Friday, 16 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Khalid Mahmood Faisal
  4. Talaba o Talibat Ki Halakat, Iqdam e Khud Kashi Qabil Tashveesh Hai

Talaba o Talibat Ki Halakat, Iqdam e Khud Kashi Qabil Tashveesh Hai

ہفتہ رفتہ میں جنوبی پنجاب اور اسلام آباد کے تعلیمی ادارہ جات سے منسلک طلباء و طالبات کی ہلاکت، قتل، خودکشی کے سنگین واقعات پیش آئے، ان سانحات کو اہل دل نے دکھ اور کرب کے ساتھ محسوس کیا، سماج میں ایسی اموات اور اقدام خود کشی پر بہت سے سوالات پوچھے جارہے ہیں، سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات اس قدر غیر محفوظ کیوں ہیں، ماضی میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، وہ والدین جن کے جواں سال بیٹے، بیٹاں انکی آنکھوں کے سامنے بے بسی اور لاپرواہی سے موت کے منہ میں چلے گئے، بیچارے کس کرب، ذہنی اذیت سے گزر ے ہیں، ارباب اختیار، سکول انتظامیہ اور عام شہری یقیناً اس احساس مروت سے نابلد ہوں گے۔

طلباء و طالبات کی ہلاکت کی خبریں میڈیا پر چلیں، وی لاگرز نے ریٹنگ کے لئے اپنا حصہ ڈالا، سوشل میڈیا پر آوازیں بلند ہوئی، ذمہ دار کے خلاف قانون حرکت میں آیا، روایتی ہتھکنڈے، تفتیش، انکوائری کے احکامات کا سلسلہ چل نکلا، پہلے بھی اس طرح کے سنگین واقعات ہو ئے، ہائی پروفائل کیس کا ٹیگ بھی لگا، سماج نے بھر پور آواز اٹھائی ملزمان پھر بھی سزا سے بچ نکلے۔

بلوچستان کے بارکھان علاقہ سے درچہ چہارم کا سرکاری ملازم جب بیٹے کو ملتان کے معروف نجی سکول و کالج میں حصول تعلیم کے لئے بھیج رہا تھا، ہر والد کی طرح اس کے بھی خواب تھے، بہتر اور روشن مستقبل کے لئے اس نے اسکی جدائی برداشت کی، تعلیمی اخراجات کا بھاری بھر کم بوجھ بھی اٹھایا، اس کا بچہ پڑھ لکھ کر اس کا سہارا بنے، مگر اسے کیا علم تھا کہ ایک روز اسے اپنے اور والدہ کے نام لکھا نوٹ ملے گا، جو ان کے بیٹے نے خود کشی سے پہلے لکھا، یہ بھی درخواست کی کہ وہ اس لڑکے کو جس سے جھگڑا ہوا، وہ بھی بارکھان سے تھا اسکی قبر پر لاکر اس سے کہلوائیں کہ اس نے اسے معاف کر دیا۔

مرحوم کے والد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکول انتظامیہ کی ہٹ دھرمی، سخت رویہ، بیٹے کو دھمکی اسکی خود کشی کی وجہ ہے، جب مجھے بچے کے جھگڑے اور سکول سے اخراج کی دھمکی کا علم ہوا تو سکول انتظامیہ سے کہا کہ وہ بچے کو گھر بھیج دیں، کچھ دنوں بعد وہ خود آکر مسئلہ حل کروادیں گے، بقول مرحوم کے والد، نہ بچے کو گھر بھیجا نہ ہی اس سے فون پر بات کروائی، الٹا اس کو کمرے میں بند کر دیا، ان حالات سے دل برداشتہ ہو کر میرے بیٹے نے خودکشی کرلی، مقام حیرت ہے کہ کالج نما سکول جس میں سینکڑوں طلباء زیر تعلیم ہیں، انتظامیہ میں اتنی اہلیت بھی نہیں تھی کہ وہ دو طلباء کے مابین جھگڑے کو نمٹا سکیں؟ الٹا اتنا خوف زدہ کردیں کہ زیر تعلیم طالب علم جان کی بازی ہار جائے۔

تونسہ کے دانش سکول میں چھٹی کلاس کی طالبہ کاواک ٹریک پر گر جانا اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ جانا بھی اہم سوال ہے، سکول انتظامیہ اسے طبعی موت کہتی ہے، مگر سوشل میڈیا پر زیر گردش تصویر میں چہرے، گردن پر تشدد کے نشانات نے معاملات کو الجھا دیا، والدین نے بھی بیٹی کی موت پر تحفظات کا اظہار کیا، مکمل نتیجہ تو انکوائری کے بعد سامنے آئے گا، مگر نو عمر بچوں کی یوں ہلاکت سنگین واقعہ ہے۔

ایک اور واقعہ ملتان کی نجی یونیورسٹی میں ایک جھگڑا کے نتیجہ میں ایک نوجوان کی ہلاکت بتائی جاتی ہے، جہاں معمولی جھگڑے کی بنیاد پر طلباء کے دو گرپوں میں تصادم ہوا، یونیوورسٹی انتظامیہ کے بقول ان کے مابین صلح کروادی، بعد ازاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور شعبہ قانون کا طالب علم ہلاک اور دیگر طلباء زخمی ہو گئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے آوٹ سائیڈر تھے، لیکن سوشل میڈیا پر زیر گردش وڈیوز سے یہ سنگین سیکورٹی لیپس دکھائی دیتا ہے، سوال یہ بھی ہے، غیر قانونی اسلحہ نوجوانوں کے ہاتھ اتنی آسانی کیسے لگ جاتا ہے؟

جامعہ اسلام آبادکی گولڈ میڈلسٹ سابقہ طالبہ کی خود کشی کی خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، سرکاری ادارہ کے سابقہ ملازم نے بطور کنسلٹٹ اسکو بیرون ملک سکالرشپ پر داخلہ دلوانے اور اس کے بھائی کو نوکری کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپئے کا فراڈ کیا۔

متوسط خاندان کی بیٹی کے دل میں یہ خوف تھا، کہ اس فراڈ کی تاب اس کے والد نہیں لا سکیں گے، اعلی تعلیم یافتہ طالبہ نے جس سادہ انداز میں ملزم سے ڈیل کی وہ بھی قابل توجہ ہے، ذرائع کا کہنا ہے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے وہ مرحومہ کو دھوکہ دیتا رہا، خود کشی کرنے والی طالبہ کو کامل یقین اگر ہوتا کہ فراڈ کرنے والا نہ صرف اپنے قطعی انجام کو پہنچے گا اور اسکی رقم بھی وآپس ملے گی تو وہ انتہائی قدم نہ اٹھاتی۔

تعلیمی ادارہ جات میں اگرچہ اس نوع کی دھوکہ دہی کی آگاہی کم ہی دی جاتی ہے تاہم نوسرباز سادہ لوح طلباء و طالبات کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، وہ سمجھتے کہ کوئی بھی ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔

مہذب ممالک میں انسانی جان کی قدرو قیمت اور قانون کے اطلاق کی بابت اس طرح کے سانحات بہت کم وقوع پذیر ہوتے ہیں، دوحوالہ جات پیش خدمت ہیں، امسال جون میں پاکستانی نژاد فیملی آسٹریلیا سے چکوال اپنے خاندان سے ملنے آئی، رات کی تاریکی میں پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بن گئی، چھوٹی بچی وفات پا گئی، یہ آسٹریلین شہری بھی تھے، ان کے وزیر اعظم نے اس واقعہ کا سخت نوٹس لیا، پاکستان میں اس کے ہائی کمشنر نے متاثرہ فیملی سے ملاقات کی، ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔

روایت ہے عراقی یونیورسٹی کی اکیلی طالبہ سے رات کے وقت پولیس کے دو سارجنٹ نے زیادتی کی، انصاف کے لئے ہر در پر دستک دی شنوائی نہ ہوئی، وہ صدرصدام کے محل جاپہنچی، سیکورٹی نے روکنا چاہا، شورو سن کر صدر باہر آگئے ماجرا سنا صرف یہ پو چھا آپ ملزمان کو پہچان لیں گی، ڈیوٹی ریکارڈ منگوا کر بغیر پروٹوکول طالبہ کے ساتھ جیپ کر ان کے گھر روانہ ہوئے، لڑکی نے بل دی جونہی سارجنٹ باہر آیا، طالبہ سے شہادت لی، جیب سے پسٹل نکالا اور فائر کر دیا، دوسرے سارجنٹ کے گھر جا ایسا ہی کیا، کہا جاتا ہے، اس کے بعد عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کسی سرکاری اہلکار کو ہمت نہ ہوئی۔ جرائم کا روک تھام تبھی ممکن ہے جب سخت ترین سزاؤں کا نفاذ بر وقت اور بلا امتیاز ہو، تفتیش، انکوائری کی طوالت کا فائدہ تو ملزمان ہی کو پہنچتا ہے، تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کا قتل، ہلاکت اور اقدام خود کشی سنگین ترین معاملات ہیں ان کا نوٹس کب لیا جائے گا؟