لاہور کے کسی گنجان کباڑ خانے میں داخل ہوں، راولپنڈی کے چور بازار کا رخ کریں یا کراچی کے مضافات میں قائم گوداموں کا جائزہ لیں، ہر جگہ آپ کو ایک چمکدار اور کارآمد شے کے اندر چھپی ماحولیاتی تباہی کا سراغ ملے گا جس پر ہماری اربن پالیسیوں نے آنکھیں موند رکھی ہیں۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات بستر پر جانے تک جس سمارٹ فون کو ہم سٹیٹس سمبل، رابطے اور ڈیجیٹل تفریح کا ناگزیر ذریعہ سمجھے بیٹھے ہیں وہی دراصل ہماری ہوا، زیرِ زمین پانی اور زرعی زمین کے لیے ایک سائلنٹ کلر ثابت ہو رہا ہے۔ سموگ اور ماحولیاتی آلودگی پر جب بھی ٹاسک فورسز بیٹھتی ہیں، سارا ملبہ دھواں چھوڑتی گاڑیوں، فیکٹریوں کے بوائلرز اور فصلوں کی باقیات جلانے والے کسانوں پر ڈال دیا جاتا ہے لیکن میری اور آپ کی جیب میں پڑا فائیو جی موبائل جس انداز میں ماحولیاتی بگاڑ کا حجم بڑھا رہا ہے اس کی کڑیاں کینسر وارڈز اور بنجر ہوتی مٹی سے جا ملتی ہیں۔
حقائق اور ڈیٹا پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس "جرم" کا آغاز فیکٹری کے دروازے سے بھی بہت پہلے کان کنی کے اڈوں پر ہوتا ہے۔ ایک عام سمارٹ فون کے سرکٹ اور باڈی میں سونا، چاندی، تانبا، لیتھم اور کوبالٹ سمیت درجنوں حساس زمینی مادے چھپے ہوتے ہیں۔ لیتھیم اور کوبالٹ کے بغیر تو سمارٹ فون کی بیٹری تیار نہیں ہو سکتی۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور انڈسٹریل رپورٹس میں دئیے گئے ٹھوس شواہد بتاتے ہیں کہ زمین سے محض ایک ٹن لیتھم نکالنے اور ریفائن کرنے کے لیے بیس لاکھ لیٹر سے زائد پینے کا میٹھا پانی سکھایا جاتا ہے۔ چلی کے اٹاکاما سالٹ فلیٹس اور بولیویا کے نمکین میدانوں میں زمینی پانی کا لیول اس قدر نیچے گر چکا ہے کہ مقامی کاشتکار بنجر زمینیں چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف جمہوریہ کانگو کے کان کنی کے خطوں میں بغیر کسی سیفٹی پروٹوکول کے کوبالٹ نکالنے کے لیے جو تیزاب بہایا جاتا ہے اس نے مقامی آبی گزرگاہوں کو زہر کا نالہ بنا دیا ہے۔ یعنی جب ہم کسی شو روم سے پچاس ہزار یا دو لاکھ کا فون اٹھاتے ہیں تو اس کی ماحولیاتی قیمت دنیا کے کسی پسماندہ خطے کا شہری اپنی پیاس اور برباد کھیت سے ادا کر چکا ہوتا ہے۔
انویسٹی گیٹو رپورٹرز جب اس سپلائی چین کی چھان بین کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل چوری اس عمل میں چھپی ہے جسے ماہرین کاربن فٹ پرنٹ کا نام دیتے ہیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ ایک موبائل ڈیوائس کے بننے سے لے کر ناکارہ ہو کر پھینکے جانے تک اس نے فضا میں کتنا زہر گھولا؟ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ ایک سمارٹ فون اپنی پوری عمر میں جتنا زہریلا دھواں اور کاربن فضا کے نام کرتا ہے اس کا 75 سے 80 فیصد اخراج اس وقت ہو چکا ہوتا ہے جب وہ مشرقی ایشیا کے دیو ہیکل صنعتی پلانٹس کی بھٹیوں میں کچے مال سے چپس اور سکرینوں کی شکل میں ڈھل رہا ہوتا ہے۔
دوسرا مرحلہ ہمارا مسلسل آن لائن رہنا ہے۔ جب ہم تیز رفتار فور جی یا فائیو جی انٹرنیٹ پر بغیر ضرورت ویڈیو سٹریمنگ کرتے ہیں تو یہ ڈیٹا ہوا میں نہیں تیرتا۔ دنیا کے کسی کونے میں قائم دیو ہیکل ڈیٹا سینٹرز میں لگے ہزاروں سرورز مسلسل کوئلے اور ایندھن سے بننے والی میگاواٹ بجلی پی رہے ہوتے ہیں۔ ان سرورز کو پگھلنے سے بچانے کے لیے لاکھوں گیلن شفاف پانی کولنگ سسٹمز کی نذر ہوتا ہے۔ یہ انٹرنیٹ کلاڈ محض علامتی نہیں ہے۔ یہ ہمارے گلیشیئرز کو پگھلا کر گرمی کی لہروں میں اضافے کا باقاعدہ فزیکل سبب بن رہا ہے۔
اس ماحولیاتی جرم کا سب سے خطرناک پہلو وہ ریکٹ ہے جسے کارپوریٹ اصطلاح میں پلانڈ اوبسولیسنس یعنی اشیا کو جان بوجھ کر وقت سے پہلے ناکارہ بنانا کہا جاتا ہے۔ چند سال پہلے تک کسی بھی موبائل کی بیٹری الگ سے تبدیل ہو سکتی تھی، ہارڈویئر کھل جاتا تھا اور لوکل مارکیٹ کا ٹیکنیشن اسے رپیئر کر لیتا تھا۔ اب ملٹی نیشنل ٹیک کمپنیوں نے ایسا غیر اخلاقی ماڈل نافذ کیا ہے کہ فون کو واٹر پروفنگ کے بہانے اندر سے سیل کر دیا جاتا ہے۔ بیٹری یا اسکرین کی مرمت پر اتنا خرچہ آتا ہے کہ صارف نیا سیٹ لینے پر مجبور ہو جائے۔
ہر بارہ ماہ بعد ایک کیمرہ یا اے آئی فیچر کا لیبل لگا کر نیا سیٹ مارکیٹ میں جھونک دیا جاتا ہے جبکہ پچھلے فون کو سافٹ ویئر آپ ڈیٹس کے ذریعے دانستہ سست کرکے ڈیجیٹل کوڑے کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی گلوبل ای-ویسٹ مانیٹر رپورٹ کے مطابق دنیا میں سالانہ 62 ملین ٹن سے زیادہ برقی کچرا پیدا ہو رہا ہے اور اس کا صرف 22 فیصد حصہ رسمی طور پر ری سائیکل ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ باقی لاکھوں ٹن کچرا کہاں غائب ہوتا ہے؟ اس کا بڑا حصہ امیر ملکوں سے کنٹینرز میں لاد کر سستے کسٹم کلیئرنس کے نام پر پاکستان، بھارت اور افریقی ممالک کے غیر قانونی کباڑ خانوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔
اب ذرا اس گرانڈ ریئلٹی کو دیکھیں جس کا شکار ہمارے اپنے شہری بن رہے ہیں۔ لاہور اور کراچی کی کباڑ مارکیٹ کے عقب میں یا کچھ بستیوں میں کم سن بچے چند سو روپے کی دیہاڑی پر ان اسمارٹ فونز کے سرکٹ بورڈز کو کھلی آگ پر گیس سلنڈروں سے جلاتے ہیں تاکہ چند گرام تانبا اور چاندی نکالی جا سکے۔ ان پرزوں سے جو نیلا اور زہریلا کیمیکل کا دھواں اٹھتا ہے، م اس میں سیسہ، پارہ، کیڈمیم اور آرسینک شامل ہوتے ہیں۔ یہ دھواں ان بچوں کے پھیپھڑوں کو چھلنی کر رہا ہے۔ بارش کا پانی جب ان ای-ویسٹ کے کھلے ڈھیروں سے گزرتا ہے تو یہ بھاری دھاتیں مٹی میں رِس کر زمینی پانی میں شامل ہو جاتی ہیں۔ وہی پانی ہم ہینڈ پمپ اور ٹیوب ویل کے ذریعے پی رہے ہیں جس کا نتیجہ کینسر، گردے فیل ہونے اور بچوں میں اعصابی بیماریوں کے ریکارڈ کیسز کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
یہ محض ایک ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ہماری بے حسی اور ریاستی اداروں کی غفلت کی واضح داستان ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے ادارے اور پالیسی ساز کباڑ خانوں میں جلنے والے اس زہر پر قانون سازی کرنے اور کسٹم چور راستوں سے آنے والے برقی کچرے پر پابندی لگانے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔