شہر جانا بھول جائیں تو اس آمد کو "جامد" کہنا ہی درست ہوگا۔ اسی طرح آزادی کو بھی کئی شوشل میڈیا کے اردو دان دفعہ 144 میں ایسے بدل دیتے ہیں جیسے امیر کو غریب کی بجائے متوسط طبقہ میں بدلا جاتا ہے۔
اسی طرح نئی چیز کے لئے بھی سیکنڈ ہینڈ یا اصل نقل کی بجائے "چائنا" استعمال ہوتا ہے۔ نقل اتنی بری شئے نہیں کئی دفعہ یہ خودکشی کرنے والے کو اس وقت بچا لیتی ہے جب اسے کوئی نقلی زہر دے ڈالے۔ ہمارے دوست دلبر جان کو ہی لے لیں پہلے وہ اپنی زبان پشتو کا استعمال کرکے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے اگر بات نہ بنے تو وہ ایک دم پشتو سے "پشتول" کے "لہجے "میں بات کرتا ہے بعد میں بھلے کوئی ممتحن اس غلطی کے بھلے جتنے مرضی نمبر کاٹ لے وہ ان "دونوں" آرٹ کو یکجا کرکے دو نالی بندوق کی طرح اکٹھا استعمال کرتا ہے۔ ایک دفعہ یہ اردو کے پرچے میں بطور سپرنٹنڈنٹ تعینات تھا اس نے کمرہ امتحان کے اندر یہ لکھوا رکھا تھا "نقالوں سے ہوشیار رہیں"۔
وقار مجروح کہتا ہے کہ ہمیشہ اصل کی ہی نقل بنتی ہے مگر صرف الفاظ ہی ہیں جن کی نقل دستیاب نہیں ہوتی اگر طالب علم کو ان کا "سیدھا" سا الٹ مل جائے تو اسے نمبر پھر بھی مل جاتے ہیں لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر شئے یا الفاظ کا الٹ بھی موجود ہو جیسے قیمہ، قانون، قصاب، صراف، AI، موبائل فون یا شاعر۔ جی ہاں! لیکن ان کی نقل ہر صورت ضرور موجود ہوتی ہے۔ آج کل کئی ممالک کی قومی زبانوں کی اصل نقل بن چکی ہے جیسے اردو کی ہندی میں بالکل امریکی اور برطانوی انگریزی کی طرح۔
آج کل نقلی سونا عام ہے مگر زیادہ تر سناروں کو Metallurgy کا قطعی علم نہیں ہوتا اور ان کی بلا جانے کہ سونے میں کاربن کے کتنے ایٹم ہوتے ہیں اس کا کام صرف سونے کی کڑھائی کاٹ اور کمی بیشی کے ہیر پھیر تک محدود ہے۔ یہ وہ پیشہ ہے جنہیں جھوٹ سچ کے قلابے اور سونے میں تانبے ملانا آتے ہیں۔ اگر کبھی ان کے سانچ کو آنچ آ بھی جائے توگاہک سے تین پانچ کرکے خود کو 24 قیراط سچا ثابت کر لیتے ہیں۔
سنار کا پیشہ ہی ایسا ہے کہ وہ "نار" کے ساتھ آخر تک جڑ ا رہتا ہے اور ہمیشہ اس کو پرائی سمجھ کر بھڑکانے کی کوشش میں رہتا ہے۔ اصلی سونا بنانے والے کیمیا گر کے عزم اور سنار کے کاروبارکے درمیان زیادہ نہیں بس ایک آدھ آنچ کا فرق ہوتا ہے مگر کیمیا گری کے علم سے سنار کا کوئی تعلق نہیں ہوتا جبکہ کیمیا گر کا آگ سے تعلق سونے پر سہاگے کا ہے۔ کیمیا گر کا کام سونا بنانے سے ضرور ہے لیکن سنار سے اس کا واسطہ شاید ہی کبھی پڑا ہو۔ اگر ایک دفعہ پڑ جائے تو پھر ظاہر ہے اس وقت تک پڑے گا جب تک کیمیا گر کی لیباٹری فعال رہے گی۔
معلوم نہیں اس علم کا حقیقت کی دنیا سے کتنا تعلق ہے کہ سنار کیمیا گروں کی جلائی گئی آ گ کے قریب بھی نہیں بھٹکتا۔ کیمیا گر کا عزم اس بات پر پختہ ہوتا کہ وہ سونا بنا سکتا ہے بلکہ وہ اسے بنا کر ہی دم لے گا بھلے چاندی پر ہڑتال کا بجھاو دیتے اس کی کٹھالی ہڑتال کر جائے۔ سونا بنانے کی جستجو میں شاید ہی اس کی کبھی چاندی ہو پائے مگر دولت مند لوگ اکثر اس کی کیمیا گری سے دور ہی رہتے ہیں اور بیچارے لقموں سے محروم لوگ ہی اس کی آگ کے قریب نظر آتے ہیں۔ سونا اتنی بھی کوئی دلکش یا بے ضرر شئے نہیں اگر کسی معروف گویے کو بتا کر بھی سونے کی سوئی چبوئیں تو وہ بھی اس حرکت سے "راگ بگولا" ہو جائے گا۔
آج کل آن لائن فراڈ ہو رہے ہیں اگر آپ "بانوے" کے ہیرو کا آڈر دیں تو آپ کو لارڈز کا زیرو موصول ہوگا۔ وقار مجروح نے ایک دفعہ ربڑ کے نقلی ناگ کا آن لائن آڈر کیا تاکہ وہ لوگوں کو اس سے ڈرا کر تفریح لے سکے۔ پارسل کھولنے پر پتا چلا کہ کمپنی نے زندہ ناگ بھیج دیا ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے "ناگ بگولا" ہونا ہی تھا۔ بس یہی قیامت کی نشانیاں ہیں کہ نقل کی تلاش میں اصل مل جائے۔
کیمیا گری ایک ایسی جستجو ہے جس میں کیمیا گر کے شاعر بننے کا خط یا خطرہ بھی موجود رہتا ہے اور شاعر کا کیمیا گر بننے والا حالانکہ خط کا خطرے سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ شاعر بھی دراصل لفظوں کا "قیمیہ گر" ہوتا ہے البتہ اس کی بھٹی میں الفاظ کا نسخہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنا "شعرنگرف" قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اسی طویل ریاضت سے ایک ایسا شعر جنم لیتا ہے جو سونے کی مانند چمکتا ہے اور کبھی وہ شعر کندن بن کر زمانے کی کسوٹی پر بھی پورا اترتا ہے۔ مجھے ہمیشہ ہی محسوس ہوتا ہے کہ کیمیا گر اور شاعر کی منزلیں جدا نہیں ہیں۔ یہ دونوں عام کو خاص بے قیمت کو قیمتی اور خام کو پختہ بنانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کیمیا گر دھاتوں میں سونا تلاش کرتا ہے اور شاعر لفظوں سے کندن۔
انسان کا الٹ کہیں نہیں ملتا البتہ مصریوں کی الٹی سیدھی ممیاں مل جاتی ہیں۔ کیاانسان کی نقلی کاپی بھی ملتی ہے مگر سعدی شیرازی کوتاہ "قدنی"، کوتاہ پیشانی اور کوتاہ گردنی کو نقالی قسم کا انسان کہتے ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں بعض اوقات نقل اتارنے والا نقلیہ بھی اندر سے "اصل" انسان ہوسکتا ہے۔ انسان کو پرکھنا آسان نہیں مگرجب یہ گمراہ ہوتا ہے تو پھر ایک نقلی قسم کے انسان کی صورت یا میت کی شکل میں ہمارے آگے چل پھر رہا ہوتا ہے لیکن اس کا حشر "اصلی" ہوتا ہے اور جب وہ خوف سے خوب آوازیں نکال رہا ہو اور اس وقت اسے ذرا ٹھوک بجا کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ تو تھوتھا چنا ہے۔۔