Saturday, 31 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Nawabzada Nasrallah Ka Beta Aur Khwaja Asif Ka Khof

Nawabzada Nasrallah Ka Beta Aur Khwaja Asif Ka Khof

مجھے بڑے عرصے کے بعد اگر کوئی سیاسی جھٹکا لگا تو وہ آج قومی اسمبلی میں اجلاس کے اختتامی لمحات میں لگا جب ڈپٹی سپیکرنے ایک ایم این اے صاحب کو فلور دیا کہ جمعہ کا وقت ہورہا ہے جلدی سے بات کر لیں۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو انہوں نے انکشاف کیا ان کا نام نوابزادہ افتخار احمد ہے اور وہ پاکستان کے قابل احترام سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خان کے بیٹے ہیں۔

خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں نوابزادہ صاحب کو مولانا فضل الرحمن کے ساتھ کشمیر کمیٹی کے نام پر رگڑا دے دیا تھا۔ مجھے اپنی لاعلمی اور نالائقی کا شدید احساس ہوا کہ مجھے پہلی دفعہ پتہ چلا کہ نوابزادہ صاحب کا بیٹا اس وقت موجودہ پارلیمنٹ کا ایم این اے ہے۔

وہ اپنے باپ کے بارے خواجہ آصف کے سخت کمنٹس بارے وضاحت اور ان کی کشمیر کاز کے لیے خدمات گنوا چاہ رہے تھے تاکہ خواجہ آصف کی باتوں سے جو ان کی شخصیت کے بارے منفی تاثر ابھرا تھا اسے زائل کیا جائے۔

خیر وہ بڑی دیر تک والد صاحب کی سیاسی اور جمہوری خدمات اور رول کا ذکر کرتے رہے اور میں سوچتا رہا کہ اکثر بڑے لوگوں کے بچے جس فیلڈ میں ہوں وہ اپنے باپ کے قد کاٹھ سے اوپر نہیں اٹھ سکتے۔ وہ ایک برگد کے درخت کے نیچے جنم لیتے ہیں اور عمر بھر چند فٹ قد سے زیادہ اوپر نہیں جا سکتے۔

نوابزادہ صاحب کا اتنا بڑا نام اور کام اور آج ان کے بیٹے کے نام سے بھی میرے جیسے واقفیت نہیں رکھتے جو بڑے بڑے سیاسی الائنس بنانے کے لیے مشہور تھے اور فوجی حکمرانوں کو ٹکر جاتے تھے۔ آج ان کا دفاع کرنے والا ان کا بیٹا بھی پرچی لکھ کر باپ کی خدمات گنوا رہا تھا۔

پورے ہاوس کو شاید ہی یاد ہو کہ جب 2000 میں سابق وزیراعظم نواز شریف اٹک جیل میں قید تھے اور جنرل مشرف سے نجات کی راہ نہیں نکل رہی تھی تو ایک ہی راستہ تھا کہ وہ بینظیر بھٹو کے ساتھ مل کر الائنس بنا کر مشرف پر دبائو بڑھائیں۔ لیکن بینظیر بھٹو نواز شریف پر اعتماد اور الائنس کرنے کے لیے تیار نہ تھیں کہ ان کی وجہ سے انہیں پاکستان چھوڑنا پڑ گیا تھا۔ مقدمات بنائے گئے تھے۔

یہی نوابزادہ نصراللہ خان ہی تھے جنہوں نے بینظیر بھٹو کو دوبئی سے راضی کیا تھا۔ نواز لیگ کے سابق سینٹر ظفر علی شاہ بھی بینظیر بھٹو سے ملنے قائل کرنے دوبئی گئے تھے۔

لاہور میں نوابزادہ صاحب کی صدارت میں ARD جنرل مشرف کے خلاف تشکیل پایا جس سے مشرف کو پہلی دفعہ ایک دبائو محسوس ہوا کہ اب دونوں سابق وزیراعظم مل کر اس کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

اسی دبائو کا فائدہ اٹھا کر اس الائنس کے بننے کے چند دن بعد نواز شریف اور شہباز شریف (امریکہ/سعودی مدد) ایک صبح اٹک جیل سے سیدھے جدہ جا پہنچے۔

کل اس مرحوم نوابزادہ صاحب پر اسی وزیراعظم شہباز شریف کے وزیر دفاع خواجہ آصف تبرہ پڑھ رہے تھے اور آج ان کا بیٹا خواجہ آصف سے ڈرتے ڈرتے اپنے مرحوم باپ کی نواز شریف کے لیے مشکل وقت میں خدمات گنوانے کی ناکام کوششوں میں لگا ہوا تھا۔

جس نوابزادہ نصراللہ پر خواجہ آصف کل تبرہ پڑھ رہے تھے وہ جنرل مشرف کے خلاف بینظیر بھٹو کا نواز شریف کے ساتھ الائنس اس وقت بنوانے کی کوشش کر رہے تھے جب خواجہ صاحب خود لاہور کے ایک تھانے میں نیب کی قید میں تھے۔

خواجہ صاحب کو سب کچھ بھول گیا تھا، شاید۔ مشکل وقت گزرنے کے بعد ہم انسانوں کو اپنے ماضی کے محسنوں کا احساس کم ہی رہتا ہےجس کا گلہ مولانا فضل الرحمن نے بھی اپنی تقریر میں نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز سے بھی کیا تھا۔

وہ نوابزادہ جس سے فوجی آمر تک ڈرتے تھے اس کا بیٹا آج باپ کی خدمات گنوا کر بیٹھنے سے پہلے خواجہ آصف کی لمبی چوڑی تعریفیں کرنا نہیں بھولا تھا کہ کل واپس آکر خواجہ صاحب دوبارہ نوابزادہ اور خود ان پر تبرہ نہ پڑھنا شروع نہ کر دیں جہاں کل چھوڑ گئے تھے۔

سوال یہ ہے پی پی پی اور نواز لیگ کے کسی ممبر کو نوابزادہ کی سیاسی خدمات کا علم نہ تھا کہ ان کے بیٹے کو خواجہ آصف سے ڈرتے ڈرتے باپ کا دفاع کرنا پڑا وہ بھی ڈرتے ڈرتے؟

یہ دفاع تو خواجہ آصف کی تقریر کے فوراََ بعد نواز لیگ اور پی پی پی کے ارکان کو کرنا چاہئے تھا نہ کہ آج ایک بیٹے کو۔۔ کہ کیسے جنرل مشرف دور میں وہ دونوں کو قریب لائے جو بعد میں چارٹر آف ڈیموکریسی کا سبب بنا تھا جس کے بعد ہی بینظیر بھٹو/پی پی پی اور نواز شریف کی پاکستان اور اقتدار میں واپسی ممکن ہوئی تھی۔ زیادہ نہیں تو کوئی ایک آدھ ممبر ہی اٹھ کر مرحوم سیاستدان کے لیے شکرگزاری کے چند الفاظ ہی کہہ دیتا۔ اب ہمارے پیارے خواجہ آصف سے اتنا بھی کیا ڈرنا۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.