Monday, 19 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. 230 Saal Baad Ka Paris

230 Saal Baad Ka Paris

ابھی نیویارک ٹائمز کی فرانس میں ہونے والے بدترین فسادات پر رپورٹ پڑھ رہا تھا جس میں انکشاف کیا گیا ہے 600 پولیس والے زخمی ہیں جب کہ دو ہزار مظاہرین/فسادی گرفتار ہیں۔ اب سب فرانسیسی سیاسی لیڈران ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ کروڑں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے اور انیسویں صدی تک کے تاریخی مقامات تک کو جلایا گیا ہے۔

کل پانچ لاکھ لوگ فرانس کے مختلف شہروں میں نکلے اور زیادہ تر پرامن تھے۔ بتایا گیا ہے پانچ سو سے ایک ہزار لوگ اس مظاہرے میں شریک ہوئے جنہیں لگا یہ موقع اچھا ہے اور انہوں نے لوٹ مار اور آگ لگانی شروع کی۔ پولیس اس کے لیے پوری طرح تیار نہ تھی۔

ویسے اس مظاہرے کی وجہ مہنگائی اور سکولوں میں گرتا ہوا معیار بتایا گیا ہے۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ میں لڑنے والے تو صرف تین ممالک تھے لیکن اس کی قیمت 200 ملکوں کے شہری مہنگائی کی شکل میں ادا کررہے ہیں۔

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اور ہر جگہ مہنگائی نے سب کی چیخیں نکال دی ہیں۔

ویسے فرانس کی دھرتی میں کچھ سا عجب سا بغاوت کا رنگ ہے۔ اگر 1789 کے انقلاب فرانس کو دیکھیں تو اس نے پوری یورپ کو بدل کر رکھ دیا تھا۔

اب کل ہفتہ کے روز 17 اکتوبر کو پیرس میں ہونے والے ان پرتشدد فسادات کی رپورٹ پڑھتے ہوئے مجھے 230 سال پہلے اس ماہ پانچ اکتوبر 1795 کے روز پیرس کا وہ دن یاد آیا جب 26 سالہ نوجوان نپولین کو ایسا موقع ملا جس نے اس کی قسمت ہی بدل دی۔

شہر میں انقلابیوں /فسادیوں کی وجہ سے انقلاب کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے اس نے توپوں کا استمعال کرکے سب کی توجہ اپنی طرف مرکوز کر لیا تھا۔ باقی جیسے کہتے ہیں تاریخ ہے۔ نپولین کی توپوں کے ہاتھوں اس دن تین سو مظاہرین مارے گئے اور بغاوت دب گئی تھی۔

نپولین کی عمر اس وقت چھبیس برس تھی اور چار سال کے بعد وہ فرانس کا مالک بن چکا تھا اور 15-1814 میں وہ گرفتار ہوچکا تھا اور باقی عمر سلطنت برطانیہ کے قیدی کی حیثیت سے دور سمندر میں ایک جزیرے پر گزاری۔

بتایا جاتا ہے وہ جزیرہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملکیت تھا جہاں کمپنی افسران ہندوستان سفر کرتے ہوئے کچھ دن بریک لیتے تھے۔ نپولین چھ سال قید کے بعد وہیں فوت ہوا۔

اس جزیرے پر قید میں بھی نپولین کا وہاں موجود اسٹاف سے اصرار ہوتا تھا اسے شہنشاہ کے لقب سے پکارا اور شہشائوں والا ہی پروٹوکول دیا جائے۔

فرانس کی تاریخ مظاہروں اور بغاوتوں سے بھری پڑی ہے جس کی ایک پرتشدد شکل کل دیکھی گئی ہے۔

پانچ اکتوبر 1795 کے روز پیرس جل رہا تھا جب نپولین نے توپیں چلائی تھیں اور 230 سال کے بعد 17 اکتوبر 2026 کو بھی جل رہا تھا۔ انسان اور انسانوں کی تشدد پسند جبلت سینکڑوں سال کے بعد بھی نہ بدلی۔

عظیم ناول نگار وکٹر ہیوگو، ہنری ڈی بالزاک، شارٹ اسٹوریز رائٹر موپاساں اور مادام بوواری جیسا ناول لکھنے والے گستائو فلوبئیر کا فرانس ایک دفعہ پھر جل رہا تھا۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.