پرسوں رات قبلہ جنید اور میرا دل کیا چل کر آئس کریم کھاتے ہیں۔ تہذیب بیکری کے ساتھ ہی آئس کریم مل رہی تھی۔ ہم سنگل سکوپ چاہتے تھے لیکن سروس والے نوجوان نے کہا سنگل سکوپ کا تصور نہیں ہے۔ ڈبل سکوپ ہی کھانا پڑے گا۔ ہم نے بھی سوچا چلیں پیسے ڈبل کے ہی دینے تو ڈبل ہی کھاتے ہیں حالانکہ دس پندرہ منٹ اس پر ہماری سنجیدہ گفتگو ہوتی رہی کہ اس وقت آئس کریم کھانی بھی چاہئے یا نہیں۔
آخر بابر بادشاہ کا تاریخی جملہ سنا کر قبلہ کو راضی کیا کہ جو عیاشی کرنی ہے یہیں کر لو زندگی دوبارہ نہیں ملنی۔ خیر گاڑی سے نکل کر بینچز پر بیٹھ کر آئس کریم کھائی۔ اتنی دیر میں قبلہ اپنا آئس کریم کا خالی ڈبہ کچھ دور ایک ڈسٹ بن میں ڈال کر واپس آئے تو کہنے لگے لیں جی سنیں۔
وہاں بینچز پر چند لڑکے بیٹھے تھے۔ آئس کریم کھا کر وہیں خالی ڈبہ پھینک دیے۔ قبلہ نے بڑے ہونے کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور کہا کیا فرق پڑتا اگر یہ ساتھ رکھے ڈسٹ بن میں رکھ دیتے۔
ان میں سے ایک لڑکے نے کہا طنزیہ کہا چلیں اٹھا کر آپ رکھ دیں۔
قبلہ جو کبھی ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان بھی رہے اور دیگر اہم اعلی انتظامی عہدوں پر بھی کام کرچکے ہیں ان لڑکوں سے کہنے لگے وائی ناٹ۔۔ بالکل اٹھا کر آپ کے پھینکے خالی ڈبے بھی ڈال دیتا ہوں بس آپ نے زرا دیکھنا ہے اس عمل کے دوران میرا قد کاٹھ کتنا کم ہوتا ہے۔۔
ساتھ بینچ پر کچھ اور لڑکے بیٹھے تھے انہوں نے گفتگو سنی تو وہ اٹھ کر آئے انہوں نے جنید صاحب سے کہا آپ چھوڑ دیں ہم اٹھا کر اندر ڈال دیتے ہیں لیکن ان لڑکوں کو شرم نہ آئی کہ قریب رکھے ڈسٹ بن میں ڈال دیتے۔
قبلہ مجھے یہ واقعہ سنا رہے تھے کہ دور میری نظر ایک اور بینچ پر پڑی جہاں کچھ لوگ تہذیب بیکری سے کچھ کھانے کی چیزیں لا کر وہاں کھا کر پھینک گئے۔ ڈسٹ بن وہاں قریب رکھا ہے۔ ان سے اتنی زحمت نہ ہوئی کہ اس میں ڈال دیتے۔
میں نے کہا یہ تہذیب بیکری/آئس کریم پارلر والے روزانہ لاکھوں کماتے ہیں کیا وہ دو تین ملازم نہیں رکھ سکتے جو یہاں صفائی کرتے رہیں؟
میں نے کہا دراصل ان سب کو کسی قانون کا کوئی خوف نہیں ہے۔ نہ ان لڑکوں کو ہے کہ ہم نے گند پھیلایا تو جرمانہ ہوگا نہ تہذیب بیکری سے سی ڈی اے پوچھے گا اگر تمہارے گاہک یہاں بیٹھ کر کھاتے ہیں تو تم ایک دو ملازم کیوں نہیں رکھتے جو صفائی کرتے رہیں جیسے کافی بینز یا دیگر کیفے پر ان کا بندہ مسلسل دیکھتا رہتا ہے کچھ گند تو نہیں گرا ہوا۔
ویسے ہم سی ڈی اے کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں لیکن اب اس سے زیادہ کیا کرسکتا ہے کہ یہاں تہذیب کی پارکنگ میں درجن بھر ڈسٹ بن رکھے ہیں لیکن یہ پڑھی لکھی مخلوق وہاں بھی یہ گند ڈالنے کو تیار نہیں ہے۔ پہلے اگر تربیت نہیں ہے تو دوسرے انہیں کسی کا خوف نہیں ہے۔
قانون کا خوف ہی انسانوں کو تہذیب یافتہ اور مہذب بناتا ہے ورنہ دنیا بھر میں سی سی ٹی وی کیمروں یا بگ برادرز یا اکسفورڈ اسٹریٹ میں برانڈز کی دکانوں پر سنسر کا تصور نہ ہوتا۔
دنیا کے مہذب ملکوں کو مہذب دو چیزوں نے بنا رکھا ہے۔۔ ایک بگ برادر (کیمرے) کہ ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں اور دوسرے قانون کا خوف۔۔ کہ آپ بچ نہیں پائیں گے۔ یہاں کیمرے ہوں بھی سہی تو بھی سب کو یقین ہے ہم بچ جائیں گے۔ کبھی کبھار زیرو ٹالرنس سے ہی چیزیں ٹھیک ہوتی ہیں۔ سی ڈی اے چاہے تو تہذیب بیکری پارکنگ سے یہ کام شروع کیا جاسکتا ہے۔