Friday, 23 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Khamosh Qatil Ka Muhasira

Khamosh Qatil Ka Muhasira

لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں ہر سال اکتوبر کے آخر سے سموگ کا ایک ایسا مسئلہ سر اٹھاتا ہے جس سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ شہر کی فضا میں گرد اور دھوئیں کی دبیز تہیں چھا جانے سے نہ صرف حدِ نگاہ کم ہو جاتی ہے بلکہ عام شہریوں کو سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے چند روز میں ایئر کوالٹی انڈیکس کئی مقامات پر تین سو سے تجاوز کر گیا جو طبی ماہرین کی نظر میں شدید تشویش کا باعث ہے۔ یہ معاملہ محض موسمی تغیر تک محدود نہیں رہا بلکہ انسانی صحت اور عوامی فلاح سے جڑا ایک ایسا اہم موضوع بن چکا ہے جس پر سنجیدہ اور مسلسل توجہ وقت کی اولین ضرورت ہے۔

طبی تحقیق اور عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق فضا میں موجود انتہائی باریک ذرات جنہیں پی ایم 2.5 کہا جاتا ہے کی سالانہ اوسط مقدار پانچ مائیکرو گرام فی مکعب میٹر سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے شہری علاقوں میں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی یہ مقدار کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور بسا اوقات دو سو سے تین سو مائیکرو گرام سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ماحولیاتی ریسرچ اداروں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسلسل خراب فضا میں رہنے سے شہریوں کی اوسط عمر پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور خاص طور پر دمے، نزلہ، زکام اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے صورتحال زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ فضائی آلودگی کے اصل اسباب کو سائنسی انداز میں سمجھا جائے اور ان کا دیرپا حل تلاش کیا جائے۔

اکثر یہ تاثر عام ہے کہ سموگ صرف فصلوں کی باقیات جلانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ دھان کے سیزن میں فصلوں کی باقیات کا جلنا فضا کو خراب کرتا ہے لیکن سرکاری اور نجی تحقیقی اداروں کے سائنسی سروے بتاتے ہیں کہ شہری آلودگی کا تقریباً چالیس سے پینتالیس فیصد حصہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے دھوئیں سے پیدا ہوتا ہے۔ ہماری سڑکوں پر چلنے والی لاکھوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا اخراج اس مسئلے کو سب سے زیادہ بڑھا رہا ہے۔ جب تک ایندھن کے معیار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر نہیں بنایا جاتا اور گاڑیوں کے انجنوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کا نظام فعال نہیں ہوتا اس وقت تک فضا کو مکمل طور پر صاف رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

دوسرا بڑا سبب صنعتوں اور کارخانوں کا اخراج ہے جو مجموعی آلودگی میں کم و بیش بیس سے پچیس فیصد کے قریب حصہ ڈالتا ہے۔ کئی صنعتی یونٹس اور روایتی اینٹوں کے بھٹھے مناسب فلٹریشن اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر چلتے ہیں جس سے دھوئیں کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہروں میں تیز رفتاری سے ہونے والی تعمیرات اور درختوں کی تعداد میں کمی نے بھی ماحول کے قدرتی توازن کو نقصان پہنچایا ہے۔ پودے اور درخت دراصل فضا کو صاف رکھنے کے قدرتی فلٹر ہوتے ہیں اور جب گرین بیلٹس کم ہوتی ہیں تو گرد و غبار اور زہریلے مادے فضا میں معلق رہ کر سموگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

اس ماحولیاتی صورتحال کے معاشی نقصانات بھی خاصے نمایاں ہیں۔ بین الاقوامی معاشی جائزوں کے مطابق فضائی آلودگی کے اثرات سے ملک کی مجموعی معیشت پر سالانہ اربوں روپے کا بوجھ پڑتا ہے۔ بیماریوں کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات، کاروباری سرگرمیوں کا محدود ہونا اور ملازمین کی طبی رخصتوں کے سبب پیداواری صلاحیت کا متاثر ہونا ایسے نقصانات ہیں جن کا اثر ہر طبقے پر پڑتا ہے۔ سڑکوں پر روزانہ کام کرنے والے محنت کش اور ریڑھی بان اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ دن بھر کھلی فضا میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جس سے ان کی صحت اور روزگار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

ماحول کو بہتر بنانے کے لیے عارضی اقدامات کے بجائے ٹھوس اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگرچہ انتظامی ادارے سیزن کے دوران دفعہ 144 نافذ کرکے مختلف سرگرمیوں کو محدود کرتے ہیں لیکن مستقل حل کے لیے ایک پائیدار روڈ میپ ناگزیر ہے۔ شہروں میں الیکٹرک بسوں کے ذریعے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو وسعت دینا اور شہریوں کو نجی گاڑیوں کی بجائے عوامی سواریوں کے استعمال کی ترغیب دینا سب سے پہلا قدم ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی زونز میں جدید ایئر فلٹرز کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے اور کسانوں کو فصلوں کی باقیات تلف کرنے کے لیے سستی زرعی مشینری فراہم کی جائے۔

ماحولیاتی امور سے متعلق اداروں کو جدید سائنسی آلات اور ڈیٹا مانیٹرنگ کی سہولتیں فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ہر علاقے کی فضا کا بروقت اور شفاف تجزیہ کیا جا سکے۔ چونکہ ماحولیاتی اثرات اور فضائی لہریں کسی جغرافیائی حد کی پابند نہیں ہوتیں اس لیے سرحد کے دونوں اطراف یعنی پورے خطے میں مشترکہ ماحولیاتی اقدامات اور سائنسی تعاون کو آگے بڑھانا ہوگا تاکہ خطے کی مجموعی فضا کو بہتر بنایا جا سکے۔

صاف ہوا ہر شہری کی بنیادی ضرورت اور صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔ سموگ کا چیلنج بلاشبہ بڑا ہے لیکن درست منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی آگاہی کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شہری اور متعلقہ شعبے مل کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ زیادہ سے زیادہ شجرکاری کی جائے اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو ترجیح دی جائے تاکہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلیں ایک شفاف اور صحت مند ماحول میں سانس لے سکیں۔ سموگ خاموش قاتل کی طرح ہماری صحت مند زندگی سے 5 سال کم کر رہی ہے۔ اب لازم ہے کہ اس خاموش قاتل کا محاصرہ کیا جائے اور عملی طور پر اسے شکست دی جائے۔