Friday, 16 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Pti Ki Siasat Aur Governor Raj

Pti Ki Siasat Aur Governor Raj

اِداروں سے ٹکراؤ لاقانونیت اور شرپسندی کا باعث بنتا ہے ایسے تجربات لیبیا، عراق اور شام میں ہوچکے، لبنان بھی اسی تجربے کی دہلیز پر ہے۔ دراصل جب بھی کوئی اسلامی ملک مضبوط دفاع اور مستحکم معیشت کے قریب آنے لگتا ہے تو بیرونی کٹھ پتلیاں حرکت میں آجاتی ہیں۔ جوہری اسلامی ملک پاکستان میں بھی شرپسندی اور لاقانونیت کے خواہاں عناصر متحرک ہو چکے ہیں۔ یہ عناصر ملکی اِداروں کی ساکھ کو داغدار کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ایسے حالات میں جب پہلی بار دنیا پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنے لگی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا عالمی سطح پر چرچا ہے اور پاکستان کی ثالثی پر اقوامِ عالم کو اعتماد ہے تو ملک کے یہ حالات کچھ عناصر کو پسند نہیں شاید وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی عالمی ساکھ نہ ہو اور ملک کی دفاعی اور معاشی حالت خراب ہی رہے۔

اگر کوئی کہتا ہے کہ گورنر راج غیر آئینی ہے تو وہ غلط ہے کیونکہ آئین میں اِس حوالے سے مکمل وضاحت ہے۔ پی ٹی آئی نے خود حالات سازگار بناکر حکومت کو یہ موقعہ دیا مگر اِس زیاں کا اُسے احساس نہیں۔ حکومتی تیاریوں پر بھی پی ٹی آئی ابہام کا شکار نظر آئی شاید اُسے یقین تھا کہ ایسا کوئی فیصلہ ممکن ہی نہیں حالانکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کی تیاریوں، وزیرِاعظم کی صدرِ مملکت سے ملاقات اور محسن نقوی جیسے کارِ خاص کی بھاگ دوڑ سے پی ٹی آئی کو سمجھ جانا چاہیے تھا تاکہ عزتِ سادات محفوظ رہتی اور صوبائی حکومت ختم نہ ہوتی لیکن ایسا سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی گئی اور انتہائی اقدامات سے حکومت کو جواز فراہم کیے کہ وہ صوبائی حکومت کو ختم کردے۔

سہیل آفریدی ممکن ہے اچھا سیاسی کارکن ہو مگر یہ بات طے ہے کہ اچھا سیاستدان نہیں ایسے حالات میں جب صوبہ دہشت گردی کا شکار ہے اور قومی سلامتی کے اِداروں پر شدید دباؤ ہے بدامنی نے صوبے کا امن و سکون برباد کر دیا ہے پھر بھی دہشت گردی کی مذمت سے گریز سمجھ سے باہر ہے۔ یہ کہنا کہ ہمارے بعد آنے والی نسلیں قومی ترانے کے احترام میں کھڑی نہیں ہوں گی اور کوئی پاکستان کا پرچم اُٹھانے والا نہ ہوگا یہ بیان کسی ذمہ دار منصب پر فائز کو زیب نہیں دیتا۔ منصب کا تقاضا تو یہ تھا کہ محتاط بات کی جائے تاکہ کسی مخالف کو فائدہ اُٹھانے کا موقعہ نہ ملے مگر نتائج بارے سوچے بغیر اُنھوں نے ہر ایسی حرکت کی جس سے مخالف جماعتوں کونہ صرف اُنگلی اُٹھانے کابہانہ ملے بلکہ پی ٹی آئی کے بیانیے کو ملک دشمن ثابت کرنا آسان ہو۔ ایسی ہی حرکتیں محمود اچکزئی بھی کرتے ہیں وہ پاکستان میں بیٹھ کر افغانستان کا مقدمہ لڑتے اور پاکستان پر افغانستان کو ترجیح دیتے ہیں۔ اُن کی صاحبزادی سرکاری ملازم ہو کر بھی پاکستان کے خلاف اکثر زہریلی باتیں کرتی رہتی ہیں ایسے اطوار حکومتوں اور قومی سلامتی کے اِداروں کو ناگوار گزرتے ہیں یہ بات پی ٹی آئی سمجھ نہ سکی نو مئی کی مزموم حرکت پہلے ہی اُس کے سیاسی نامہ اعمال میں تھی۔

بانی پی ٹی آئی پر لگے الزامات درست ہیں یا نہیں اِس کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔ سڑکیں بندکرنے، دارالحکومت پر چڑھائی کرنے اور اور منصب کی ذمہ داریاں چھوڑ کر ہاہاکار مچانا کوئی حل نہیں مگر پی ٹی آئی نے عدالتوں سے رجوع پر کم اور عمران خان سے ملاقاتیں کرنے پر زیادہ توجہ دی۔ اِداروں کے شبہات دور کرنے سے اجتناب کی روش پر چلنا ایک اور الگ خامی تھی تو زرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کہ پھر کون مہربان ہوتا جب انصاف لینے اور بداعتمادیاں ختم کرانے کی کوشش ہی نہ ہو۔

خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کے اقتدار کو بارہ برس میں صوبہ میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی، تعلیم و صحت کا نظام مزید خراب ہوا ہے، معدنیات کے ٹھیکے پی ٹی آئی کے لوگوں کو دیے گئے، صحت کا محکمہ امریکہ میں بیٹھ کر ایک شخص چلاتا رہا یہ انداز قابلِ قدر یا قابلِ تحسین نہیں۔ پی ٹی آئی کی تمام تر توجہ علاقائیت کاشکار رہی۔ امین علی گنڈاپور نے پھر بھی کچھ توازن رکھا لیکن سہیل آفریدی نے وہ توازن بھی کھودیا جس کا نتیجہ یہ آیا کہ نہ صرف بانی پی ٹی آئی کو ریلیف دلانے میں ناکامی ہوئی بلکہ ملاقاتیں تک بند کرادیں۔ بانی کو رہائی دلاتے دلاتے اُن کی بہنیں بھی کو گرفتار کرادیں اور وفاقی حکومت گرانے کی بجائے اپنی ہی حکومت گرا دی۔ دانشمندوں کا قول ہے کہ طوفان کے سامنے کھڑا ہونا بے وقوفی ہے بات کرنے اور قدم اُٹھانے سے قبل نتائج پر غور کرلینا بہتر ہے لیکن پی ٹی آئی میں ہر بندہ طوفان سے ٹکرانے کے دعوے کرتا ہے اور پھر نقصان ہونے پر روتا ہے۔ بغیر سوچے سمجھے بات کرنے اور قدم اُٹھانے کے بد نتائج کو مخالفین کا کیا دھرا قرار دیتا ہے جہاں ایسی نابغہ روزگار شخصیات ہوں وہاں ایسے ہی نتائج نکلتے ہیں جن کا سامنا پی ٹی آئی کو ہے کہ لاکھوں لوگ لانگ مارچ کے لیے بھی نہیں نکلے اور گورنر راج کے خلاف بھی کہیں کوئی خاص ردِ عمل نہیں آیا۔

پی ٹی آئی کے ملک گیر جماعت ہونا ایک حقیقت ہے مگر اِس کی پالیسی بنانا سوشل میڈیا کے یوٹیوبر اور فیس بُک پر بیٹھے دانشوروں کی ذمہ داری ہے جن کی بدکلامی اور گالی گلوچ سے مخالفین تو ایک طرف اپنی جماعت کے عہدیدار بھی محفوظ نہیں اسی بنا پر سنجیدہ فکر لوگ خاموش ہوچکے۔ پی ٹی آئی کا خیال تھا کہ اگر گورنر راج لگا تو لاکھوں لوگ گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے مگر دور دور تک ایسے آثار نظر نہیں آئے ممکن ہے گورنر ہاؤس کا بھی کروڑوں نے آن لائن گھیراؤ کر رکھا ہو۔ سوشل میڈیا کے جذباتی اور جاہل لوگوں نے پی ٹی آئی کو بند گلی میں پہنچا دیا ہے جن سے جان چھڑانے میں ہی عافیت ہے۔ گورنر راج پی ٹی آئی کے کھلنڈرے پن، اشتعال انگیز رویے، غیرسنجیدگی اور غیر ذمہ داری کا نتیجہ ہے اگر یہ حماقتوں سے گریز کرتی تو حالات مختلف ہوتے۔ مزید یہ کہ سیاسی طور پر نارمل رویہ رکھتی اور بندگلی میں داخل ہونے کی بجائے سیاسی مکالمے کی طرف آتی تو گورنر راج کا سامنا کرنے کی بجائے حکومت کررہی ہوتی۔ اب بھی وقت ہے کہ کھائی کی طرف جانے والا راستہ چھوڑدے اور بات چیت سے مسائل حل کرنے پر دھیان دے تاکہ صوبے سے دہشت گردی اور بدامنی کا خاتمہ ہو تحریکِ طالبان کے خاتمے میں اِداروں کاساتھ دینا وقت کی ضرورت ہے اِس کے ادراک میں ہی صوبہ، ملک اور پی ٹی آئی کی بھلائی ہے۔