Friday, 06 November 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Digital Inqilab Aur Khali Jaibein

Digital Inqilab Aur Khali Jaibein

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سامنے جب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے سربراہ نے اعداد و شمار کی فائلیں کھولیں تو ہر سماعت دنگ رہ گئی۔ پاکستان میں اس وقت 9 کروڑ 60 لاکھ افراد یوٹیوب پر موجود ہیں اور روزانہ 56 کروڑ ویڈیوز اسکرینوں پر گردش کرتی ہیں۔ ٹک ٹاک کے صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور 15 کروڑ لوگ اس پلیٹ فارم پر مسلسل مواد دیکھ رہے ہیں یا آپ لوڈ کر رہے ہیں۔ واٹس ایپ کا عالم یہ ہے کہ 10 کروڑ صارفین روزانہ 1 ارب کالز ملا رہے ہیں اور 12 ارب پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ پہلی نظر میں یہ کسی بھی جدید معاشرے میں ڈیجیٹل کی غیر معمولی وسعت معلوم ہوتی ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو ہوش اڑ جاتے ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں شدید غربت کے نرغے میں جکڑے ہوئے افراد کی تعداد تقریباً 5 کروڑ 76 لاکھ ہے جن کی فی کس یومیہ آمدن بین الاقوامی خط غربت سے بھی نیچے ہے اور ان کا پورا گھرانہ بمشکل 25 ہزار روپے ماہانہ میں سانسیں گن رہا ہے۔ اگر لوئر مڈل انکم کے 35 ہزار روپے ماہانہ آمدن والے طبقے کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد 12 کروڑ افراد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن ہاتھوں میں اسمارٹ فون جگمگا رہے ہیں ان میں سے کروڑوں ہاتھ رات کا راشن پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم انٹرنیٹ کے اتنے بڑے صارف تو بن گئے مگر اس سے پیدا ہونے والی دولت ہمارے کچن تک کیوں نہیں پہنچی؟

ہم نے اپنے نوجوانوں کے ہاتھ میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور سستا ڈیٹا تو تھما دیا مگر انہیں یہ نہیں سکھایا کہ اس سے روزگار کیسے کشید کیا جاتا ہے۔ وہ قوم جو روزانہ یوٹیوب پر 56 کروڑ ویڈیوز دیکھ کر دنیا کے ناظرین میں سرفہرست آ کھڑی ہوئی ہے اگر وہ اپنی اس لامتناہی توجہ کو ہنر میں بدل لیتی تو بیرونی قرضوں کے کشکول کب کے ٹوٹ چکے ہوتے۔ دنیا اسکرین سے کھربوں ڈالر کی معیشت کھڑی کر رہی ہے اور ہم محض لائک اور فالو کے گورکھ دھندے میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری پالیسی سازی نے سوشل میڈیا کو ہمیشہ تفریح، وقت گزاری یا سیاسی مخاصمت کا اکھاڑہ سمجھا اور اسے پیداواری سرمائے کی شکل دینے میں مجرمانہ غفلت برتی۔

اس وقت دنیا میں ڈیجیٹل سکلز کا منظر برق رفتاری سے بدل رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہائر ایجوکیشن کمیشن اور عالمی ٹیکنالوجی اداروں کی جانب سے جامعاتی اساتذہ اور محققین کے لیے جینیریٹو اے آئی فریم ورک اور ورکشاپس کے جو سلسلے شروع کیے گئے ہیں وہ امید کی ایک چھوٹی سی کرن ضرور ہیں۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر عالمی تحقیقی اداروں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ایسے خودکار ایجنٹس کے کامیاب تجربات کیے جا رہے ہیں جو ماڈلز کی پیچیدہ ریاضی اور پروگرامنگ کی خامیاں خود ٹھیک کر رہے ہیں۔ دنیا چیٹ بوٹس کی ابتدائی سطح سے نکل کر مکمل آٹومیشن اور اے آئی ایجنٹس کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ ایسی انقلابی لہر ہے جو روایتی ملازمتوں کے پرانے تصور کو مکمل طور پر ختم کر دے گی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بارہ کروڑ غریبوں کے بوجھ تلے دبا پاکستان اس لہر سے کٹ کر زندہ رہ سکتا ہے؟ اگر ہم نے نوجوانوں کو ڈیجیٹل میڈیا کے الگورتھم سمجھنے، کنٹینٹ کریشن کو برانڈنگ میں بدلنے اور اے آئی ٹولز کی مدد سے عالمی مارکیٹ میں خدمات فراہم کرنے کی تربیت نہ دی تو بیروزگاری کا یہ عفریت سب کچھ نگل جائے گا۔ دور دراز گاوں کا ایسا نوجوان جس کے پاس لیپ ٹاپ بھی نہیں ہے بلکہ محض ایک عام اسمارٹ فون ہے، اگر وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے گرافک ڈیزائننگ، زبانوں کے ترجمے، آڈیو اور ویڈیو ایڈیٹنگ، ریسرچ اور سوشل میڈیا مینجمنٹ کی بنیاد سیکھ لے تو وہ کسی سرکاری نوکری کی خیرات مانگے بغیر اپنے گھر بیٹھے عالمی مارکیٹ سے ڈالر کما سکتا ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا محض تفریحی پلیٹ فارم نہیں بلکہ اکیسویں صدی کا جدید ترین تجارتی بازار ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو یوٹیوب دیکھنے والے تماشائی کے کردار سے نکل کر کچھ تخلیق کرنے والا ہنر مند بننا ہوگا۔ ٹک ٹاک پر ناچ گانے اور واٹس ایپ پر لایعنی گپ شپ کے بجائے اگر لوکل بزنسز کی مارکیٹنگ، پروڈکٹ سیلنگ اور مائیکرو فری لانسنگ کا راستہ اپنایا جائے تو یہی اسمارٹ فون جو آج وقت اور انٹرنیٹ پیکج کا خرچہ نگل رہا ہے، آمدن کا ایک خودکار ذریعہ بن سکتا ہے۔ ریاستی اداروں کو بھی اب پابندیوں اور بلاکنگ کے متروک رویوں سے باہر آنا ہوگا کیونکہ ڈیٹا کی رفتار روکنا معیشت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔

غربت کے اندھیرے کو کوسنے سے کوئی چراغ نہیں جلے گا۔ جب تک ہم اپنے دس کروڑ صارفین کو صارفین کی قید سے نکال کر فری لانسرز، ڈیجیٹل پروڈیوسرز اور اے آئی آپریٹرز کے زمرے میں کھڑا نہیں کریں گے اس وقت تک ورلڈ بینک کے اعداد و شمار مزید بھیانک ہوتے جائیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ قومی سطح پر مہم چلائی جائے اور کچی آبادیوں کے اسکولوں سے لے کر جامعات کے ہالز تک سب کو بتایا جائے کہ اسکرین دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ معیشت بدلنے کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ اب فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم نے دنیا کا سب سے بڑا تماشائی بنے رہنا ہے یا اپنی ذہانت سے تقدیر کا دھارا موڑنا ہے۔