Friday, 09 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Cholistan Ke Raitlay Teelon Par Umeed Ka Safar

Cholistan Ke Raitlay Teelon Par Umeed Ka Safar

چولستان کے لق و دق صحرا میں جب سورج سوا نیزے پر آتا ہے تو ریت تانبے کی طرح تپنے لگتی ہے۔ دور تک سوکھی جھاڑیاں، دھول اڑاتے بگولے اور موت کا سا سکوت دکھائی دیتا ہے۔ چند دہائی قبل یہاں پرندوں کی چہچہاہٹ ناپید ہو چکی تھی۔ شکار کے بے دریغ شوق اور موسمی سختیوں نے اس خطے کے پرانے باسی تلور یعنی ہوبارہ بسٹرڈ کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لوگ سوال کر رہے تھے کہ جس پرندے کے شکار پر ہر سال اتنا ہنگامہ برپا ہوتا ہے اس کی بقا کے لیے عملی طور پر کیا ہو رہا ہے۔ یہ تلخ حقیقت کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ اسی صحرا کو دوبارہ زندگی بخشنے کے پیچھے برسوں کی ریاضت ہے جس کی ڈور متحدہ عرب امارات اور ہوبارہ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل سے جڑی ہے۔

ہوبارہ فاؤنڈیشن کے ایک پرانے فیلڈ افسر نے رحیم یار خان کے کیمپ میں مجھے ایک بار نقشہ دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ ہم صرف پرندہ نہیں پال رہے بلکہ اس برباد ہوتے ماحولیاتی نظام کی سانسیں بحال کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ بات بالکل درست تھی۔ اماراتی حکمرانوں نے جہاں ایک طرف اس خطے میں روایتی شکار کے لیے خیمے لگائے وہیں دوسری جانب ان کے اپنے فنڈز سے قائم ابوظہبی کے انٹرنیشنل فنڈ فار ہوبارہ کنزرویشن نے ایسا سائنسی نظام کھڑا کیا جس کی مثال خطے میں نہیں ملتی۔ جدید بریڈنگ سینٹرز میں سائنسی پروٹوکول کے تحت انڈوں سے بچے نکالے جاتے ہیں اور جب وہ اڑنے کے قابل ہو جائیں تو انہیں واپس پاکستان کے صحراؤں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ان پرندوں کی گردنوں پر باریک سیٹلائٹ ٹرانسمیٹر اور مائیکرو چپس لگی ہوتی ہیں تاکہ خلیج سے سائبیریا تک ان کے پرواز کے روٹس کو سکرین پر مانیٹر کیا جا سکے۔ یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس کا خواب پاکستان کے جنگلی حیات کے محکمے دہائیوں سے دیکھ رہے تھے مگر وسائل نہ ہونے کے باعث لاچار رہے۔

صحرا میں صرف پرندے چھوڑ دینا مسئلے کا مستقل حل نہیں تھا۔ اصل چیلنج یہ تھا کہ شدید گرمی اور پودوں کی قلت کے شکار چولستان اور تھل میں یہ پرندے زندہ کیسے رہیں۔ انسان نے بے رحمی کے ساتھ چراگاہوں کو اجاڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے فاؤنڈیشن نے ایک ایسا تجربہ کیا جس کی گواہی چولستان کے خانہ بدوش دیتے ہیں۔ مون سون کے موسم میں پاکستان آرمی کے طیاروں کے ذریعے فضا سے لاکھوں بیج ریت کے ٹیلوں پر گرائے جاتے ہیں۔ یہ ہوائی شجرکاری یعنی ایریل سیڈنگ اس لیے ضروری تھی کیونکہ میلوں تک پھیلی صحرائی دلدل اور نرم ریت پر ٹریکٹر چلانا ممکن نہ تھا۔ لاٹا، کھار اور جنگلی بیر کے وہ پودے جو معدوم ہو رہے تھے وہی بارش کے بعد ریت کا سینہ چیر کر باہر نکل آئے۔ قدرت کا قانون ہے کہ پودا اگے گا تو کیڑے مکوڑے پیدا ہوں گے اور کیڑے مکوڑے ہوں گے تو ہی پرندے کی خوراک کا چرخہ چلے گا۔

مجھے لگتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے کردار کو صرف ایک پرندے تک محدود کرکے دیکھنا زیادتی ہوگی کیونکہ جب ماحولیات کی بات آتی ہے تو پیاس سب سے بڑا سچ بن کر سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور تھر کے قحط زدہ دیہات میں یو اے ای پاکستان اسسٹنس پروگرام کے تحت سولر ٹیوب ویل اور فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے۔ یہ محض نمائشی تختیاں نہیں تھیں بلکہ زمین کا سینہ چیر کر میٹھا پانی نکالنے کے وہ ذرائع تھے جنہوں نے نہ صرف انسانوں کو نقل مکانی سے روکا بلکہ خشک سالی کی مار جھیلتے مویشیوں اور مقامی نباتات کو بھی نئی توانائی دی۔ صحراؤں میں پانی کا ایک قطرہ زندگی کی ضمانت ہوتا ہے اور یہ اماراتی منصوبے دور دراز علاقوں میں زیر زمین پانی کی ری چارجنگ کا ذریعہ بنے۔

کوپ 28 کانفرنس کے دوران جب دبئی کے ایوانوں میں عالمی طاقتیں ماحولیاتی انصاف پر بحث کر رہی تھیں تو پاکستان کا مقدمہ لڑنے میں امارات کی قیادت پیش پیش تھی۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے سندھ اور بلوچستان کے جس انفراسٹرکچر کو ملیا میٹ کیا تھا اس کی ماحولیاتی بحالی کے لیے یو اے ای نے اربوں روپے کا ریلیف پیکج دیا لیکن سوال وہی ہے کہ کیا پاکستان کی اپنی ریاست ان کوششوں کی حفاظت کرنے کے قابل ہے؟ فاؤنڈیشن پرندے چھوڑتی ہے مگر ہمارے مقامی شکاری بندوقیں تان لیتے ہیں۔ فاؤنڈیشن جنگل اگانے کی سعی کرتی ہے مگر ٹمبر مافیا اور مویشیوں کے بے لگام ریوڑ ان کونپلوں کو پیروں تلے روند ڈالتے ہیں۔ اماراتی ماہرین نے ہمارے جنگلی حیات کے عملے کو ابوظہبی بلوا کر دنیا کے جدید ترین لیبارٹری سسٹمز پر تربیت دی تاکہ ہم اپنی بائیو ڈائیورسٹی کا ڈیٹا خود محفوظ کر سکیں۔

چولستان کے بزرگ چرواہے آج بھی ریت پر بیٹھ کر بتاتے ہیں کہ جب ہوبارہ کی ڈار آسمان پر اترتی ہے تو لگتا ہے صحرا نے اپنی کھوئی ہوئی روح واپس پا لی ہے۔ یہ فطرت اور انسان کا وہ توازن ہے جسے بحال کرنا کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں تھی۔ متحدہ عرب امارات اور ہوبارہ فاؤنڈیشن نے وسائل دیے، جدید سائنسی تحقیق لائے اور پاکستان کے بنجر خطوں کو ایک بار پھر ہرا بھرا کرنے کا عزم باندھا۔ اب امتحان ہمارا اپنا ہے کہ ہم اس ماحولیاتی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے بچا کر رکھتے ہیں یا پھر اپنے ہی ہاتھوں ویرانی کو اپنے مقدر کا مستقل حصہ بنا لیتے ہیں۔