پاکستانی جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ انتخابات تو ہوتے ہیں مگر انتخابی نتائج پر اتفاق نہیں ہوتا۔ انتخابات ہارنے والی جماعتیں دھاندلی کے الزامات عائد کرتیں اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اُٹھاتی ہیں جس سے سیاسی کشیدگی شدت جنم لیتی ہے جس سے پارلیمنٹ، جمہوری اِداروں اور انتخابی نظام پر عوامی اعتماد کومتاثر ہوتی ہے۔ پاکستانی سیاست میں انتخابی اصلاحات کا معاملا ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے مگر افسوس کہ اِس حوالے سے ماضی میں ہونے والی کوششیں مستقل اور قابلِ اعتماد نظام قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ موجودہ حکومت کا انتخابی اصلاحات کے لیے تیس رُکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ ایک اہم پیش رفت ہے جس میں قومی اسمبلی سے بیس اور سینٹ کے دس ارکان شامل ہوں گے حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی کے زریعے انتخابی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور اُن کے حل کے لیے تجاویز مرتب کرنے کا منصوبہ ہے بظاہر یہ ایک قابلِ قدر فیصلہ ہے لیکن اصل اہمیت کمیٹی کی تشکیل سے زیادہ اُس کے نتائج کی ہوگی۔
پاکستان میں انتخابی تنازعات کی تاریخ نئی نہیں کبھی انتخابی فہرستوں پر اعتراضات ہوتے ہیں کبھی حلقہ بندیاں متنازع قرار پاتی ہیں کبھی ووٹوں کی گنتی اور نتائج مرتب کرنے کے طریقہ کار پر سوالات اُٹھتے ہیں اور کبھی تو انتخابی اِداروں کی غیر جانبداری زیرِ بحث آتی ہے۔ گزشتہ انتخابات کے بعد بھی مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی عمل کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کیا لہذا ضروری ہے کہ انتخابی نظام کو اِس انداز میں بہتر بنایا جائے کہ کسی جماعت کو اپنی شکست کا ذمہ دار انتخابی طریقہ کار کو قرار دینے کا موقع نہ ملے۔ تاہم اِس مقصد کے حصول کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا کیونکہ ایک عجیب روایت بن چکی ہے کہ جو بھی جماعت اقتدار میں آتی ہے اُسے انتخابی نظام میں خامیاں نظر نہیں آتیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں سارے انتخابی نظام کو ہی غیر منصفانہ اور جانبدارانہ قرار دینے میں لگ جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انتخابی نظام حکومت یا کسی ایک سیاسی جماعت کی ضرورت نہیں آج جو جماعت اقتدار میں ہے کسی وقت اُسے بھی اپوزیشن میں آنا پڑ سکتا ہے اِس لیے انتخابی اصلاحات کو وقتی سیاسی فائدے کی بجائے قومی ضرورت سمجھنا ہوگا۔
پاکستان تحریکِ انصاف کا کردار اہمیت رکھتا ہے اگرچہ حکومت کا انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کے فیصلے میں بظاہر سنجیدگی کا عنصر نمایاں ہے مگر ضروری ہے کہ ملک کی تمام بڑی اور مقبول جماعتیں اِس میں شامل ہوں اگر کسی بڑی جماعت کو کمیٹی میں مناسب نمائندگی نہ ملے یا وہ خود ایسے عمل سے الگ رہنے کا فیصلہ کرے تو اصلاحات کی افادیت اور اُن پر عمل درآمد کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ انتخابی نظام پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے تو اپوزیشن کو حکومت برداشت کرے اور اپوزیشن بھی محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر ہر تجویز کو مسترد کرنے سے گریز کرے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کی انتخابی اصلاحات کے عمل میں فعال کردار ادا کرنے کی خواہش موجودہ حالات میں اہم ہے۔ پیپلز پارٹی ماضی میں بھی سیاسی مفاہمت اور پارلیمانی مشاورت کی بات کرتی رہی ہے لیکن ضروری ہے کہ انتخابی اصلاحات کسی ایک جماعت کی خواہش یا کسی دوسری جماعت کی سیاسی حکمتِ عملی کے تابع نہ ہو بلکہ اِس عمل میں تمام جماعتوں کی برابر یا مناسب اہمیت ہوتاکہ اُنھیں اپنی تجاویز پیش کرنے کا حقیقی معنوں میں موقع ملے۔
انتخابی اصلاحات کے ایجنڈے پر سب سے پہلے الیکشن کمیشن کی ایسی انتظامی اور عملی خود مختاری کو یقینی بنانا ضروری ہے جو حکومتی دباؤ، سیاسی اثرورسوخ اور کسی قسم کی بھی بیرونی مداخلت سے آزاد ہو کر اپنے فرائض انجام دے سکے مزید یہ کہ انتخابی عمل کے ہر مرحلے کو شفاف بنایا جائے ووٹر فہرستوں کی درستگی، حلقہ بندیوں کی جانچ پڑتال، پولنگ کے انتظامات، ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی بروقت ترسیل ایسے معاملات ہیں جن پر جامع قانون سازی کی ضرورت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی انتخابی اصلاحات کا حصہ بنایا جاسکتا ہے مگر پہلے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں، انتخابی نتائج کی ترسیل اور ووٹوں کی تصدیق کے نظام پر سیاسی جماعتوں کے درمیان سنجیدہ مشاورت ہونی چاہیے۔
ٹیکنالوجی بذاتِ خود شفافیت کی ضمانت نہیں ہوتی بلکہ اِس کا مؤثر استعمال، آزادانہ نگرانی اور قابلِ اعتماد آڈٹ اہم ہے ایسا نظام متعارف کرایا جائے جس سے کسی بھی حلقے کے انتخابی نتائج پر اعتراض کی صورت میں حقائق کی آزادنہ جانچ ممکن ہو۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کا معاملا بھی اہم ہے لاکھوں پاکستانی بیرونِ ملک رہتے ہوئے ملکی معیشت کا حصہ ہیں جنھیں انتخابی عمل میں مؤثر شرکت کا موقع دینے کی ضرورت ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ ایسا قابلِ اعتماد اور محفوظ طریقہ وضع کیا جائے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد ہو خواتین، نوجوانوں اور دوردراز علاقوں کے ووٹرز کی انتخابی عمل میں بھرپور شرکت بھی اصلاحات کا حصہ ہونی چاہیے۔
ایک اور اہم مسئلہ انتخابی اخراجات ہیں انتخابات میں دولت اور اثرورسوخ کا بڑھتا استعمال سیاسی مساوات کے اصول کو متاثر کرتا ہے۔ بے پناہ مالی وسائل رکھنے والا شخص عام امیدوار کے مقابلے میں غیر معمولی برتری حاصل کرلیتا ہے اِس لیے انتخابی اخراجات کی مؤثر نگرانی، سیاسی جماعتوں کی مالی معاونت کے شفاف زرائع اور انتخابی ضابطہ اخلاق پر یکساں عمل ناگزیر ہے۔ جمہوری نظام تبھی مضبوط ہوگا جب سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری روایات کو فروغ دیں اگر جماعتوں کے اندر قیادت کے انتخاب، فیصلوں اور مشاورت کا عمل جمہوری نہیں ہوگا تو قومی سطح پر جمہوری اقدار کی مضبوطی کی توقع نہیں ہو سکتی۔ سیاسی جماعتیں داخلی انتخابات، شفاف مالی معاملات اور کارکنوں کی سیاسی شرکت یقینی بناکر جمہوری اقدار کو مضبوط بناسکتی ہیں۔ ماضی میں مختلف ادوار میں انتخابی اصلاحات کے لیے تجاویز اور قوانین سامنے آئے مگر سیاسی اختلافات اور مفادات کے باعث بہت سی تجاویز پرعمل نہ ہوسکا۔
آج ملک کو سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور اِداروں پر عوامی اعتماد کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے سرمایہ کاری، روزگار، معاشی سرگرمیوں اور قومی ترقی کے لیے مستحکم سیاسی ماحول بنیادی اہمیت رکھتا ہے اگر انتخابات ہی متنازع ہوں اور حکومتوں کی قانونی، اخلاقی حثیت پر سوالات اُٹھیں تو ملک کے دیگر شعبوں میں بھی غیر یقینی کی صورتحال جنم لیتی ہے لہذا حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سمجھنا ہوگا کہ انتخابی اصلاحات کسی جماعت کی فتح یا دوسری کی شکست کا معاملا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے جمہوری مستقبل کا سوال ہے۔ اگر تمام جماعتیں اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر شفاف، غیرجانبدار اور قابلِ اعتماد انتخابی نظام پر اتفاق کرلیں تو سیاست میں ایک مثبت اور تاریخی پیش رفت ہوگی بصورتِ دیگر انتخابی اصلاحات کی ایک اور کمیٹی بن جائے گی، سفارشات بھی مرتب ہوں گی لیکن عوامی اعتماد بحال کرنے کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا کیونکہ انتخابی اصلاحات کا اصل امتحان قانون سازی اور سیاسی جماعتوں کا اپنے مفادات سے بالاتر ہوکر شفاف انتخابی نظام پر متفق ہونا ہے۔