Friday, 23 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. 2 Bholay Bahawalpuri Islamabad Mein

2 Bholay Bahawalpuri Islamabad Mein

اب میں اکثر ریڑھی/سائیکل والے سے پھل فروٹ خریدتا ہوں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے بہت عرصہ پہلے لندن میں صفدر بھائی نے مجھے وہاں چھوٹی چھوٹی دکانوں کی افادیت کے بارے بتایا تھا کہ ان کا وجود کتنا ضروری ہے۔ بڑے بڑے اسٹورز ان کا صفایا کررہے تھے اور یہ بڑی تیزی سے ختم ہورہی تھیں۔ کونسل بھی کوشش کررہی تھی کہ بڑے اسٹورز کی وجہ سے یہ چھوٹی دکانیں بند نہ ہوں۔

لہذا میں بڑے اسٹورز کی بجائے اب بھی راہ چلتے ریڑھی یا سائیکل والے سے فروٹ خرید لیتا ہوں۔ ان سے قیمت پر بحث نہیں کرتا ہاں ریکوسٹ کرتا ہوں کہ کوالٹی اچھی دے دو۔ اکثر کہتے ہیں کہ یہ لیں شاپر اور خود ڈال لیں۔ بعض پھر بھی ڈنڈی مار لیتے ہیں۔ میں ان طبقات کی چھوٹی موٹی ان حرکتوں کو مائنڈ نہیں کرتا کہ بہت پہلے اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں اپنے لیول پر ہر کوئی ڈنڈی مارتا ہے۔

بڑے لوگ ڈنڈے بھی مارتے اور ڈنڈہ بھی۔ ابھی یونان میں امریکن خاتون سفیر کا ایک لاکھ ڈالر سکینڈل ہی دیکھ لیں جو اس کی سفارت کاری کھا گیا کہ اس نے ایک بندے کو وائٹ ہاوس تک رسائی بدلے ایک لاکھ ڈالر لیے کہ میں نے کریڈٹ بلز دینے ہیں۔

خیر میں دو تین دن پہلے جی الیون سے آرہا تھا تو سائیکل پر ایک لڑکے کو امرود بیچتے دیکھا۔ گاڑی سائیڈ پر کی۔ اس سے ریٹ پوچھا۔ اس نے کہا مرضی سے ڈال لیں۔ پیسے ادا کیے چل پڑا۔

کچھ اگے گیا تو انگور نظر آئے۔ مجھے انگور بہت پسند ہیں۔ دور سے سندرخانی لگے۔ رک کر گیا تو وہاں ایک اور سائیکل والا امرود بیچ رہا تھا۔ مجھے علم ہے گاڑی دیکھ کر ریٹ زیادہ کرتے ہیں۔ انگور کا پوچھا تو اس نے کافی زیادہ ریٹ بتایا لیکن سندر خانی اچھا تھا بحث نہیں کی۔ ان کی بات سے لگا وہ سرائیکی ہیں۔ پتہ چلا بہاولپور سے آئے ہیں۔

میں بھی سرائیکی بولنے لگا۔ دوسرے کو لگا میں امردو نہیں خرید رہا تو کہنے لگا سرائیکی بھائی ہیں۔ میرے امرود بھی خریدو۔ اگرچہ میں پہلے لے چکا تھا پھر بھی دل توڑنا مناسب نہ سمجھا۔ میں نے پوچھا کیا ریٹ ہے۔ اس نے ڈبل ریٹ بتایا جو میں پہلے خرید چکا تھا۔

میں نے کہا تول دو۔ پیسے دینے لگا تو اسے کہا اچھا لگا کہ میں نے خود بڑی محبت اور محنت سے اپنے سرائیکی بھائی سے چونا لگوایا ہے۔ ویسے ہم نے مشہور کر رکھا ہے کہ ہم سرائیکی بڑے بھولے ہیں۔

وہ دونوں کچھ شرمندہ ہوئے تو میں نے کہا ایک خوشی ہے کہ اب آپ کو بھی اپنوں کو چونا لگانا آگیا ہے، اب ترقی کرو گے۔۔

مجھ سے پوچھنے لگے آپ کہاں سے ہو۔

میں نے ہنس کر کہا بتا دیا تو آپ دونوں نے ریٹ تین گنا کر دینا ہے۔ ابھی شکر ہے دو گنا ریٹ پر بات ٹل گئی ہے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.