کل پرسوں اتفاقا پمز کے ایک اہم عہدے دار سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے آپ نے نوٹ کیا کہ چودہ بچوں کے اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی تین خواتین نے پمز ہسپتال سے ایک نومود بچہ چوری کر لیا اور اپنی ایک غلطی کی وجہ سے پکڑی گئیں یا وہاں موجود سیکورٹی گارڈ نے کچھ ذہانت کا استمعال کیا ورنہ ہسپتال ایک اور بڑے سکینڈل میں تقریباََ لینڈ کر چکا تھا۔
بتانے لگے ہوا کچھ ایسے گائنی وارڈ میں دو خواتین کی ڈیلیوری ہوئی۔ ایک کی بیٹی اور دوسری کا بیٹا ہوا۔ ان دونوں کے پاس ان میں خاتوں گئیں اور ایسے ظاہر کیا جیسے وہ دور دوسرے بیڈ پر لیٹی ماں کی بہن ہیں۔ اسے کہا کسی چیز کی ضرورت یا مدد درکار ہو تو بتائیں۔ وہ اٹینڈنٹ ہیں۔
ایک کو بتایا کہ وہ فلاں بیڈ والی کی اٹینڈنٹ ہیں۔ دوسری کو ایک اور بیڈ والی کا اٹینڈنٹ بتایا اور کچھ دیکھ بھال بچے کی بھی کرنے لگی۔
دونوں کو الگ الگ یقین دلا دیا کہ وہ اٹنڈنٹ ہیں۔ عموماََ ہسپتال/ریلوے سفر میں لوگ میں ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور مدد کے جذبات رکھتے ہیں۔ لہذا دونوں نئی مائیں یہی سمجھتی رہیں کہ وہ اس دور بیڈ والے کی اٹینڈنٹ ہے۔
اس دوران ایک بچے کی ماں کی ساس کچھ دیر کے لیے باہر گئی تو وہ اغوا کار خاتون موقع دیکھ کر کچھ دیر کے بعد اس کے بیڈ کے پاس پاس گئی اور اس ماں سے کہنے لگی اس کی ساس بچہ باہر منگوا رہی ہے۔ میں زرا لے جائوں؟
اتنی دیر میں اعتماد بن چکا تھا اس نے کہا اگر ساس نے منگوایا ہے تو لے جائو۔
وہ بچہ اٹھا کر باہر لے گئی۔ اس ماں کی قسمت اچھی تھی کہ اسی وقت ساس واپس آئی تو پوچھا بچہ کدھرہے۔
بہونے کہا وہ تو آپ نے باہر منگوایا تھا۔
وہاں حشر برپا ہوگیا۔ وہ بھاگ کر اس بیڈ والی خاتون کی طرف گئی کہ وہ تمہاری بہن تھی۔ کدھر گئی۔
اس نے کہا وہ تو تمہاری بہن تھی۔ مجھے کیا علم۔۔
وہاں شور مچ گیا۔ ساس بھاگ کر باہر گئیں تو گارڈ کو بتایا کہ بچہ اغوا ہوگیا ہے۔
اب ہسپتال رولز کے تحت ڈسچارج سلپ دکھانی پڑتی ہے پھر گارڈ بچہ سمیت جانے دیتا ہے۔
وہ عورتیں بچہ چوری کرکے وارڈ سے نکلیں تو گارڈ نے روک کیا کہ ڈسچارج سلپ دکھائیں پھر جانے دوں گا۔
سلپ نہ تھی تو اس عورت نے کہا اچھا بنوا کر لاتی ہوں۔ اتنی دیر میں وہ ساس شور مچاتی نکلی تو بچہ اٹھائے اس خاتون کو گارڈ نے باہر نہیں جانے دیا تھا اور یوں پکڑی گئی۔
پمز کے عہدے دار بتانے لگے جب انہیں پتہ چلا تو وہ سب بھاگ کر گئے تو اس اغوا کار خاتون جس کے ساتھ اس کی اپنی بیٹی بھی تھی کے فون پر مسلسل کالز آرہے تھیں کہ بچہ اٹھا کر کہاں تک پہنچے ہیں۔ یہ پورا گینگ ہے۔
وہ صاحب کہنے لگے انہوں نے جیب سے پانچ ہزار روپے انعام اس گارڈ کو دیا جس کی حاضر دماغی نے ایک اور حادثہ سے بچا لیا تھا۔
ضروری نہیں ہوتا ہسپتال وارڈز میں سب ہمدرد لوگ واقعی آپ کے ہمدرد ہوتے ہیں۔ اتنی جلدی بھی کسی اجنبی پر اعتماد نہ کر لیا کریں۔