Thursday, 08 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Bargad Ke Darakht Ki Talash

Bargad Ke Darakht Ki Talash

آج ٹوئٹر پر ایک صاحب نے مجھ سے یہ سوال کیا عمران خان کی رہائی اور جنرل عاصم منیر کے خلاف کیوں بات نہیں ہوتی۔ اس کا جواب زرا تکلیف دہ ہے کہ ہم انسان اپنی خواہشات کے تابع ہی زندگی گزارتے ہیں۔ لوگ اپنے لیے خود طے کرتے ہیں انہوں نے مطمئن زندگی گزارنی ہے یا بہت بڑا آدمی بننا ہے، انسانوں کا حاکم لگنا ہے اس سے کم زندگی کا تصور وہ نہیں رکھتے۔

وہ سب لوگ جو حکمران بننے کا جنون پالتے ہیں وہ ان مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

خان صاحب سے پہلے لیاقت علی خان قتل ہوئے، بھٹو پھانسی لگے، بینظیر قتل ہوئیں، نواز شریف دہشت گرد قرار پائے۔ خان صاحب پھر بھی وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔ یہ ان کا چوائس تھا۔

وزیراعظم تھے تو یہی جنرل عاصم منیر ڈی جی آئی ایس آئی ان کی بیگم صاحبہ کے بارے بتانے گئے کہ کل کو آپ کے لیے مشکلات ہوں گی۔ اچھا وزیراعظم شکریہ ادا کرتا کہ آپ نے پہلے سے خبردار کیا۔ آپ میرے ہمدرد ہیں۔ گھر جا کر بیگم صاحبہ کو سمجھاتے کہ حکمرانی ہیرے جواہرات انگوٹھیوں اور دولت سے بڑا تحفہ ہے۔ اسے سنبھال کر رکھیں۔

الٹا جنرل عاصم کو ہٹا دیا۔

پھر وہ آرمی چیف بننے لگے تو وہی عمران خان اپنے پیارے جنرل فیض کی محبت میں جلوس لے کر پنڈی پہنچے کہ بے شک جنرل باجوہ کو چھ ماہ بڑھا دیں جنہوں نے گھر بھیجا تھا لیکن جنرل عاصم منیر نہ بننے پائے۔ جنرل باجوہ قبول تھا جسے میر جعفر میر صادق کہتے تھے جنرل عاصم نہیں کیونکہ وہ ملک ریاض کی انگوٹھیوں والی گستاخی کر بیٹھا تھا۔

میرے بس میں ہو آج ہی خان صاحب کی رہائی کا پروانہ جاری کروں لیکن وہ جیل سے باہر نہیں آئیں گے کیونکہ جیل میں انہیں کسی نے قید نہیں کر رکھا انہیں ان کی اپنے جیسے انسانوں پر حاکم لگنے کی خواہش نے قید کر رکھا ہے۔ جس دن وہ اپنی خواہش سے چھٹکارا پا لیں گے وہ آزاد ہو جائیں گے۔ ہم انسان اپنی اپنی خواہشات کے قید ہیں۔

یہی دیکھ لیں یہ حاکم لگنے کی خواہش کتنی خطرناک ہے کہ بلاول بھٹو کا نانا پھانسی لگا، ماں قتل ہوئی، باپ بارہ تیرہ سال جیل میں رہا، دونوں ماموں پاور اسٹرگل میں قتل ہوئے لیکن پھر بھی وہ نوجوان ہر قیمت پر ملک کا وزیراعظم لگنا چاہتا ہے چاہے تین برس کے لیے سہی (اوسط دورانیہ)۔

اس کھیل میں تو اورنگزیب نے چار بھائی قتل کر دیے تھے اور باپ کو قید کر دیا تھا۔

جہاں تک جنرل عاصم منیر کی بات ہے آج بھی پی ٹی آئی کھلے عام کہتی ہے جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کا دور آج سے بہتر تھا۔ یہ بات ذہن میں رکھیں عمران خان اور ان کی پارٹی کو جنرل ضیاء کا وہ دور اچھا لگتا ہے جس نے ایک منتخب وزیراعظم کا تختہ الٹ کر پھانسی دی اور دوسرےجنرل مشرف کا دور اچھا لگتا ہے جس کے دور میں بینظیر بھٹو قتل ہوئی۔

جب خان اور ان کی پارٹی کو وہ دو فوجی جنرل اچھے لگتے ہیں جن کے دور میں ایک وزیراعظم پھانسی لگے دوسری قتل ہوئی اور تیسرے دہشت گرد قرار پائے تو پھر وہ جنرل عاصم کے خلاف اپنا مقدمہ خود کمزور کرتے ہیں جس نے اب تک کسی وزیراعظم کو پھانسی نہیں دی نہ ہی کوئی وزیراعظم قتل ہوا۔

پاور کے اس کھیل میں جان لینی بھی پڑتی ہے اور جان دینی بھی پڑتی ہے۔ وزیراعظم خان نے بھی تو اپنے سب مخالفوں کو جیلوں میں تن دیا تھا۔ یہی اس کھیل کی خوبصورتی ہے کہ جو جیتا وہی سکندر۔

پاور اور اقتدار کے پجاری نارمل انسان نہیں ہوتے۔ وہ تخت یا تختہ کا کھیل کھیلتے ہیں۔ انہیں کھیلنے دیں۔ اس میں ہی انہیں تھرل thrill ملتا ہے۔

جیسے ہم حیران ہوتے ہیں کوہ پیما جان جوکھوں میں ڈال کرکے ٹو کی چوٹی سر کرنے کیوں جاتے ہیں اور کئی مارے جاتے ہیں جن کی لاشیں تک نہیں ملتیں۔ وہ سب اس تھرل کی تلاش میں جاتے ہیں۔

گوتم بدھ بھی شہزادہ تھااسے باپ کا محل چھوڑ کر جنگلوں میں برگد کے درخت نیچے سکون ملا تھا۔ وہ گائوں گائوں نگر نگر بھیک مانگ کر شانتی پاتا تھا۔

ہم سب کا اپنا اپنا برگد کا درخت ہے۔

کسی کو کے ٹو کی چوٹی پر تو کسی کو برگد کے درخت کے نیچے سکون ملتا ہے تو کسی کو پھانسی کے پھندے پر تو کسی کو جیل میں قید وہ نروان ملتا ہے۔ یہ ہم سب کے اپنے اپنے فیصلے اور چوائس ہیں۔ ہم سب اپنی اپنی مرضی کے تھرل کی تلاش میں ہیں۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.